نکاح سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 25 · 193 hadiths · Page 5 of 10

3280Sunan An Nasai

احرام کی حالت میں نکاح کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، وَيَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ.

عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ کسی کا کرائے، اور نہ ہی کہیں نکاح کا پیغام دے ۔

Uthman bin Affan (RA) narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Muhrim should not get married, arrange a marriage for someone else, nor propose marriage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3276
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٤٥ (صحیح )
3281Sunan An Nasai

بووقت نکاح کونسی دعا پڑھنا مستحب ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ، قَالَ: التَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حاجت و ضرورت میں تشہد پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ اور تشہد فی الحاج ۃ یہ ہے کہ ہم (پہلے) پڑھیں: أن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله (اور پھر) تین آیات پڑھے (اور ایجاب و قبول کرائے) ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah taught us the Tashahhud for Salah and the Tashahhud upon Al-Hajah. He said: The Tashahhud upon the occasion of marriage is: Alhamdu lillahi nastainahu wa nastaghfiruhu, wa naudhu billahi min shururi anfusina, man yahdih Illahu fala mudilla lahu wa man yudlil Illahu fala Hadiya lahu, wa ashhadu an la ilaha illallah, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge with Allah from the evil of our own souls. Whomsoever Allah guides will never be led astray, and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship but Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger). Then he recited three Verses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3277
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ تینوں آیات یہ ہیں : يا أيها الناس اتقوا ربکم الذي خلقکم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا کثيرا ونساء واتقوا الله الذي تسائلون به والأرحام إن الله کان عليكم رقيبا لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو کہ جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کر کے ان دونوں سے مرد اور عورت کثرت سے پھیلا دیے، لوگو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ ( النساء : ١ ) يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو۔ ( آل عمران : ١٠٢ ) يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لکم أعمالکم ويغفر لکم ذنوبکم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔ ( الاحزاب : ٧٠ ، ٧١ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٣ (٢١١٨)، سنن الترمذی/النکاح ١٧ (١١٠٥) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٩ (١٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ٩٥٠٦)، مسند احمد (١/٣٩٣، ٤٣٢) (صحیح )
3282Sunan An Nasai

بووقت نکاح کونسی دعا پڑھنا مستحب ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے کسی چیز کے متعلق کچھ بات چیت کی تو نبی اکرم ﷺ نے (یہ خطبہ) ارشاد فرمایا: إن الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد ١ ؎ (اور بات آگے بڑھائی۔

It was narrated from Ibn Abbas that a man spoke to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about something and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Innal-hamda lillahi nahmaduhu wa nastainahu, man yahdih Illahu fala mudilla lahu wa man yudlil Illahu fala Hadiya lahu, wa ashhadu an la ilaha illallahu (wahdahu lasharika lahu) wa ashhadu anna Muhammadan abdahu wa rasuluhu. Amma bad (Praise be to Allah, we seek His help. Whomsoever Allah guides will never be led astray, and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship but Allah (alone with no partners) and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger. To proceed).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3278
Notes · وضاحت
١ ؎: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اسی کے ہم ثناء خواں اور اسی کی مدد کے طلبگار ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت بخشے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تنہا حقیقی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گوائی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعہ ١٣ (٨٦٨) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٩ (١٨٩٣)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٦)، مسند احمد (١/٣٠٢، ٣٥٠) (صحیح )
3283Sunan An Nasai

خطبہ میں کیا پڑھنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: تَشَهَّدَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ.

عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے (خطبہ) تشہد پڑھا، ان میں سے ایک نے کہا: من يطع اللہ ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فقد غوى تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم بہت برے خطیب ہو ١ ؎۔

It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "Two men recited a Tashahhud before the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and one of them said: Whoever obeys Allah and His Messenger has been guided aright and whoever disobeys them has gone astray. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: What a bad speaker you are!

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3279
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ تم نے من يعصهما کہہ کر اللہ و رسول کو ایک ہی درجہ میں کردیا۔ بہتر تھا کہ جس طرح من يطع الله و رسوله کہا ایسے ہی من يعص الله و رسوله کہتے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت یاب ہوا اور جس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔ بعض احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود ومن یعصہما کہا ہے تو اس سلسلہ میں صحیح اور درست بات یہ ہے کہ ایسا کرنا آپ کے علاوہ کے لیے منع ہے، کیونکہ آپ ﷺ کا اللہ و رسول کو ایک ہی ضمیر میں جمع کرنا اس سے دونوں کو برابری کا درجہ دینے کا وہم نہیں ہوسکتا اس لیے کہ آپ جس منصب و مقام پر فائز ہیں وہاں اس طرح کے وہم کی گنجائش ہی نہیں۔ جب کہ دوسرے اس وہم سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعہ ١٣ (٨٧٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٩ (١٠٩٩)، والأدب ٨٥ (٤٩٨١)، مسند احمد (٤/٢٥٦، ٣٧٩) (صحیح )
3284Sunan An Nasai

وہ کلام جس سے نکاح درست ہوجاتا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: إِنِّي لَفِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَأْ فِيهَا رَأْيَكَ فَسَكَتَ فَلَمْ يُجِبْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ، ثُمَّ قَامَتْ، فَقَالتَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَأْ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ شَيْءٌ ؟قَالَ: لَا، قَالَ: اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍفَذَهَبَ فَطَلَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌقَالَ: نَعَمْ، مَعِي سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ: قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.

سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں لوگوں کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! اس (بندی) نے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کردیا، آپ جیسا چاہیں کریں۔ آپ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ عورت پھر کھڑی ہوئی اور کہا: اللہ کے رسول! اس نے اپنے آپ کو آپ کی سپردگی میں دے دیا ہے۔ تو اس کے بارے میں آپ کی جو رائے ہو ویسا کریں۔ (اتنے میں) ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری اس (عورت) سے شادی کرا دیجئیے، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا نہیں ، آپ نے فرمایا: جا کچھ ڈھونڈ کر لا اگر لوہے کی انگوٹھی ہی ملے تو وہی لے آؤ، وہ گیا، اس نے تلاش کیا پھر آ کر کہا: مجھے تو کچھ نہیں ملا، لوہے کی انگوٹھی بھی نہ ملی۔ آپ نے فرمایا: تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے اس قرآن کے عوض جو تمہیں یاد ہے تمہارا نکاح اس عورت سے کردیا (تم اسے بھی انہیں یاد کرا دو ) ۔

Sahl bin Sad said: "I was among the people with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when a woman stood up and said: O Messenger of Allah, she has offered herself in marriage to you, so see what you think of her. He remained silent and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not give any answer. Then she stood up (again) and said: O Messenger of Allah, she has offered herself in marriage to you, so see what you think of her. A man stood up and said: Marry her to me, O Messenger of Allah! He said: Do you have anything? He said: No. He said: Go and look, even if it is just an iron ring. So he went and looked then he came and said: I could not find anything, not even an iron ring. He said: Have you memorized anything of the Quran? He said: Yes, Surah such-and-such and Surah such-and-such. He said: I will marry you to her on the basis of what you have memorized of the Quran.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3280
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٠٢ (صحیح )
3285Sunan An Nasai

نکاح درست ہونے کے لئے شرط

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ.

عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نکاح کی) شرطوں میں سب سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو (یعنی مہر کی ادائیگی) ۔

It was narrated from Uqbah bin Amir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The conditions that are most deserving of fulfillment, are those by means of which the private parts become allowed to you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3281
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشروط ٦ (٢٧٢١)، النکاح ٥٣ (٥١٥١)، صحیح مسلم/النکاح ٨ (١٤١٨)، سنن ابی داود/النکاح ٤٠ (٢١٣٩)، سنن الترمذی/النکاح ٢٢ (١١٢٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤١ (١٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩٥٣)، مسند احمد (٤/١١٤، ١٥٠، ١٥١، ١٥٢)، سنن الدارمی/النکاح ٢١ (٢٢٤٩) (صحیح )
3286Sunan An Nasai

نکاح درست ہونے کے لئے شرط

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًا، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ.

عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (نکاح کی) شرطوں میں سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو (یعنی مہر کی ادائیگی) ۔

It was narrated from Utbah bin Amir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The conditions that are most deserving of fulfillment are those by means of which the private parts become permitted to you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3282
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٨٣ (صحیح )
3287Sunan An Nasai

اس نکاح سے متعلق کہ جس سے تین طلاق دی ہوئی عورت طلاق دینے والے شخص کے واسطے حلال ہوجاتی ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلَاقِي، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ رفاعہ نے مجھے طلاق بتہ (یعنی بالکل قطع تعلق کردینے والی آخری طلاق) دے دی ہے، اور میں نے ان کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی جن کے پاس بس کپڑے کی جھالر جیسا ہے، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: شاید تم رفاعہ کے پاس دوبارہ واپس جانا چاہتی ہو (تو سن لو) یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک وہ تمہارا شہد اور تم اس کا شہد نہ چکھ لو ۔

It was narrated that Aishah said: "The wife of Rifaah came to the Messenger of Allah and said: Rifaah divorced me and made it irrevocable. Then I married Abdur-Rahman bin Az-Zubair, and what he has is like the fringe of a garment. The Messenger of Allah smiled and said: Do you want to go back to Rifaah? No, not unitl he (Abdur-Rahman) tastes your sweetness and you taste his sweetness.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3283
Notes · وضاحت
١ ؎: مقصد یہ ہے کہ جب عورت اور مرد ہمبستری کرلیں اور پھر شوہر اس عورت کو طلاق دیدے تو یہ مطلقہ عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس جس نے اس کو تین طلاق دے کر اپنے سے جدا کردیا تھا، نئے نکاح سے واپس ہوسکتی ہے، یہاں پر ہمبستری کی لذت کو ایک دوسرے کے شہد چکھنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٣ (٢٦٣٩)، الطلاق ٤ (٥٢٦٠)، ٧ (٥٢٦٥)، ٣٧ (٥٣١٧)، اللباس ٦ (٥٧٩٢)، الأدب ٦٨ (٦٠٨٤)، صحیح مسلم/النکاح ١٧ (١٤٣٣)، سنن الترمذی/النکاح ٢٧ (١١١٨)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٢ (١٩٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٦)، مسند احمد (٦/٣٤، ٣٧، ١٩٢، ٢٢٦، ٢٢٩)، سنن الدارمی/الطلاق ٤ (٢٣١٣)، ویأتی عند المؤلف ٣٤٤٠ (صحیح )
3288Sunan An Nasai

جس کسی نے دوسرے کے پاس پرورش حاصل کی تو وہ اس پر حرام ہے

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّزَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، وَأُمُّهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَأَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يُشَارِكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُخْتَكِ لَا تَحِلُّ لِيفَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَفَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّهَا رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ.

ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ میری بہن بنت ابی سفیان سے شادی کرلیجئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اسے پسند کرلو گی؟ میں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ بھلائی اور اچھائی میں میری جو ساجھی دار بنے وہ میری بہن ہو۔ آپ نے فرمایا: تمہاری بہن (تمہاری موجودگی میں) میرے لیے حلال نہیں ہے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول، قسم اللہ کی! ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم ام سلمہ کی بیٹی کی بات کر رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی اور میری گود میں نہ پلی ہوتی تو بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے (اور رضاعت سے ہر وہ چیز حرام ہوجاتی ہے جو قرابت داری (رحم) سے حرام ہوتی ہے) مجھے اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ تو تم (آئندہ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو (رشتہ کے لیے) مجھ پر پیش نہ کرنا ۔

Urwah narrated that Zainab bint Abi Salamah -whose mother was Umm Salamah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)- told him that Umm Habibah bint Abi Sufyan told her that she said: "O Messenger of Allah, marry my sister, the daughter of Abu Sufyan." She said: "The Messenger of Allah said: Would you like that? I said: Yes; I do not have you all to myself and I would like to share this goodness with my sister. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Your sister is not permissible for me (to marry). I said: By Allah, O Messenger of Allah, we have been saying that you want to marry Durrah bint Abi Salamah. He said: The daughter of Umm Salamah? I said: Yes. He said: By Allah, even if she were not my stepdaughter who is in my care, she would not be permissible for me (to marry), because she is the daughter of my brother through breast-feeding. Thuwaibah breastfed Abu Salamah and I. So do not offer your daughters or sisters to me in marriage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3284
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٠ (٥١٠١)، ٢٥ (٥١٠٦)، ٢٦ (٥١٠٧)، ٣٣ (٥١٢٣)، النفقات ١٦ (٥٣٧٢)، صحیح مسلم/الرضاع ٤ (١٤٤٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٤ (١٩٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح ٧ (٢٠٥٦)، مسند احمد (٦/٢٩١، ٣٠٩، ٤٢٨) (صحیح )
3289Sunan An Nasai

ماں اور بیٹی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا حرام ہے

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْزَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحْ بِنْتَ أَبِي، تَعْنِي أُخْتَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَتُحِبِّينَ ذَلِكِ ؟قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَتْنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ تَنْكِحُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَوَاللَّهِ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ.

زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ میرے باپ کی بیٹی یعنی میری بہن سے نکاح کرلیجئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم (واقعی) اسے پسند کرتی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی تنہا بیوی تو ہوں نہیں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ خیر میں جو عورت میری شریک بنے وہ میری بہن ہو، (اس بات چیت کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ حلال نہیں ہے ، ام حبیبہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول، قسم اللہ کی! ہم نے تو سنا ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے والے ہیں؟ آپ نے (استفہامیہ انداز میں) کہا: ام سلمہ کی بیٹی؟ ام حبیبہ ؓ نے کہا: جی ہاں (ام سلمہ کی بیٹی) ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی اگر وہ میری آغوش کی پروردہ (ربیبہ) نہ بھی ہوتی، تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو تو ثویبہ (نامی عورت) نے دودھ پلایا ہے۔ تو ( سنو! آئندہ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو نکاح کے لیے میرے اوپر پیش نہ کرنا ۔

It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Habibah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "O Messenger of Allah, marry the daughter of my father" - meaning her sister. The Messenger of Allah said: "Would you like that?" She said: "Yes; I do not have you all to myself, and I would like to share this goodness with my sister." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "That is not permissible for me." Umm Habibah said: "O Messenger of Allah, by Allah, we have been saying that you want to marry Durrah bint Abi Salamah." He said: "The daughter of Umm Salamah?" I said: "Yes." He said: "By Allah, even if she were not my stepdaughter who is in my care, she would not be permissible for me (to marry), because she is the daughter of my brother through breast-feeding. Thuwaibah breastfed Abu Salamah and I. So do not offer your daughters or sisters to me in marriage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3285
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٨٦ (صحیح )
3290Sunan An Nasai

ماں اور بیٹی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا حرام ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ نَاكِحٌ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَوْ أَنِّي لَمْ أَنْكِحْ أُمَّ سَلَمَةَ، مَا حَلَّتْ لِي إِنَّ أَبَاهَا أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ.

زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ہماری آپس کی بات چیت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے والے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا ام سلمہ کے (میرے نکاح میں) ہوتے ہوئے؟ ١ ؎ اگر میں نے ام سلمہ سے نکاح نہ بھی کیا ہوتا تو بھی وہ (درہ) میرے لیے حلال نہ ہوتی، کیونکہ (وہ میری بھتیجی ہے اور) اس کا باپ میرا رضاعی بھائی ہے۔

It was narrated from Irak bin Malik that Zainab bint Abi Salamah told him, that Umm Habibah said to the Messenger of Allah: "We have been saying that you want to marry Durrah bint Abi Salamah." The Messenger of Allah said: "As a co-wife to Umm Salamah? Even if I were not married to Umm Salamah, she would not be permissible to me, for her father is my brother through breast-feeding.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3286
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ایک لڑکی کی ماں اگر کسی کی نکاح میں ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کی بیٹی بھی اس شخص کے نکاح میں نہیں آسکتی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٨٦ (صحیح )
3291Sunan An Nasai

دو بہنوں کو ایک (شخص کے) نکاح میں جمع کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ؟ قَالَ: فَأَصْنَعُ مَاذَا ؟قَالَتْ: تَزَوَّجْهَا، قَالَ: فَإِنَّ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكِ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يَشْرَكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ: إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، قَالَتْ: فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ.

ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن میں کچھ رغبت (دلچسپی) ہے؟ آپ نے فرمایا: (اگر دلچسپی ہو) تو میں کیا کروں؟ انہوں نے کہا: آپ اس سے شادی کرلیں، آپ نے کہا: یہ اس لیے کہہ رہی ہو کہ تمہیں یہ زیادہ پسند ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی تنہا بیوی نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ خیر میں جو میری ساجھی دار بنے وہ میری اپنی سگی بہن ہو، آپ نے فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے ، انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ سے شادی کرنے والے ہیں؟ آپ نے فرمایا: (تم) ام سلمہ کی بیٹی سے (کہہ رہی ہو) ؟ انہوں نے کہا: ہاں (میں انہی کا نام لے رہی ہوں) ، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! اگر وہ میری ربیبہ میری گود کی پروردہ نہ ہوتی تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی (وہ تو دو حیثیتوں سے میرے لیے حرام ہے ایک تو اس کی حیثیت میری بیٹی کی ہے اور دوسرے) وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے (یعنی میری بھتیجی ہے) ، تو (آئندہ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے اوپر (شادی کے لیے) پیش نہ کرنا ۔

It was narrated from Umm Habibah that she said: "O Messenger of Allah, what do you think of my sister?" He said: "What for?" She said: "For marriage." He said: "Would you like that?" She said: "Yes; I do not have you all to myself, and I would like to share this goodness with my sister." He said: "She is not permissible for me (to marry)." She said: "But I heard that you want to marry Durrah, the daughter of Umm Salamah." He said: "The daughter of Umm Salamah?" She said: "Yes." He said: "By Allah, even if she were not my stepdaughter she would not be permissible for me (to marry), because she is the daughter of my brother through breast-feeding. Do not offer your daughters and sisters to me in marriage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3287
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٨٦ (صحیح )
3292Sunan An Nasai

پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نکاح میں) عورت اور اس کی پھوپھی کو نہ جمع کیا جائے گا، اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے گا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: (A man should not be married to) a woman and her paternal aunt nor to a woman and her maternal aunt at the same time.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3288
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی شخص کی زوجیت میں بھتیجی اور پھوپھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں، اور نہ ہی بھانجی اور اس کی خالہ ایک ساتھ رہ سکتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٩)، صحیح مسلم/النکاح ٤ (١٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٢) موطا امام مالک/النکاح ٨ (٢٠)، مسند احمد (٢/٤٦٥، ٥١٦، ٥٢٩، ٥٣٢)، سنن الدارمی/النکاح ٨ (٢٢٢٤) (صحیح )
3293Sunan An Nasai

پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الوَهَّابِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي قُبَيْصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ (کسی کی زوجیت میں) عورت اور اس کی پھوپھی کو، عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے ١ ؎۔

Qabisah bin Dhuaib said that he heard Abu Hurairah say: "The Messenger of Allah forbade (being married to) a woman and her paternal aunt or to a woman and her maternal aunt at the same time.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3289
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر ایک عورت سے شادی کرچکا ہے تو دوسری شادی وہ اس کی خالہ یا اس کی پھوپھی سے نہیں کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١١٠، ٥١١١)، صحیح مسلم/النکاح ٤ (١٤٠٨)، سنن ابی داود/النکاح ١٣ (٢٠٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٨)، مسند احمد (٢/٤٠١، ٤٥٢، ٥١٨) (صحیح )
3294Sunan An Nasai

پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُنَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ خَالَتِهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ عورت کو اس کی پھوپھی، یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah forbade being married to a woman and her paternal aunt or maternal aunt at the same time.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3290
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی عورت کی پھوپھی یا اس کی خالہ نکاح میں ہو تو اس عورت سے شادی نہ کی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٤ (١٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٤١٥٦) (صحیح )
3295Sunan An Nasai

پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ أَرْبَعِ: نِسْوَةٍ يُجْمَعُ بَيْنَهُنَّ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، عورت اور اس کی پھوپھی کو، عورت اور اس کی خالہ کو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah forbade being married to four kinds of women at the same time: a woman and her paternal aunt or a woman and her maternal aunt.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3291
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بھتیجی اور اس کی پھوپھی کو، بھانجی اور اس کی خالہ کو نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3296Sunan An Nasai

پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْبُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسی عورت سے شادی نہ کی جائے جس کی پھوپھی پہلے سے اس کی نکاح میں موجود ہو ١ ؎ اور نہ ہی ایسی عورت سے شادی کی جائے جس کی خالہ پہلے سے اس کے نکاح میں ہو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3292
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی منکوحہ کی بھتیجی اور بھانجی سے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٤١٠٣) (صحیح )
3297Sunan An Nasai

پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی عورت سے (نکاح میں) اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی کرنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3293
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٤ (١٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٠)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٣٩٤) (صحیح )
3298Sunan An Nasai

پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں شادی نہ کی جائے، اور نہ ہی اس کی خالہ کی موجودگی میں اس سے شادی کی جائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3294
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٤٣٤) (صحیح )
3299Sunan An Nasai

بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہ کی جائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3295
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٤٥٥٢)، مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٧٤) (صحیح )