پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نکاح میں) عورت اور اس کی پھوپھی کو نہ جمع کیا جائے گا، اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے گا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: (A man should not be married to) a woman and her paternal aunt nor to a woman and her maternal aunt at the same time.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3288
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی شخص کی زوجیت میں بھتیجی اور پھوپھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں، اور نہ ہی بھانجی اور اس کی خالہ ایک ساتھ رہ سکتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٩)، صحیح مسلم/النکاح ٤ (١٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٢) موطا امام مالک/النکاح ٨ (٢٠)، مسند احمد (٢/٤٦٥، ٥١٦، ٥٢٩، ٥٣٢)، سنن الدارمی/النکاح ٨ (٢٢٢٤) (صحیح )