دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا حَرَّمَتْهُ الْوِلَادَةُ حَرَّمَهُ الرَّضَاعُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو رشتے (ماں کے پیٹ سے) پیدا ہونے سے حرام ہوتے ہیں وہی رشتے (عورت کا) دودھ پینے سے بھی حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What becomes unlawful (for marriage) through birth becomes unlawful through breast-feeding.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3300
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نکاح کے حرام ہونے میں رضاعت اور ولادت کا ایک ہی حکم ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٧ (٢٠٥٥)، سنن الترمذی/الرضاع ١ (١١٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٤)، موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٥)، مسند احمد (٦/٤٤، ٥١، ٦٦، ٦٦، ٧٢، ١٠٢)، سنن الدارمی/النکاح ٤٨ (٢٢٩٥) (صحیح )