پیغام پر پیغام بھیجنے کی ممانعت کا بیان
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی کسی دوسرے کے پیغام پر پیغام نہ دے ١ ؎۔
Narrated Ibn Umar: It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3238
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر پیغام پر پیغام دینے والے کو پہلے پیغام سے متعلق علم ہے تو اس کا یہ پیغام دینا کسی صورت میں درست نہیں ہوگا، البتہ لاعلمی کی صورت میں معذور سمجھا جائے گا، چونکہ پیغام پر پیغام دینے سے مسلمانوں میں باہمی دشمنی اور عداوت پھیلے گی، اور اسلامی معاشرہ کو اسلام، ان عیوب سے صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے، اسی لیے پیغام پر پیغام دینا اسلام کی نظر میں حرام ٹھہرا تاکہ بغض و عداوت سے اسلامی معاشرہ پاک و صاف رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٢)، سنن الترمذی/البیوع ٥٧ (١٢٩٢)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح ٤٥ (٥١٤٢)، سنن ابی داود/النکاح ١٨ (٢٠٨١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٠ (١٨٦٧)، موطا امام مالک/النکاح ١ (٢)، مسند احمد ٢/١٢٤)، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢٢) ویأتي برقم: ٣٢٤٥ (صحیح )