خرید و فروخت کے مسائل و احکام

Sunan An Nasai · Chapter 44 · 257 hadiths · Page 7 of 13

4573Sunan An Nasai

درہم درہم کے عوض فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونے کے بدلے سونا، برابر برابر اور یکساں ہوگا، اور چاندی کے بدلے چاندی برابر برابر اور یکساں ہوگی، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود کا کام کیا ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Gold for gold, weight for weight, like for like; and silver for silver, weight for weight, like for like. Whoever gives more or takes more has engaged in Riba.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4569
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٥(البیوع ٣٦) (١٥٨٨)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٨ (٢٢٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٦٢٥)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٢٨٢، ٤٣٧) (صحیح )
4574Sunan An Nasai

سونے کے بدلے سونا فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، اور ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو، اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not sell gold for gold except like for like and do not differentiate. Do not sell silver for silver except like for like, and do not sell it in return for something to be paid later.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4570
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٧٨ (٢١٧٧)، صحیح مسلم/البیوع ٣٥ (المساقاة ١٤) (١٥٨٤)، سنن الترمذی/البیوع ٢٤ (١٢٤١)، (تحفة الأشراف: ٤٣٨٥)، موطا امام مالک/البیوع ١٦(٣٠)، مسند احمد ٣/٤، ٥١، ٥٣، ٦١، ٧٣، ٩٧) (صحیح )
4575Sunan An Nasai

سونے کے بدلے سونا فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ النَّهْيَ عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ، وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی بیچنے سے روکا ہے، سوائے اس کے کہ وہ برابر ہوں، اور (ان میں سے) کسی نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو، اور نہ ہی ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ کرو۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "My eyes saw and my ears heard the Messenger of Allah ﷺ. And he mentioned the prohibition of (selling) gold for gold and silver for silver, unless it is equal amounts, like for like. And do not sell it in return for something to be paid later, and do not differentiate.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4571
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4576Sunan An Nasai

سونے کے بدلے سونا فروخت کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ.

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ ؓ نے پینے کا برتن جو سونے یا چاندی کا تھا اس سے زائد وزن کے بدلے بیچا تو ابو الدرداء ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کی بیع سے منع فرماتے ہوئے سنا، سوائے اس کے کہ وہ برابر برابر ہوں۔

It was narrated from Ata bin Yasir that: Muawiyah sold a cup of gold or silver for more than its weight. Abu Ad-Darda said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ forbid such transactions unless it was like for like.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4572
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٩٥٣)، موطا امام مالک/البیوع ١٦ (٣٣)، مسند احمد (٦/٤٤٨) (صحیح )
4577Sunan An Nasai

نگینہ اور سونے سے جڑے ہوئے ہار کی بیع

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً فِيهَا ذَهَبٌ، وَخَرَزٌ بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ.

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک ہار جس میں سونا اور نگینے لگے ہوئے تھے، بارہ دینار میں خریدا، پھر میں نے انہیں الگ کیا تو اس میں لگا ہوا سونا بارہ دینار سے زیادہ کا تھا، اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جب تک الگ کرلیا جائے اسے نہ بیچا جائے ۔

It was narrated the Fadalah bin Ubaid said: "On the Day of Khaibar I bought a necklace containing gold and ggems for twelve Dinars. The I took it apart and found that it contatined more than twelve Dinars. Mentiion of that was made to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: It should not be sold until it is taken apart.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4573
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٧ (البیوع ٣٨) (١٥٩١)، سنن ابی داود/البیوع ١٣(٣٣٥٢)، سنن الترمذی/البیوع ٣٢ (١٢٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٧)، مسند احمد (٦/٢١، ٢٢) (صحیح )
4578Sunan An Nasai

نگینہ اور سونے سے جڑے ہوئے ہار کی بیع

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: أَصَبْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: افْصِلْ بَعْضَهَا مِنْ بَعْضٍ، ثُمَّ بِعْهَا.

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ مجھے خیبر کے دن ایک ہار ملا جس میں سونا اور نگینے تھے، میں نے اسے بیچنا چاہا، اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ایک کو دوسرے سے الگ کر دو پھر بیچو ۔

It was narrated that Fadalah bin Ubad said: "On the Day of Khaibar I got a necklace containing gold and gems, and I wanted to sell it. Mention of that was made to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Take it apart, and then sell it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4574
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4579Sunan An Nasai

چاندی کو سونے کے بدلہ ادھار فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ فَجَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي، فَقُلْتُ: هَذَا لَا يَصْلُحُ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ: مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا، ثُمَّ قَالَ لِي: ائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.

ابومنہال کہتے ہیں کہ شریک نے کچھ چاندی ادھار بیچی، پھر میرے پاس کر مجھے بتایا تو میں نے کہا: یہ درست نہیں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو اسے بازار میں بیچا ہے، لیکن کسی نے اسے غلط نہیں کہا، چناچہ میں براء بن عازب ؓ کے پاس آ کر ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مدینے میں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور ہم اسی طرح سے بیچا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: جب تک نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن ادھار ہو تو یہ سود ہے ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: زید بن ارقم ؓ کے پاس جاؤ، میں نے ان کے پاس جا کر معلوم کیا تو انہوں نے بھی اسی جیسا بتایا۔

It was narrated that abu Al-Minhal said: "Sharik sold some silver on credit for me. He came to me and told me. And I said: This is not correct. He said; By Allah, I did this transaction in the market and no one criticized me . So I went to Al-Bara bin Azib and asked him about that. He said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to us in Al-Madinah and we used to do this kind of transaction, but he said: Whatever is hand to hand, there is nothing wrong with it, but whatever is on credit, is Riba. Then he said to me: Go to Zaid bin Arqam (RA). So I went to him and asked him, and he said the same thing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4575
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٨ (٢٠٦٠، ٢٠٦١)، (٢١٨٠، ٢١٨١)، الشرکة ١٠(٢٤٩٧، ٢٤٩٨)، مناقب الأنصار ٥١ (٣٩٣٩، ٣٩٤٠)، صحیح مسلم/المساقاة ١٦ (البیوع ٣٧) (١٥٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٨)، مسند احمد (٤/٢٨٩، ٣٦٨، ٣٧١، ٣٧٢، ٢٧٤) (صحیح )
4580Sunan An Nasai

چاندی کو سونے کے بدلہ ادھار فروخت کرنا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟، فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ.

ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے، ہم نے آپ سے بیع صرف (اثمان کی خریدو فروخت) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: اگر وہ نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھار ہو تو یہ صحیح نہیں ۔

Abu Al-Minhal said: " I asked Al-Bara bin Azib and Zaid bin Arqam (RA) and they said: We were merchants at the time of the Messenger of Allah ﷺ and we asked the Prophet of Allah about money exchange. He said: "If it is done hand to hand there is nothing wrong with it, but if it is done on credit then it is not right.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4576
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4581Sunan An Nasai

چاندی کو سونے کے بدلہ ادھار فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنِ الصَّرْفِ ؟، فَقَالَ: سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، فَسَأَلْتُ زَيْدًا: فَقَالَ: سَلْ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، فَقَالَا جَمِيعًا: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا.

ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے بیع صرف کے بارے میں براء بن عازب ؓ سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: زید بن ارقم ؓ سے معلوم کرلو، وہ مجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ جاننے والے ہیں۔ چناچہ میں نے زید ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: براء ؓ سے معلوم کرو وہ مجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ جاننے والے ہیں، تو ان دونوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے سے روکا ہے ۔

Abu Al-Minhal said: "I asked Al-Bara bin Azib about money exchange. He said: Ask Zaid bin Arqam (RA), for he is better than me and more knowledgeable. So I asked Zaid and he said: Ask Al-Bara for he is better than me and more knowledgeable. And they both said: The Messenger of Allah ﷺ forbade (selling) silver for gold on credit.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4577
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥٧٩ (صحیح )
4582Sunan An Nasai

چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا

وَفِيمَا قُرِئَ عَلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا، وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا بیچنے سے منع فرمایا، مگر برابر برابر، اور ہمیں حکم دیا کہ چاندی کے بدلے سونا جیسے چاہیں خریدیں اور سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہیں ١ ؎۔

Abdur-Rahman bin Abi Bakrah narrated that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade selling silver for silver and gold for gold, unless it was of equal amounts. And he told us to sell gold for silver however we wanted, and silver for gold however we wanted.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4578
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کمی و زیادتی کے ساتھ بشرطیکہ نقدا ہو ادھار نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٧٧ (٢١٧٥)، ٨١ (٢١٨٢)، صحیح مسلم/البیوع ٣٧ (المساقاة ١٦) (١٥٩٠)، (تحفة الأشراف: ١١٦٨١)، مسند احمد (٣/٣٨، ٣٩) (صحیح )
4583Sunan An Nasai

چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا عَيْنًا بِعَيْنٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَلَا نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا عَيْنًا بِعَيْنٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَبَايَعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْتُمْ، وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم چاندی کے بدلے چاندی بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر، اور سونے کے بدلے سونا بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہو بیچو ١ ؎۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Bakrah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade us from selling silver for silver unless it was of equal amounts, or selling gold for gold unless it was of equal amounts. The Messenger of Allah said: Sell gold for silver however you want, and silver for gold however you want.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4579
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کمی و زیادتی کے ساتھ بشرطیکہ نقداً ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4584Sunan An Nasai

چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے اسامہ بن زید ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سود تو صرف ادھار میں ہے ١ ؎۔

Usmah bin Zaid Narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no Riba except in credit".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4580
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے، یا اسی طرح ہم جنس غلہ جات کی نقداً خریدو فروخت میں اگر کمی بیشی ہو تو سود نہیں ہے، سود تو اسی وقت ہے جب معاملہ ادھار کا ہو، امام نووی نیز دیگر علماء کہتے ہیں کہ اہل اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں ہے، کچھ لوگ اسے منسوخ کہتے ہیں اور کچھ تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اجناس مختلفہ میں سود صرف ادھار کی صورت میں ہے، پچھلی حدیثوں میں صراحت ہے کہ تفاضل میں سود ہے، اس لیے حدیث کو منسوخ ماننا ضروری ہے، یا اسامہ ؓ نے آپ ﷺ سے باہم مختلف اجناس کی خریدو فروخت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اگر نقداً ہو، سود تو ادھار میں ہے۔ اس حدیث کو منسوخ ماننا، یا یہ تاویل اس لیے بھی ضروری ہے کہ ابن عباس ؓ وغیرھم کو تفاضل والی حدیث پہنچ گئی تو انہوں نے اس حدیث کے مطابق فتوی دینے سے رجوع کرلیا (کما حققہ العلماء) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٧٩ (٢١٧٨، ٢١٧٩)، صحیح مسلم/البیوع ٣٩ (المساقاة ١٨) (١٥٩٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٩ (٢٢٥٧)، (تحفة الأشراف: ٩٤)، مسند احمد (٥/٢٠٠، ٢٠٢، ٢٠٤، ٢٠٦، ٢٠٩)، سنن الدارمی/البیوع ٤٢ (٢٦٢٢) (صحیح )
4585Sunan An Nasai

چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ، أَشَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَوْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ: مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا: آپ جو یہ باتیں کہتے ہیں، کیا آپ نے انہیں کتاب اللہ (قرآن) میں پایا ہے یا رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہ تو میں نے انہیں کتاب اللہ (قرآن) میں پایا ہے اور نہ ہی انہیں رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، لیکن اسامہ بن زید ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سود تو صرف ادھار میں ہے ۔

It was narrated that Abu Salih heard Abu Saeed Al-Khudri say: "I said to Ibn Abbas: Do you think that what you are saying is something that you found in the Book of Allah, or something that you heard from the Messenger of Allah ﷺ? He said: I did not find it in the Book of Allah, nor did I hear it from the Messenger of Allah ﷺ, rather Usamah bin Zaid told me that the Messenger of Allah ﷺ said: Riba is only in credit.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4581
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (لیکن یہ حکم منسوخ ہے )
4586Sunan An Nasai

چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ؟، قَالَ: لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا، چناچہ میں دینار سے بیچتا تھا اور درہم لیتا تھا، پھر میں ام المؤمنین حفصہ ؓ کے گھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ سے کچھ معلوم کرنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا اور درہم لیتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، اگر تم اسی دن کے بھاؤ سے لے لو جب تک کہ جدا نہ ہو اور تمہارے درمیان ایک دوسرے کا کچھ باقی نہ ہو ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "I used to sell camels at Al-Baqi and I would sell Dinars in exchange for Dirhams. I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in the house of Hafsah and said: O Messenger of Allah, I want to ask you: I sell camels in Al-Baqi and I sell Dinars in exchange for Dirhams. He said: There is nothing wrong with it if you take the price on that day, unless you depart when there is still unfinished business between you both (buyer and seller).

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4582
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ١٤ (٣٣٥٤، ٣٣٥٥)، سنن الترمذی/البیوع ٢٤ (١٢٤٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥١(٢٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٣، ١٨٦٨٥)، مسند احمد (٢/٣٣، ٥٩، ٨٣، ٨٩، ١٠١، ١٣٩، سنن الدارمی/البیوع ٤٣ (٢٦٢٣)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٥٨٧-٤٥٨٩، ٤٥٩١-٤٥٩٣) (ضعیف) (اس روایت کا مرفوع ہونا ضعیف ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما کا اپنا واقعہ ہے، ضعیف ہونے کی وجہ سماک ہیں جو حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں اختلاط بھی ہوتا تھا، بس موقوف کو مرفوع بنادیا جب کہ ان کے دوسرے ساتھیوں نے موقوفاً ہی روایت کی ہے )
4587Sunan An Nasai

سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، أَوِ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ صَاحِبَكَ فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں چاندی کے بدلے سونا یا سونے کے بدلے چاندی بیچتا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے ساتھی سے بیچو تو اس سے الگ نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان کوئی چیز باقی رہے (یعنی حساب بےباق کر کے الگ ہو) ۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "I used to sell gold for silver, or silver for gold. I came to the Messenger of Allah ﷺ and told him about that, and he said: If you make a deal with your companion, d o not leave him when there is still any ambiguity (in the deal) between you.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4583
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف )
4588Sunan An Nasai

سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ، وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ.

سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ درہم ٹھیرا کر دینار اور دینار ٹھیرا کر درہم لیں ١ ؎۔

It was narrated from Saeed bin Jubair that: he did not like to exchange Dinars for Dirhams or Dirhams for Dinars.

صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4584
Notes · وضاحت
١ ؎: سعید بن جبیر سے اسی سند سے نمبر ٤٥٩٢ پر جو روایت ہے وہی زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥٨٦ (صحیح الإسناد )
4589Sunan An Nasai

سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا يَعْنِي فِي قَبْضِ الدَّرَاهِمِ مِنَ الدَّنَانِيرِ، وَالدَّنَانِيرِ مِنَ الدَّرَاهِمِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یعنی دینار طے کر کے کر درہم لینے اور درہم طے کر کے کر دینار لینے میں۔

It was narrated from Saeed bin Jubair, from Ibn Umar (RA), that: he did not see anything wrong with parying Dirhams for Dinars.

صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4585
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥٨٦ (صحیح )
4590Sunan An Nasai

سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: فِي قَبْضِ الدَّنَانِيرِ مِنَ الدَّرَاهِمِ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُهَا إِذَا كَانَ مِنْ قَرْضٍ.

ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ درہم طے کر کے کر دینار لینے کو وہ ناپسند کرتے تھے جب وہ قرض کے طور پر ہوں۔

It was narrated from Ibrahim, with regard to exchanging Dirnars for Dirhams, that: he disliked it (this transaction) if it was done on credit. (Da if )

صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4586
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٤١٨) (صحیح )
4591Sunan An Nasai

سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى أَبِي شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا وَإِنْ كَانَ مِنْ قَرْضٍ.

سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے خواہ قرض کے طور پر ہو۔

It was narrated from Saeed bin Jubair that: he did not see anything wrong with it even if it was on credit.

صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4587
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥٨٦ (صحیح )
4592Sunan An Nasai

سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ.

اس سند سے بھی سعید بن جبیر سے اسی طرح مروی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نے اس مقام میں اسے اسی طرح پایا ١ ؎۔

Something similar was narrated form Saeed bin Jubair. Abu Abdur-Rehman (An-Nasai) said: This is what I have found on this topic.

صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4588
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سعید کی پہلی روایت سے متضاد، اس سے گویا وہ ضعف کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥٨٦ (صحیح )