نکاح سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 25 · 193 hadiths · Page 4 of 10

3260Sunan An Nasai

لڑکی کا چھوٹی عمر میں نکاح سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَدَخَلَ عَلَيَّ لِتِسْعِ سِنِينَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں سات سال کی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی، اور جب میں نو برس کی ہوئی تو مجھ سے خلوت فرمائی ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah married me when I was seven years old, and he consummated the marriage with me when I was nine.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3256
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شادی قبل بلوغت اور صحبت بعد بلوغت ہوئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ باپ اپنی جھوٹی بچی کی شادی کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٦٧٨١) (صحیح )
3261Sunan An Nasai

لڑکی کا چھوٹی عمر میں نکاح سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتِسْعِ سِنِينَ، وَصَحِبْتُهُ تِسْعًا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی، اور نو ہی برس میں آپ کی صحبت میں رہی (پھر آپ رحلت فرما گئے) ۔

It was narrated that Abu Ubaidah said: "Aishah said: The Messenger of Allah married me when I was nine and I lived with him for nine years.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3257
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٧٩٦) (صحیح) (کثرت طرق کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے )
3262Sunan An Nasai

لڑکی کا چھوٹی عمر میں نکاح سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ، تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی، اور جب آپ نے انہیں چھوڑ کر انتقال فرمایا تو اس وقت وہ اٹھارہ برس کی ہوچکی تھیں۔

It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah married her when she was nine and he died when she was eighteen years old.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3258
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٠ (١٤٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٥٦)، مسند احمد (٦/٤٢) (صحیح )
3263Sunan An Nasai

بالغ لڑکی کے نکاح سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا، قَالَ: يَعْنِي: تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ عُمَرُ: فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ، قَالَ: سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ لَقِيَنِي، فَقَالَ: قَدْ بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ زَوَّجْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ، فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا، قَالَ عُمَرُ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا فِيمَا عَرَضْتَ عَلَيَّ، إِلَّا أَنِّي قَدْ كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا، وَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبِلْتُهَا.

عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابی رسول خنیس بن حذافہ سہمی ؓ کا مدینہ میں انتقال ہوگیا، ان کے انتقال سے حفصہ بنت عمر ؓ بیوہ ہوگئیں، عمر ؓ کہتے ہیں: میں عثمان بن عفان ؓ کے پاس آیا اور حفصہ ؓ کا معاملہ ان کے سامنے پیش کیا، اور کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کردیتا ہوں، انہوں نے کہا: میں اپنے بارے میں غور کر کے بتاؤں گا، میں کئی دن ٹھہرا (انتظار کرتا) رہا، پھر وہ مجھ سے ملے اور کہا: میرے غور و فکر میں یہی آیا ہے کہ میں ان دنوں شادی نہ کروں۔ عمر ؓ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر ؓ سے ملا اور کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ سے آپ کی شادی کر دوں، (یہ سن کر) ابوبکر ؓ خاموش رہے، اور مجھے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ مجھے ان پر عثمان ؓ عنہ کے مقابل میں زیادہ ہی غصہ آیا، پھر چند ہی راتیں گزری تھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے ان کا نکاح آپ ﷺ کے ساتھ کردیا۔ پھر مجھے ابوبکر ؓ ملے اور کہا: غالباً آپ کو اس وقت بڑا غصہ آیا ہوگا جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کی پیشکش کی تھی اور (میری جانب سے) آپ کو کوئی جواب نہ ملا، عمر ؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں، ابوبکر ؓ نے بتلایا کہ آپ کی پیش کش کا جواب نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ مجھے معلوم تھا کہ نبی اکرم ﷺ حفصہ کا ذکر فرما چکے تھے اور میں آپ کا راز فاش کرنے والا نہیں تھا۔ اگر رسول اللہ ﷺ ان سے شادی نہ کرتے تو میں انہیں قبول کرلیتا۔

Umar bin Al-Khattab (RA) narrated: "Hafsah bint Umar became single when (her husband) Khunais bin Hudhafah As-Sahmi (died). He was one of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and he died in Al-Madinah." Umar said: "I went to Uthman bin Affan (RA) and offered Hafsah in marriage to him. I said: If you wish, I will marry you to Hafsah bint Umar. He said: I will think about it. A few days passed, then I met him and he said: It seems that I do not want to get married at the moment." Umar said: "Then I met Abu Bakr As-Siddiq (RA), and said: If you wish, I will marry Hafsah bint Umar to you. Abu Bakr remained silent, and did not give me any answer, and I felt more upset with him than I had with Uthman. Several days passed, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) proposed marriage to her and I married her to him. Abu Bakr met me and said: Perhaps you felt upset with me when you offered Hafsah in marriage to me, and I did not give you any answer? I said: Yes. He said: Nothing prevented me from giving you an answer when you made the offer to me, except the fact that I had heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) speak of her, and I did not want to disclose the secret of the Messenger of Allah. If he had left her, then I would have married her.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3259
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٥٠ (صحیح )
3264Sunan An Nasai

کنواری سے اس کے نکاح کی اجازت لینا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیوہ عورت اپنے ولی (سرپرست) کے بالمقابل اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ١ ؎ اور کنواری (لڑکی) سے اس کی شادی کی اجازت لی جائے گی۔ اور اس کی اجازت (اس سے پوچھے جانے پر) اس کا خاموش رہنا ہے ٢ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah said: "A previously married woman has more right to decide about herself (with regard to marriage) than her guardian, and a virgin should be asked for permission with regard to marriage, and her permission is her silence.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3260
Notes · وضاحت
١ ؎: أَحَقُّ کا صیغہ مشارکت کا متقاضی ہے، گویا ایم ( بیوہ ) اپنے نکاح کے سلسلہ میں جس طرح حقدار ہے اسی طرح اس کا ولی بھی حقدار ہے، یہ اور بات ہے کہ ولی کی بنسبت اسے زیادہ حق حاصل ہے کیونکہ ولی کی وجہ سے اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا جب کہ اس کی وجہ سے ولی پر جبر کیا جاسکتا ہے چناچہ ولی اگر شادی سے ناخوش ہے اور اس کا منکر ہے تو بواسطہ قاضی اس کا نکاح ہوگا، اس توضیح سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ یہ حدیث لا نکاح إلا بولي کے منافی نہیں ہے۔ ٢ ؎: لیکن اگر منظور نہ ہو تو کھل کر بتادینا چاہیئے کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے تاکہ ماں باپ اس کے لیے دوسرا رشتہ منتخب کریں یا اسے مطمئن کریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٩ (٤١٢١)، سنن ابی داود/النکاح ٢٦ (٢٠٩٨، ٢٠٩٩، ٢١١٠)، سنن الترمذی/النکاح ١٨ (١١٠٨)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١١ (١٨٧٠)، (تحفة الأشراف: ٦٥١٧)، موطا امام مالک/النکاح ٢ (٤)، مسند احمد (١/٢٤١، ٢٦١، ٢٧٤، ٣٣٤، ٣٤٥، ٣٥٥، ٣٦٢)، سنن الدارمی/النکاح ١٣، (٢٢٣٤، ٢٢٣٥، ٢٢٣٦) وانظرالأرقام التالیة (صحیح )
3265Sunan An Nasai

کنواری سے اس کے نکاح کی اجازت لینا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدَ مَوْتِ نَافِعٍ بِسَنَةٍ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ حَلْقَةٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی (سرپرست) کے بالمقابل اپنے (رشتہ کے) بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے۔ اور یتیمہ یعنی کنواری لڑکی سے (اس کی شادی کے لیے) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری (پوچھے جانے پر) اس کی خاموشی ہے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "A previously married woman has more right to decide about herself (with regard to marriage) than her guardian, and an orphan girl should be consulted, and her permission is her silence.

صحيح م وهو أصح من اللفظ الأول تستأذنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3261
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٦٢ (صحیح )
3266Sunan An Nasai

کنواری سے اس کے نکاح کی اجازت لینا

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیوہ عورت اپنے نفس کی خود مالک ہے۔ (شادی کرے گی) اور یتیمہ یعنی کنواری لڑکی سے (اس کی شادی کے لیے) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری (پوچھے جانے پر) اس کی خاموشی ہے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah said: "A previously married woman has more right (to decide) about herself (with regard to marriage) than her guardian, and an orphan girl should be consulted with regard to marriage, and her permission is her silence.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3262
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٦٢ (صحیح )
3267Sunan An Nasai

کنواری سے اس کے نکاح کی اجازت لینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیوہ (غیر کنواری) عورت پر ولی کا کچھ اختیار نہیں ہے، اور یتیمہ کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ (و اجازت) لی جائے گی، اور (جواباً ) اس کی خاموشی اس کی اجازت مانی جائے گی ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The guardian has no right (to force) the previously married woman (into a marriage). And an orphan girl should be consulted, and her silence is her approval.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3263
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٦٢ (صحیح )
3268Sunan An Nasai

والد کا لڑکی سے اس کے نکاح سے متعلق رائے لینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیوہ (غیر کنواری) عورت اپنے آپ کے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے (کہ شادی کرے تو کس سے کرے یا نہ کرے) اور کنواری لڑکی کی شادی باپ اس کی اجازت لے کر کرے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "A previously married woman has more right (to decide) about herself (with regard to marriage), and a virgin should be consulted by her father, and her permission is her silence.

صحيح م لکن قوله أبوها غير محفوظصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3264
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٦٢ (صحیح) (لکن قولہ ” أبوہا “ غیر محفوظ وانظر ما قبلہ، والأجل الکلمة غیر المحفوظہ جعلہ فی الضعیف (٢٠٧) أیضا ٣٠٦٢ )
3269Sunan An Nasai

غیر کنواری عورت سے اس کے نکاح سے متعلق اجازت حاصل کرنا

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ: إِذْنُهَا أَنْ تَسْكُتَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیوہ عورت کی شادی اس کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے اور نہ ہی کنواری کی شادی اس کی مرضی جانے بغیر کی جائے ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے جانی جائے؟ ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ چپ رہے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "A previously married woman should not be married until her permission has been sought, and a virgin should not be married until her consent is sought." They said: "O Messenger of Allah, how does she give her permission?" He said: "Her permission is if she keeps silent.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3265
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ تو ایسے مواقع پر بہت شرماتی ہے بول نہیں پاتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی وہ چپ رہتی ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس رشتہ پر راضی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٤٣٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١١ (١٨٧١)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٥٠، ٢٧٩، ٤٢٥، ٤٣٤)، سنن الدارمی/النکاح ١٣ (٢٢٣٢) (صحیح )
3270Sunan An Nasai

غیر کنواری عورت سے اس کے نکاح سے متعلق اجازت حاصل کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ، عَنْذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ، قِيلَ: فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي وَتَسْكُتُ، قَالَ: هُوَ إِذْنُهَا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورتوں سے ان کی شادی کے بارے میں مشورہ کیا کرو ، کہا گیا: کنواری لڑکی تو شرم کرتی ہے، اور چپ رہتی ہے (بول نہیں پاتی) ؟ آپ نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے ۔

It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Seek the permission of women with regard to marriage." It was said: "What if a virgin is too shy and remains silent?" He said: "That is her permission.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3266
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤١ (٥١٣٧)، والإکراہ ٣ (٦٩٤٦)، والحیل ١١ (٦٩٧١)، صحیح مسلم/النکاح ٩ (١٤٢٠)، مسند احمد (٦/٤٥، ١٦٥، ٢٠٣) (صحیح )
3271Sunan An Nasai

غیر کنواری عورت سے اس کے نکاح سے متعلق اجازت حاصل کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیوہ کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لے لیا جائے اور کنواری لڑکی کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے جانی جائے؟ آپ نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا (ہی اس کی اجازت ہے) ۔

Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "A previously married woman should not be married until her consent has been sought, and a virgin should not be married until her permission has been sought." They said: "O Messenger of Allah, what is her permission?" He said: "If she remains silent.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3267
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤١ (٥١٣٦)، الإکراہ ٣ (٦٩٤٦)، الحیل ١١ (٦٩٦٨)، صحیح مسلم/النکاح ٩ (١٤١٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٢٥)، مسند احمد (٢/ ٤٣٤)، سنن الدارمی/النکاح ١٣ (٢٢٣٢) (صحیح )
3272Sunan An Nasai(3270)

اگر والد اپنی ثیبہ لڑکی کا اس کی اجازت کے بغیر نکاح کر دے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعِ ابني يزيد ابن جارية الأنصاري، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَرَدَّ نِكَاحَهُ.

خنساء بنت خذام رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کردیا اور یہ بیوہ تھیں، یہ شادی انہیں پسند نہ آئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، تو آپ نے ان کا نکاح رد کردیا۔

It was narrated from Khansa bint Khidham that her father married her off when she had been previously married, and she was unwilling. She went to the Messenger of Allah and he annulled the marriage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3268
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٢ (٥١٣٨)، الإکراہ (٦٩٤٠)، الحیل ١١ (٦٩٦٩)، سنن ابی داود/النکاح ٢٦ (٢١٠١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٢ (١٨٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٤)، موطا امام مالک/النکاح ١١ (٥١٣٩)، مسند احمد (٦/٣٢٨)، سنن الدارمی/النکاح ١٤ (٢٢٣٨) (صحیح )
3273Sunan An Nasai

اگر والد اپنی کنواری لڑکی کا نکاح اس کے منظوری کے بغیر کر دے

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ فَتَاةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِي خَسِيسَتَهُ وَأَنَا كَارِهَةٌ، قَالَتْ: اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهَا، فَدَعَاهُ، فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ أَلِلنِّسَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ ؟.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان لڑکی ان کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میرے باپ نے میری شادی اپنے بھتیجے سے اس کی خست اور کمینگی پر پردہ ڈالنے کے لیے کردی ہے، حالانکہ میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں، انہوں نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ، نبی اکرم ﷺ کو آ لینے دو (پھر اپنا قضیہ آپ کے سامنے پیش کرو) ، چناچہ رسول اللہ ﷺ جب تشریف لے آئے تو اس نے آپ کو اپنے معاملے سے آگاہ کیا۔ آپ ﷺ نے اس کے باپ کو بلا بھیجا (اور جب وہ آگیا) تو آپ ﷺ نے فیصلہ اس (لڑکی) کے اختیار میں دے دیا اس (لڑکی) نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد نے جو کچھ کردیا ہے، میں نے اسے قبول کرلیا (ان کے کئے ہوئے نکاح کو رد نہیں کرتی) لیکن میں نے (اس معاملہ کو آپ کے سامنے پیش کر کے) یہ جاننا چاہا ہے کہ کیا عورتوں کو بھی کچھ حق و اختیار حاصل ہے (سو میں نے جان لیا) ۔

It was narrated from Aishah: "A girl came to her and said: My father married me to his brothers son so that he might raise his own status thereby, and I was unwilling. She said: Sit here until the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) comes. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came, and I told him (what she had said). He sent word to her father, calling him, and he left the matter up to her. She said: O Messenger of Allah, I accept what my father did, but I wanted to know whether women have any say in the matter.

ضعيف شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3269
Takhrij · تخریج
تفرد بہ السنائي (تحفة الأشراف: ١٦١٨٦)، وأخرجہ سنن ابن ماجہ/النکاح ١٢ (١٨٧٤) من حدیث عائشة (ضعیف شاذ )
3274Sunan An Nasai

اگر والد اپنی کنواری لڑکی کا نکاح اس کے منظوری کے بغیر کر دے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ، فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یتیمہ کنواری لڑکی کی شادی کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا اگر وہ چپ رہے تو یہی (اس کا چپ رہنا ہی) اس کی جانب سے اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر کوئی زور (زور و دباؤ) نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: An orphan girl should be consulted with regard to marriage, and if she remains silent, that is her permission. If she refuses then she is not to be forced.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3270
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر وہ راضی نہیں ہوئی تو کوئی اور رشتہ دیکھو اور اگر وہ اس وقت شادی کرنا نہیں چاہتی تو اس وقت کا انتظار کرو جب وہ اس کے لیے آمادہ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥١١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح ٢٤ (٢٠٩٣)، سنن الترمذی/النکاح ١٩ (١١٠٩)، مسند احمد (٢/٢٥٩، ٤٧٥) (حسن )
3275Sunan An Nasai

احرام کی حالت میں نکاح کی اجازت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَيَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَفِي حَدِيثِ يَعْلَى بِسَرِفَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ بنت حارث ؓ سے اس وقت شادی کی جب کہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے ١ ؎، اور یعلیٰ (راوی) کی حدیث میں سرف کا بھی ذکر ہے ٢ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah married Maimunah bint Al-Harith when he was a Muhrim." According to the Hadith of Yala (one of the narrators): "In Sarif.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3271
Notes · وضاحت
١ ؎: حالت احرام میں نکاح حرام ہے، محرم نہ تو اپنا نکاح کرسکتا ہے، نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کرا سکتا ہے، اس حدیث میں آپ ﷺ کے متعلق جو یہ خبر دی جا رہی ہے کہ آپ نے میمونہ رضی الله عنہا سے حالت احرام میں شادی کی ہے درحقیقت اس سلسلہ میں راوی ابن عباس رضی الله عنہما کو وہم ہوگیا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کا میمونہ رضی الله عنہا سے بحالت حلال نکاح کرنے کی روایت متعدد طرق سے مختلف راویوں سے مروی ہے، جب کہ حالت احرام والی روایت تنہا ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، اور کسی تنہا آدمی کا وہم میں مبتلا ہوجانا پوری ایک جماعت کے بالمقابل زیادہ آسان ہے۔ ( واللہ اعلم ) ٢ ؎: سرف ایک جگہ کا نام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے میمونہ رضی الله عنہا سے شادی کی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٢٠٠)، مسند احمد (١/٣٣٦) (شاذ )
3276Sunan An Nasai

احرام کی حالت میں نکاح کی اجازت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ ؓ سے حالت احرام میں شادی کی۔

It was narrated from Abu Ash-Shatha that Ibn Abbas told him: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) married Maimunah when he was a Muhrim.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3272
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٤٠ (شاذ )
3277Sunan An Nasai

احرام کی حالت میں نکاح کی اجازت

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ جَعَلَتْ أَمْرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ، فَأَنْكَحَهَا إِيَّاهُ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ ؓ سے شادی کی، اور آپ اس وقت احرام میں تھے، میمونہ ؓ نے اپنا معاملہ عباس ؓ کے سپرد کر رکھا تھا تو انہوں نے ان کی شادی آپ ﷺ کے ساتھ کردی۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) married Maimunah when he was a Muhrim, and she appointed Al-Abbas in charge of her marriage, and he married her to him.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3273
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٩٢٩) (شاذ )
3278Sunan An Nasai

احرام کی حالت میں نکاح کی اجازت

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں ام المؤمنین میمونہ ؓ سے شادی کی۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah married Maimunah when he was a Muhrim.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3274
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (شاذ )
3279Sunan An Nasai

احرام کی حالت میں نکاح کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةِ عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ.

عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: محرم نہ خود اپنا نکاح کرے نہ کسی اور کا کرائے، اور نہ (ہی) نکاح کا پیغام دے ۔

Uthman bin Affan (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The Muhrim should not get married, or arrange a marriage for someone else, or propose marriage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3275
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٤٥ (صحیح )