Sunan An Nasai 3247

نکاح سے متعلقہ احادیث

3247Sunan An Nasai

رشتہ بھیجنے والے کی اجازت سے یا اس کے چھوڑنے کے بعد رشتہ بھیجنا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ الرَّجُلِ، حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ تم میں سے بعض بعض کی بیع پر بیع کرے ١ ؎ اور نہ ہی کوئی آدمی دوسرے آدمی کے شادی کے پیغام پر اپنا پیغام دے۔ جب تک (پہلا) پیغام دینے والا چھوڑ نہ دے ٢ ؎ یا وہ دوسرے کو پیغام دینے کی اجازت نہ دیدے۔

Abdullah bin Amr used to say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade offering more for something that has already been bought by his brother, or for a man to propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her, unless the previous suitor gave up the idea or gave him permission.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3243
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی دکاندار کا سودا طے ہو رہا ہو تو پڑوسی دکاندار خریدار کو یہ کہہ کر نہ بلائے کہ میں تمہیں اس سے کم قیمت پر سامان دوں گا۔ ٢ ؎: یعنی دوسری جانب سے انکار ہوگیا یا وہ خود ہی دستبردار ہوگیا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٥ (٥١٤٢)، (تحفة الأشراف: ٧٧٧٨) (صحیح )