ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے (عید کے مہینے) شوال میں شادی کی، اور میری رخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی۔ (عروہ کہتے ہیں) عائشہ ؓ پسند کرتی تھیں کہ مسلمان بیویوں کے پاس (عید کے مہینے) شوال میں جایا جائے، آپ ﷺ کی بیویوں میں سے مجھ سے زیادہ آپ سے نزدیک اور فائدہ اٹھانے والی کوئی دوسری بیوی کون تھیں ١ ؎۔
Narrated Urwah: It was narrated from Urwah, that Aishah said: "The Messenger of Allah ﷺ married me in Shawwal and my marriage was consummated in Shawwal." --Aishah liked for her womens marriages to be consummated in Shawwal --"and which of his wives was more beloved to him than me?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3236
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنے اس قول سے عائشہ رضی الله عنہا ان لوگوں کے قول کی تردید کرنا چاہتی ہیں جو یہ کہتے تھے کہ شوال میں شادی کرنا اور بیوی کے پاس جانا صحیح نہیں ہے جبکہ میری شادی شوال میں ہوئی، اور دوسروں کی دوسرے مہینوں میں، پھر بھی میں اوروں کی بنسبت آپ ﷺ سے زیادہ نزدیک اور زیادہ فائدہ اٹھانے والی تھی۔ شوال کے مہینے میں کبھی زبردست طاعون پھیلا تھا اسی لیے لوگ اس مہینے کو خیر و برکت سے خالی سمجھتے تھے۔
عامر بن شراحیل شعبی کا بیان ہے کہ انہوں نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے (جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں) سنا ہے انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ آ کر شادی کا پیام دیا، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی مجھے اپنے غلام اسامہ بن زید ؓ سے شادی کے لیے پیغام دیا، اور میں نے سن رکھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو کوئی مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے اسامہ سے بھی محبت رکھنی چاہیئے ۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے (اس سلسلے میں) گفتگو کی تو میں نے کہا: میں اپنا معاملہ آپ کو سونپتی ہوں، آپ جس سے چاہیں میری شادی کردیں۔ آپ نے فرمایا: ام شریک کے پاس چلی جاؤ۔ (کہتی ہیں:) وہ انصار کی ایک مالدار اور فی سبیل اللہ بہت خرچ کرنے والی عورت تھیں ان کے پاس مہمان بکثرت آتے تھے۔ میں نے کہا: میں ایسا ہی کروں گی پھر آپ نے کہا: نہیں، ایسا مت کرو، کیونکہ ام شریک بہت مہمان نواز عورت ہیں اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ تم وہاں رہو، پھر کبھی تمہاری اوڑھنی تمہارے (سر) سے ڈھلک جائے یا تمہاری پنڈلیوں سے کپڑا ہٹ جائے تو تجھے لوگ کسی ایسی حالت میں عریاں دیکھ لیں جو تمہارے لیے ناگواری کا باعث ہو بلکہ (تمہارے لیے مناسب یہ ہے کہ) تم اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ، وہ فہر (قبیلے) کی نسل سے ہیں، چناچہ میں ان کے یہاں چلی گئی۔ یہ حدیث مختصر ہے۔
Narrated Amir bin Shurahbil Ash-Shabi: Amir bin Shurahbil Ash-Shabi narrated that he heard Fatimah bint Qais--who was one of the first Muhajir women-- say: Abdur-Rahman bin Awf proposed marriage to me, along with others of the Companions of Muhammad. And the Messenger of Allah ﷺ proposed that I marry his freed slave, Usamah bin Zaid. I was told that the Messenger of Allah had said: Whoever loves me, let him love Usamah. When the Messenger of Allah ﷺ spoke to me I said: My affairs are in your hands; marry me to whomever you wish. He said: Go to Umm Sharik. Umm Sharik was a rich Ansari woman who used to spend a great deal in the cause of Allah, and she always had a lot of guests. I said: I will do that. He said: Do not do that, for Umm Sharik has a lot of guests, and I would not like your Khimar to fall off, or your shins to become uncovered, and the people to see something of you that you do not want them to see. Rather go to your cousin (son of your paternal uncle) Abdullah bin Amr bin Umm Maktum, who is a man of Banu Fihr. So I went to him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3237
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٠٢٨، ١٨٣٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفتن ٢٤ (٢٩٤٢)، مسند احمد ٦/٣٧٣، ٤١٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی کسی دوسرے کے پیغام پر پیغام نہ دے ١ ؎۔
Narrated Ibn Umar: It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3238
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر پیغام پر پیغام دینے والے کو پہلے پیغام سے متعلق علم ہے تو اس کا یہ پیغام دینا کسی صورت میں درست نہیں ہوگا، البتہ لاعلمی کی صورت میں معذور سمجھا جائے گا، چونکہ پیغام پر پیغام دینے سے مسلمانوں میں باہمی دشمنی اور عداوت پھیلے گی، اور اسلامی معاشرہ کو اسلام، ان عیوب سے صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے، اسی لیے پیغام پر پیغام دینا اسلام کی نظر میں حرام ٹھہرا تاکہ بغض و عداوت سے اسلامی معاشرہ پاک و صاف رہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دھوکہ دینے کیلئے) چیزوں کی قیمت نہ بڑھاؤ ١ ؎، کوئی شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے ٢ ؎، اور کوئی اپنے بھائی کے بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے، کوئی عورت اپنی بہن (سوکن) کے طلاق کی طلب گار نہ بنے کہ اس کے برتن میں جو کچھ ہے پلٹ کر خود لے لے ٣ ؎۔
Narrated Abu Hurairah: It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Do not artificially inflate prices, a resident should not sell for a Bedouin, a man should not offer more for something that has already been bought by his brother, no one should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her, and no woman should try to bring about the divorce of her sister, in order to deprive her of the blessings that she has.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3239
Notes · وضاحت
١ ؎: نجش اس بیع کو کہتے ہیں کہ جس میں سامان کی تشہیر اور قیمت میں اضافہ کی غرض سے سامان کی خوب خوب تعریف کی جائے، یا سامان کا بھاؤ اس کی خریداری کی نیت کئے بغیر بڑھایا جائے۔ ٢ ؎: یعنی اس کے سامان کی فروخت کے لیے دلالی نہ کرے، کیونکہ دلالی کی صورت میں دیگر شہریوں کو ضرر لاحق ہوگا، جب کہ دیہاتی اگر خود سے بیچے تو سستی قیمت میں بیچے گا۔ ٣ ؎: یعنی یہ خیال نہ کرے کہ جب سوکن مطلقہ ہوجائے گی، اور شوہر سے محروم ہوجائے گی تو اس کا حصہ خود اسے مل جائے گا، کیونکہ جس کے نصیب میں جو لکھا جا چکا ہے وہی ملے گا، پھر سوکن کے حق میں ناحق طلاق کی درخواست کا کیا فائدہ ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے ۔
Narrated Abu Hurairah: It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3240
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣٩٦٨)، موطا امام مالک/النکاح ١ (١)، مسند احمد (٢/٤٦٢) (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھائی کہیں نکاح کا پیغام دے چکا ہے، تو کوئی دوسرا مسلمان بھائی اس جگہ جب تک کہ نکاح ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ ہوجائے (نیا) پیغام نہ دے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her, unless he marries (and he gives up the idea), or gives him permission.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3241
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انتظار کرے، اگر وہ نکاح کرلیتا ہے تو یہ پیغام نکاح ترک کر دے، اور اگر وہ ترک کردیتا ہے تو پیغام بھیجے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر کوئی دوسرا پیغام نکاح نہ دے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her.
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3242
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ تم میں سے بعض بعض کی بیع پر بیع کرے ١ ؎ اور نہ ہی کوئی آدمی دوسرے آدمی کے شادی کے پیغام پر اپنا پیغام دے۔ جب تک (پہلا) پیغام دینے والا چھوڑ نہ دے ٢ ؎ یا وہ دوسرے کو پیغام دینے کی اجازت نہ دیدے۔
Abdullah bin Amr used to say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade offering more for something that has already been bought by his brother, or for a man to propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her, unless the previous suitor gave up the idea or gave him permission.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3243
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی دکاندار کا سودا طے ہو رہا ہو تو پڑوسی دکاندار خریدار کو یہ کہہ کر نہ بلائے کہ میں تمہیں اس سے کم قیمت پر سامان دوں گا۔ ٢ ؎: یعنی دوسری جانب سے انکار ہوگیا یا وہ خود ہی دستبردار ہوگیا ہو۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے ان کے معاملہ کے متعلق پوچھا (کہ کیسے کیا ہوا؟ ) تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں اور کھانے کے لیے مجھے جو خوراک دینے لگے اس میں کچھ خرابی تھی (اچھا نہ تھا) تو میں نے کہا: اگر نفقہ اور سکنی میرا حق ہے تو اسے لے کر رہوں گی لیکن میں یہ (ردی سدی گھٹیا کھانے کی چیز) نہ لوں گی، (میرے شوہر کے) وکیل نے کہا: نفقہ و سکنی کا تمہارا حق نہیں بنتا۔ (یہ سن کر) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے اس (بات چیت) کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: (وہ سچ کہتا ہے) تیرے لیے نفقہ و سکنی (کا حق) نہیں ہے ١ ؎، تم فلاں عورت کے پاس جا کر اپنی عدت پوری کرلو ٢ ؎ فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں: ان کے پاس آپ ﷺ کے صحابہ آتے جاتے رہتے تھے۔ (پھر کچھ سوچ کر کہ وہاں رہنے سے بےپردگی اور شرمندگی نہ ہو) آپ ﷺ نے فرمایا: ابن ام مکتوم ؓ کے یہاں رہ کر اپنی عدت پوری کرلو کیونکہ وہ نابینا ہیں ٣ ؎، پھر جب (عدت پوری ہوجائے اور) تو دوسروں کے لیے حلال ہوجاؤ تو مجھے آگاہ کرو ، چناچہ جب میں حلال ہوگئی (اور کسی بھی شخص سے شادی کرنے کے قابل ہوگئی) تو میں نے آپ ﷺ کو باخبر کردیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کس نے شادی کا پیغام دیا ہے؟ میں نے کہا: معاویہ نے، اور ایک دوسرے قریشی شخص نے ٤ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: رہا معاویہ تو وہ قریشی لڑکوں میں سے ایک لڑکا ہے، اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، رہا دوسرا شخص تو وہ صاحب شر اور لاخیرا ہے (اس سے کسی بھلائی کی توقع نہیں ہے) ٥ ؎، ایسا کرو تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو فاطمہ کہتی ہیں: (آپ ﷺ نے کہا تو لیکن وہ مجھے جچے نہیں) میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن جب آپ نے مجھے اسامہ بن زید سے تین بار شادی کرلینے کے لیے کہا تو میں نے (آپ کی بات رکھ لی اور) ان سے شادی کرلی۔
It was narrated from Muhammad bin Abdur-Rahman bin Thawban that they asked Fatimah bint Qais about her story and she said: "My husband divorced me three times, and he used to provide me with food that was not good." She said: "By Allah, if I were entitled to maintenance and accommodation I would demand them and I would not accept this." The deputy said: "You are not entitled to accommodation or maintenance." She said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that, and he said: You are not entitled to accommodation nor maintenance; observe your Iddah in the house of so-and-so. She said: His Companions used to go to her. Then he said: Observe your Iddah in the house of Ibn Umm Maktum, who is blind, and when your Iddah is over, let me know." She said: "When my Iddah was over, I let him know. The Messenger of Allah said: Who has proposed marriage to you? I said: Muawiyah and another man from the Quraish. He said: As for Muawiyah, he is a boy among the Quraish and does not have anything, and as for the other he is a bad man with no goodness in him. Rather you should marry Usamah bin Zaid." She said: "I did not like the idea." But he said that to her three times so she married him.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3244
Notes · وضاحت
١ ؎: نفقہ وسکنی ( اخراجات اور رہائش ) کا حق ان کے لیے ہے جن سے شوہر کو رجوع کا حق و اختیار رہتا ہے، بلکہ شوہر کے گھر میں اس کی رہائش اسی لیے رکھی جاتی ہے تاکہ اس کی مجبوری و بےقراری دیکھ کر اسے رحم آئے، اور رجوع کرے اور دونوں اعتدال و توازن اور اخلاص و محبت کی زندگی گزارنے لگیں۔ ٢ ؎: فلانہ سے مراد ام شریک رضی الله عنہا ہیں وہ ایک مہمان نواز خاتون تھیں۔ ٣ ؎: ان کے گھر میں رہتے وقت اگر دوپٹہ سر سے کھسک جائے یا سونے میں جسم کا کوئی حصہ کھل جائے تو رسوائی اور شرمندگی نہ ہوگی۔ ٤ ؎: اس سے مراد ابوالجہم رضی الله عنہ ہیں۔ ٥ ؎: یعنی عورتوں کے حقوق کی بابت وہ لاخیرا ہے، ایک روایت میں ان کے متعلق تو ضرّاب للنّسائ ( عورتوں کی بڑی پٹائی کرنے والا ) اور لا يَضَعُ عصاه عن عاتقه ( اپنے کندھے سے لاٹھی نہ اتارنے والا ) جیسے الفاظ وارد ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی ضرورت کے تحت اس طرح کے اوصاف بیان کرنا جائز ہے۔
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوعمرو بن حفص ؓ نے انہیں طلاق بتہ دے دی اور وہ موجود نہ تھے۔ (شہر سے باہر سفر پر تھے) پھر ان کے پاس اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر بھیجا تو وہ ان پر غصہ اور ناراض ہوئیں، تو وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا تو ہم پر کوئی حق ہی نہیں بنتا (یوں سمجھئے کہ یہ جو تو تمہاری دلداری کے لیے ہے) ۔ تو فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا: تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے اور انہیں حکم دیا کہ ام شریک ؓ کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرو، پھر کہا: ام شریک کو ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں (ان کے گھر نہیں بلکہ) ابن ام مکتوم ؓ کے یہاں اپنی عدت کے دن پوری کرو، وہ اندھے آدمی ہیں، تم وہاں اپنے کپڑے بھی اتار سکو گی، پھر جب تم (عدت پوری کر کے) حلال ہوجاؤ تو مجھے خبر دو، فاطمہ ؓ کہتی ہیں: جب میں حلال ہوگئی تو آپ کو اطلاع دی کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم دونوں نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ابوجہم تو اپنے کندھے سے اپنی لاٹھی اتار کر نہیں رکھتے ١ ؎ اور معاویہ تو مفلس آدمی ہیں، ان کے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو تو میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن آپ نے دوبارہ پھر کہا کہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو تو میں نے ان کے ساتھ شادی کرلی، اور اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں ہمیں بڑی برکت دی اور میں ان کے ذریعہ قابل رشک بن گئی۔
It was narrated from Fatimah bint Qais that Abu Amr bin Hafs issued a final divorce to her while he was absent. His deputy sent some barley to her but she did not like it. He said: "By Allah, you have no rights over us." She went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that, and he said: "You have no right to maintenance." He told her to observe her Iddah in the house of Umm Sharik, then he said: "She is a woman whose house is frequented by my Companions. Observe your Iddah in the house of Ibn Umm Maktum, for he is a blind man and you can take off your garment. And when your Iddah is over, let me know." She said: "When my Iddah was over I told him that Muawiyah bin Abi Sufyan and Abu Jahm had proposed marriage to me. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: As for Abu Jahm, his stick never leaves his shoulder, and as for Muawiyah he is a poor man who has no wealth. Rather you should marry Usamah bin Zaid. I did not like the idea, then he said: Marry Usamah bin Zaid. So I married him and Allah created a lot of good in him, and others felt jealous of my good fortune.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3245
Notes · وضاحت
١ ؎: عورتوں سے ہر وقت مار پیٹ کرتے رہتے ہیں یا اکثر حالت سفر میں رہتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کرلی ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟ (دیکھ لیے ہوتے تو اچھا ہوتا) کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے (بعد میں اس کی وجہ سے کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو) ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی حدیث مجھے ایک دوسری جگہ عن یزید بن کیسان عن ابی حازم عن ابی ہریرہ کے بجائے عن یزید بن کیسان أن جابر بن عبداللہ حدث کے ساتھ ملی۔ لیکن صحیح ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man of the Ansar came to the Messenger of Allah and said: I have married a woman. He said: Did you look at her? For there is something in the eyes of the Ansar.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3246
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں انہوں نے اپنی شادی کی خبر آپ ﷺ کو دی۔ لیکن آپ نے اس عورت کے تعلق سے ایک بات انہیں بےپوچھے بتائی تو جب کسی عورت کے متعلق نکاح کی غرض سے کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو اس شخص کو اس عورت کے متعلق جو کچھ جانے بدرجہ اولیٰ بتادینا چاہیئے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک (انصاری) عورت سے شادی کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (پہلے) اسے دیکھ لو کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ (نقص) ہوتا ہے (شادی بعد تم نے دیکھا اور وہ تیرے لیے قابل قبول نہ ہوئی تو ازدواجی زندگی تباہ ہوجائے گی) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man wanted to marry a woman and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Look at her, for there is something in the eyes of the Ansar.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3247
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حفصہ بنت عمر ؓ بیوہ ہوگئیں، وہ خنیس بن حذافہ کے نکاح میں تھیں، وہ رسول اللہ ﷺ کے ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں موجود تھے، اور انتقال مدینہ میں فرمایا تھا)۔ میں عثمان بن عفان ؓ سے ملا، میں نے ان کے سامنے حفصہ کا تذکرہ کیا، اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دوں، انہوں نے کہا: میں اس پر غور کروں گا۔ چند راتیں گزرنے کے بعد میں ان سے ملا تو انہوں نے کہا: میں ان دنوں شادی کرنا نہیں چاہتا۔ عمر ؓ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر صدیق ؓ سے ملا، اور ان سے کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ کو آپ کے نکاح میں دے دوں تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے ان کے اس رویے سے عثمان ؓ عنہ کے جواب سے بھی زیادہ غصہ آیا، پھر چند ہی دن گزرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے میرے پاس اپنا پیغام بھیجا تو میں نے ان کا نکاح آپ ﷺ کے ساتھ کردیا۔ (اس نکاح کے بعد) ابوبکر ؓ مجھ سے ملے اور کہا: جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا، تو اس وقت آپ کو مجھ پر بڑا غصہ آیا ہوگا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب آپ نے مجھ پر حفصہ کا معاملہ پیش کیا تو میں نے آپ کو محض اس وجہ سے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ میں رسول اللہ ﷺ سے ان کا تذکرہ سن چکا تھا اور میں آپ کا راز افشاء کرنا نہیں چاہتا تھا، ہاں، اگر آپ ﷺ ان سے شادی نہ کرتے تو میں ضرور ان سے شادی کرلیتا۔
It was narrated that Umar said: "Hafsah bint Umar became single when (her husband) Khunais -meaning bin Hudhafah- (died). He was one of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) who had been present at Badr, and he died in Al-Madinah. I met Uthman bin Affan (RA) and offered Hafsah in marriage to him. I said: If you wish, I will marry you to Hafsah. He said: I will think about it. A few days passed, then I met him and he said: I do not want to get married at the moment." Umar said: "Then I met Abu Bakr As-Siddiq (RA), and said: If you wish, I will marry Hafsah to you. He did not give me any answer, and I felt more upset with him than I had with Uthman (RA). Several days passed, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) proposed marriage to her, and I married her to him. Abu Bakr met me and said: Perhaps you felt upset with me when you offered Hafsah in marriage to me and I did not give you an answer? I said: Yes. He said: Nothing prevented me from giving you an answer when you made the offer to me except the fact that I had heard the Messenger of Allah speak of her, and I did not want to disclose the secret of the Messenger of Allah; if he had left her, then I would have married her.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3248
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ١٢ (٤٠٠٥)، والنکاح ٣٣ (٥١٢٢)، ٣٦ (٥١٢٩) مختصرا، ٤٦ (٥١٤٥) مختصرا، مسند احمد (١/١٢ و ٢/٢٧) (تحفة الأشراف: ١٠٥٢٣)، ویأتی عند المؤلف برقم ٣٢٦١ (صحیح )
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک ؓ کے پاس تھا، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، انس ؓ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کردیا، اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ ١ ؎۔
Thabit Al-Bunani said: "I was with Anas bin Malik (RA) and a daughter of his was with him. He said: A woman came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and offered herself in marriage to him. She said: O Messenger of Allah, do you want to marry me?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3249
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر آپ مجھے نکاح کے لیے قبول فرمائیں تو میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گی۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو (نکاح کے لیے) رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا، تو (یہ سن کر) انس ؓ کی صاحبزادی ہنس پڑیں، اور کہا: کتنی کم حیاء عورت ہے! انس ؓ نے کہا: (بیٹی! ) یہ عورت تجھ سے اچھی ہے (ذرا اس کی طلب تو دیکھ) اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ پر پیش کیا ہے، (اور آپ کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے) ۔
It was narrated from Anas that a woman offered herself in marriage to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). The daughter of Anas laughed and said: "How little was her modesty." Anas said: "She was better than you; she offered herself in marriage to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3250
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب زینب ؓ کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے زید ؓ کو ان کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں میرے لیے رشتہ کا پیغام دو۔ زید ؓ کہتے ہیں: میں گیا اور میں نے کہا: زینب خوش ہوجاؤ! رسول اللہ ﷺ نے مجھے تمہارے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ نہیں کرنے کی جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کرلوں (یہ کہہ کر) وہ اپنے مصلی پر (صلاۃ استخارہ پڑھنے) کھڑی ہوگئیں، (ادھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کا نکاح ان سے آسمان پر ہی کردیا) ، اور قرآن نازل ہوگیا: فلما قضى زيد منها وطرا زوجناکها (اس آیت کے نزول کے بعد) رسول اللہ ﷺ ان کے پاس کسی حکم و اجازت (یعنی رسمی ایجاب و قبول کے بغیر تشریف لائے، اور) ان سے خلوت میں ملے۔
It was narrated that Anas (RA) said: "When the Iddah of Zainab was over, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to Zaid: Propose marriage to her on my behalf. Zaid went and said: O Zainab, rejoice, for the Messenger of Allah has sent me to you to propose marriage on his behalf. She said: I will not do anything until I consult my Lord. She went to her prayer place and Quran was revealed, then the Messenger of Allah came and entered upon her without any formalities.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3251
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ زینب بنت حجش ؓ رسول اللہ ﷺ کی دوسری بیویوں پر اس بات کا فخر کرتی تھیں کہ اللہ عزوجل نے (رسول اللہ ﷺ سے) میرا نکاح آسمان ہی پر فرما دیا۔ اور انہیں کے سلسلے سے پردے کی آیت نازل ہوئی۔
Anas bin Malik (RA) said: Zainab bint Jahsh used to boast to the other wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and say: "Allah married me to him from above the Heavens." And the Verse of Hijab was revealed concerning her.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3252
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ٢٢ (٧٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١١٢٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة الأحزاب ٣٤ (٣٢١٣)، مسند احمد (٣/٢٢٦) (صحیح )
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام امور (و معاملات) میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے، جیسا کہ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے، فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی (اچھے) کام کا ارادہ کرے تو فرض (اور اس کے توابع) کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر (دعا کرتے ہوئے) کہے: اللہم إني أستخيرک بعلمک وأستعينک بقدرتک وأسألک من فضلک العظيم فإنک تقدر ولا أقدر و تعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللہم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاقدره لي ويسره لي ثم بارک لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث کان ثم أرضني به اے اللہ! میں تیرے علم کی برکت سے تجھ سے بھلائی اور خیر کا طالب ہوں اور تیری قدرت کا واسطہ دے کر تیری مدد کا چاہتا ہوں اور تیرے عظیم فضل کا طالب ہوں کیونکہ تو قدرت والا ہے، میں قدرت والا نہیں، تو (اچھا و برا سب) جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو ہی غیب کی باتوں کو جانتا ہے، اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ، (پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے) میرے لیے میرے دین، دنیا اور کے اعتبار سے، یا یہ کہا: اس دار فانی اور اخروی زندگی کے اعتبار سے بہتر ہے تو اس کام کو میرے لیے مقدر کر دے اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر دے اور مجھے اس میں برکت دے۔ اور اگر تو جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے، میرے دین، دنیا اور انجام کار کے لحاظ سے یا اس دار فانی اور اخروی زندگی کے لحاظ سے تو اس کام کو مجھ سے دور رکھ اور مجھے اس سے بچا لے۔ اور بھلائی جہاں بھی ہو اسے میرے لیے مقدر فرما دے اور مجھے اس پر راضی و خوش رکھ ۔ آپ نے فرمایا: (دعا کرتے وقت) اپنی ضرورت کا نام لے ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to teach his Companions to perform Istikharah in all matters, just as he used to teach them Surahs from the Quran. He said: If any one of you is deliberating about a decision he has to make, then let him pray two Rakahs of non-obligatory prayer, then say: Allahumma inni astakhiruka bi ilmika wa astaqdiruka bi qudratika wa asaluka min fadlika, fa innaka taqdiru wa la aqdir, wa talamu wa la alam, wa anta allam al-ghuyub. Allahumma in kunta talamu anna hadhal-amra khayrun li fi dini wa maashi wa aqibati amri faqdurhu li wa yassirhu li thumma barik li fihi. Allahumma, wa in kunta talamu annahu sharrun li fi dini wa maashi wa aqibati amri fasrifhu anni wasrifni anhu waqdur li al-khayr haythu kana, thumma radini bihi. (O Allah, I seek Your guidance (in making a choice) by virtue of Your knowledge, and I seek ability by virtue of Your power, and I ask You of Your great bounty. You have power, I have none. And You know, I know not. You are the Knower of hidden things. O Allah, if in Your knowledge, this matter (then it should be mentioned by name) is good for me in my religion, my livelihood and my affairs (or: both in this world and in the Hereafter), then ordain it for me, make it easy for me, and bless it for me. And if in Your knowledge it is bad for me and for my religion, my livelihood and my affairs (or: for me both in this world and the next), then turn it away from me and turn me away from it, and ordain for me the good wherever it may be and make me pleased with it.)"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3253
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کی عدت پوری ہوگئی تو ابوبکر ؓ نے انہیں اپنی شادی کا پیغام بھیجا۔ جسے انہوں نے قبول نہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے عمر بن خطاب ؓ کو اپنی شادی کا پیغام دے کر ان کے پاس بھیجا، انہوں نے (عمر ؓ سے) کہا: رسول اللہ ﷺ تک یہ خبر پہنچا دو کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں (دوسری بیویوں کے ساتھ رہ نہ پاؤں گی) بچوں والی ہوں (ان کا کیا بنے گا) اور میرا کوئی ولی اور سرپرست بھی موجود نہیں ہے۔ (جب کہ نکاح کرنے کے لیے ولی بھی ہونا چاہیئے) عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ کو یہ سب باتیں بتائیں، آپ نے ان سے کہا: (دوبارہ) ان کے پاس (لوٹ) جاؤ اور ان سے کہو: تمہاری یہ بات کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں (اس کا جواب یہ ہے کہ) میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے دعا کروں گا، اللہ تمہاری غیرت (اور سوکنوں کی جلن) دور کر دے گا، اور اب رہی تمہاری (دوسری) بات کہ میں بچوں والی عورت ہوں تو تم (شادی کے بعد) اپنے بچوں کی کفایت (و کفالت) کرتی رہو گی اور اب رہی تمہاری (تیسری) بات کہ میرا کوئی ولی موجود نہیں ہے (تو میری شادی کون کرائے گا) تو ایسا ہے کہ تمہارا کوئی ولی موجود ہو یا غیر موجود میرے ساتھ تمہارے رشتہ نکاح کو ناپسند نہ کرے گا (جب عمر ؓ نے جا کر آپ ﷺ کا یہ جواب ان کے سامنے رکھا) تو انہوں نے اپنے بیٹے عمر بن ابی سلمہ سے کہا: اٹھو اور رسول اللہ ﷺ سے (میرا) نکاح کر دو، تو انہوں نے (اپنی ماں کا) نکاح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کردیا، یہ حدیث مختصر ہے۔
It was narrated from Umm Salamah, that when her Iddah had ended, Abu Bakr sent word to her proposing marriage to her, but she did not marry him. Then the Messenger of Allah sent Umar bin Al-Khattab with a proposal of marriage. She said: "Tell the Messenger of Allah that I am a jealous woman and that I have sons, and none of my guardians are present." He went to the Messenger of Allah and told him that. He said: "Go back to her and tell her: As for your saying that you are a jealous woman, I will pray to Allah for you to take away your jealousy. As for your saying that you have sons, your sons will be taken care of. And as for your saying that none of your guardians are present, none of your guardians, present or absent, would object to that." She said to her son: "O Umar, get up and perform the marriage to the Messenger of Allah," so he performed the marriage.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3254
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٢٠٤)، مسند احمد (٦/٢٩٥، ٣١٣، ٣١٧، ٣٢٠، ٣٢١) (ضعیف) یعنی بہذا السند والمتن وقد ورد بعضہ عندم فی الجنائز ٢ (٩١٨ )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ چھ سال کی بچی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی، اور جب نو برس کی ہوئیں تو آپ نے ان سے خلوت کی۔
It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah married her when she was six years old, and consummated the marriage with her when she was nine.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3255