دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Amrah said: "I heard Aishah (RA) say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through birth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3303
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نسلی حقیقی رشتے سے جو لوگ حرام ہوتے ہیں وہی لوگ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٩٥٥) (صحیح )