عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ میں لگے پھل کو بیچے، اگر وہ کھجور ہو تو نپی ہوئی کھجور سے بیچے، اور اگر انگور ہو تو اسے نپے ہوئے خشک انگور (منقیٰ یا کشمش) سے بیچے، اور اگر کھڑی کھیتی (فصل) ہو تو اسے نپے ہوئے اناج سے بیچے ۔ آپ نے ان تمام اقسام کی بیع سے منع فرمایا۔
It was narrated that Ibn umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Muzabanah, which refers to when a man sells the dates of his grove while they are still on the trees, for a measure of dry on the tree, for a measure of dry dates, estimating the amount( of dates on the trees). Or, if it is grapes, he sells them when they are still on the vines, for a measure of raisins, estimating the amount (of grapes on the vines). Or if it is grain in the field, he sells it for grain that has been harvested, estimating the amount (of grain in the fields). He forbade all of that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4549
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مخابرہ، مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا، اور کھانے کے لائق ہونے سے پہلے کھجور کو بیچنے سے، اور اسے سوائے دینار اور درہم کے کسی اور چیز سے بیچنے سے (منع فرمایا) ۔
It was narrated from Jabir that: the Messenger of Allah ﷺ forbade Mukhabarah, Muzabanah and Muhaqalah, and selling dates before they arte fit or eating, and selling them for anything except Dinars and Dirhams.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4550
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کھجور کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہوجائے، اور بالی کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ سفید پڑجائے (یعنی پک جائے) اور آفت سے محفوظ ہوجائے۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو روکا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn umar that: the Messenger of Allah ﷺ forbade selling dates in the trees before they ripen or selling ears of corn before the grains become visible and there is no fear of blight. He forbade that to the seller ad the buyer.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4551
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح کی بیع میں بھی وہی بات ہے جو پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی بیع میں ہے، یعنی ہوسکتا ہے کہ کھیتی پکنے سے کسی آسمانی آفت کا شکار ہوجائے، تو خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہوگا۔
ایک صحابی رسول ؓ نے کہا کہ اللہ کے رسول! ہم صیحانی (نامی کھجور) اور عذق (نامی کھجور) ردی کھجور کے بدلے نہیں پاتے جب تک کہ ہم زیادہ نہ دیں، تو آپ نے فرمایا: اسے درہم سے بیچ دو پھر اس سے (صیحانی اور عذق کو) خرید لو ۔
It was narrate from Abu Salih that: a man form among the companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him, he said: "O Messenger of Allah we cannot buy Saihani dates or idhq dates for the same amount of mixed dates (which are of inferior quality). Should we increase (the amount we give in payment for the better quality dates)?" The Messenger of Allah said: "Sell them for silver them buy with it.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4552
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٥٦٦) (صحیح) (اس کے رواة ” اعمش “ اور ” حبیب “ دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنایا، وہ جنیب (نامی عمدہ قسم کی) کھجور لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح ہیں؟ وہ بولا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم یہ کھجور دو صاع کے بدلے ایک صاع یا تین صاع کے بدلے دو صاع لیتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، گھٹیا اور ردی کھجوروں کو درہم (پیسوں) سے بیچ دو، پھر درہم سے جنیب خرید لو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed AlKhudri and Abu Hurairah (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ appointed a man in charge of kharibar and he brought some Janib dates. The Messenger of Allah said; "Are all the dates if khaibar like this?" He said: "No (by Allah, O Messenger of Allah) we take a Sa of these for two for three Sas (of other types of dates)." The Messenger of Allah said: "do not do that Sell the mixed dates for Dirhams then buy the Janib dates with the Dirhams.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4553
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی معاملہ ہر طرح کے پھلوں اور غلوں میں کرنا چاہیئے، اگر کسی کو گھٹیا اور ردی قسم کے بدلے اچھے قسم کا پھل یا غلہ چاہیئے تو وہ قیمت سے خریدے، بدلے میں نہیں۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ریان (نامی عمدہ) کھجوریں لائی گئیں اور آپ کی بعل نامی (گھٹیا قسم کی) سوکھی کھجور تھی تو آپ نے فرمایا: تمہارے پاس یہ کھجوریں کہاں سے آئیں؟ لوگوں نے کہا: ہم نے اپنی دو صاع کھجوروں کے بدلے اسے ایک صاع خریدی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، اس لیے کہ یہ چیز صحیح نہیں، البتہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو اور پھر اس نقدی سے اپنی ضرورت کی دوسری کھجوریں خریدو ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-udri that: some dates from trees that were irrigated artificially were brought to the Messenger of Allah ﷺ and the dates of the Messenger of Allah were dates from trees that were nourished by their roots. He said: "Where did you get these from?" They said: "We bought a Sa of them for two Sa s of our dates: He said: "Do not do that, for this is not right. Rather sell your dates and but what you need of these.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4554
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ردی کھجوریں ملتی تھیں تو ہم دو صاع دے کر ایک صاع (اچھی کھجوریں) خرید لیتے تھے، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: کھجور کے دو صاع ایک صاع کے بدلے، گیہوں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے اور دو درہم ایک درہم کے بدلے نہ لیے جائیں ۔
A Abu Sa eed al- Khudri said: "We used to be given mixed dates during the time of the Messenger of Allah ﷺ and we would sell two Sa s for one Sa News of that reached the Messenger of Allah ﷺ and he said Do not sell) two Sa s of dates for a Sa, or two Sa s of wheat for s Sa or a Dirham for two Dirhams.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4555
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ دو صاع ردی کھجوروں کے بدلے ایک صاع (عمدہ قسم کی کھجوریں) لیتے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک صاع کھجور کے بدلے دو صاع کھجور، ایک صاع گیہوں کے بدلے دو صاع گی ہوں، اور ایک درہم کے بدلے دو درہم لینا جائز نہیں ۔
Abu Sa eed said: "We used to sell two Sa s of mixed dates for a Sa but the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said (Do not sell) two Sa s dates for a Sa or two Sa s wheat or a Sa or two Dirhams for a Dirham.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4556
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس برنی نامی کھجور لائے، تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ وہ بولے: یہ میں نے ایک صاع دو صاع دے کر خریدی ہیں۔ آپ نے فرمایا: افسوس! یہ تو عین سود ہے، اس کے نزدیک مت جانا ۔
Abu Saeed said: "Bilal brought some Bami dates to the Messenger of Allah ﷺ and he said: What is this? He said: I bought a Sa of them for two Sas. The Messenger of Allah ﷺ said: "O! The essence of Riba, do not approach it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4557
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونا، چاندی کے بدلے سود ہے، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو، کھجور کھجور کے بدلے سود ہے، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو، گی ہوں گیہوں کے بدلے سود ہے، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو، جو جو کے بدلے سود ہے، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ١ ؎۔
Umar bin Al-Khattab said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: (Exchanging) gold for silver is Riba unless it is done on the spot. (Exchanging) dates for dates is Riba unless it is done on the spot. (Exchanging) wheat for wheat is Riba unless it is done on the spot. (Exchanging) barley is Riba unless it is done on the spot.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4558
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے لیکن ابوسعید ؓ کی جو صحیحین میں وارد حدیث میں دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں تفاضل (کمی بیشی) اور نسیئہ (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو جائز اور صحیح ہے اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہوجائے گا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھجور کے بدلے کھجور، گیہوں کے بدلے گی ہوں، جَو کے بدلے جَو اور نمک کے بدلے نمک میں خریدو فروخت نقدا نقد ہے، جس نے زیادہ دیا، یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا، سوائے اس کے کہ جنس بدل جائے ١ ؎۔
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Dates for dates, wheat for wheat, barley for barley, salt for salt, exchanged hand to hand. Whoever gives more or takes more has engaged in Riba unless they are of different types.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4559
Notes · وضاحت
١ ؎: سود صرف انہی چار چیزوں میں کمی زیادتی میں نہیں ہے، بلکہ اگلی حدیث میں دو اور چیزوں کا تذکرہ ہے، نیز صرف انہی چھ کی بیع میں تفاضل سود نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی ہر چیز میں موجود ہے سوائے ان چیزوں کے جن کو شریعت نے مستثنیٰ کردیا ہے جیسے: جانور، پس ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ بیچ سکتے ہیں۔
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ ایک دن عبادہ بن صامت اور معاویہ ؓ اکٹھا ہوئے، عبادہ ؓ نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جَو کو جَو کے بدلے اور کھجور کو کھجور کے بدلے (ان میں سے ایک نے کہا: نمک کو نمک کے بدلے، دوسرے نے یہ نہیں کہا) بیچنے سے منع کیا، مگر برابر برابر اور نقدا نقد، اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی کے بدلے، چاندی سونے کے بدلے، گیہوں جو کے بدلے، جَو گیہوں کے بدلے نقداً نقد بیچیں جیسے بھی ہم چاہیں ١ ؎ ان (دونوں تابعی راویوں) میں سے ایک نے یہ بھی کہا: جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا ۔
It was narrated that Muslim bin Yasar and Abdullah bin Atik said: "Ubadah bin As-Samit and Muawiyah met at a stopping place on the road. Ubadah told them: The Messenger of Allah ﷺ forbade selling gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates"- one of them said: salt for salt," but the other did not say it-"unless it was like for like, hand to hand. And he commanded us to sell gold for silver and silver for gold, and wheat for barley and barley for wheat, and to hand, however we wanted." And one of them said: "Whoever gives more or ask for more has engaged in Riba.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4560
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کمی زیادتی کے ساتھ بیچ سکتے ہیں جب جنس مختلف ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٨ (٢٢٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥١١٣)، مسند احمد (٥/٣٢٠)، انظرأیضا حدیث رقم: ٤٥٦٥، ٤٥٦٦ (صحیح )
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید (ابن عتیک) (ان کو ابن ہرمز بھی کہا جاتا ہے) بیان کرتے ہیں کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ ؓ ایک جگہ اکٹھا ہوئے، عبادہ ؓ نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، گیہوں گی ہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے (ان دونوں راویوں میں سے ایک نے کہا:) نمک نمک کے بدلے، (دوسرے نے یہ نہیں کہا) بیچنے سے منع کیا مگر برابر برابر، نقدا نقد (ان میں سے ایک نے کہا:) جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا، اس نے سود لیا، (اسے دوسرے (راوی) نے نہیں کہا) اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی کے بدلے، چاندی سونے کے بدلے، گیہوں جَو کے بدلے اور جَو گیہوں کے بدلے بیچیں، نقدا نقد جس طرح چاہیں۔
Muslim bin Yasar and Abdullah bin Ubaid who was called Ibn Hurmuz narrated that Ubadah bin As-Samit and Muawiyah met at a stopping place on the road. Ubadah told them: "The Messenger of Allah ﷺ forbade selling gold for gold, silver for silver, dates for dates, wheat for wheat, barley for barley"- one of them said: "salt for salt," but the other did not say it-"unless it was equal amount for equal amount, like for like." One of them said: "Whoever gives more or takes more has engaged in Riba," but he other one did not say it. "And he commanded us to sell gold for silver and silver for gold, and wheat for barley and barley for wheat, hand to hand, however we wanted.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4561
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ ؓ ایک جگہ اکٹھا ہوئے تو عبادہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے، جَو جَو کے بدلے اور کھجور کھجور کے بدلے بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر (ان دونوں راویوں میں سے کسی ایک نے کہا:) اور نمک نمک کے بدلے، (یہ دوسرے نے نہیں کہا اور پھر ان میں سے ایک نے کہا:) جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود کا کام کیا، (یہ دوسرے نے نہیں کہا) اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی سے، چاندی سونے سے، گیہوں جَو سے اور جَو گیہوں سے نقدا نقد بیچیں، جس طرح چاہیں (یعنی کم و زیادتی) ۔ جب یہ حدیث معاویہ ؓ کو پہنچی تو انہوں نے کھڑے ہو کر کہا: کیا بات ہے آخر لوگ رسول اللہ ﷺ سے ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جو ہم نے نہیں سنیں حالانکہ ہم بھی آپ کی صحبت میں رہے، یہ بات عبادہ بن صامت ؓ کو پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور دوبارہ حدیث بیان کی اور بولے: ہم تو اسے ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے گرچہ معاویہ ؓ کو یہ ناپسند ہو۔ قتادہ نے اس حدیث کو اس کے برعکس مسلم بن یسار سے، انہوں نے ابوالاشعث سے انہوں نے عبادہ ؓ سے روایت کیا ہے۔
Muslim bin Yasar and Abdullah bin Ubaid said: "Ubadah bin As-Samit and Muawiyah met at a stopping place on the road. Ubadah said: The Messenger of Allah ﷺ forbade us to sell gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates" - one of them said: "salt for salt, " but the other did not say "unless it was equal amount for equal amount, like for like." One of them said: "Whoever gives more or takes more has engaged in Riba," but the other one did not say it. "And the commanded us to sell gold for silver and silver for gold, and wheat for barley and barley for wheat, hand to hand, however we wanted. News of this Hadith reached Muawiyah and he stood up and said: What is the matter with men who narrate Hadiths from the Messenger of Allah ﷺ when we accompanied him and we never heard him say it? News of that reached Ubadah bin As-Samit and he stood up and repeated the Hadith, then he said: We will narrate what we heard from the Messenger of Allah ﷺ, whether Muawiyah likes it or not." Qatadah contradicted him, he reported it from Muslim bin Yasar, from Abu Al-Ashath, from Ubadah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4562
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے (وہ بدری صحابی ہیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی کہ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے) کہ وہ خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! تم نے خریدو فروخت سے متعلق بعض ایسی چیزیں ایجاد کرلی ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہیں؟ سنو! سونا سونے کے بدلے، برابر برابر وزن کا ہو، ڈلا ہو یا سکہ، چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر وزن ڈالا ہو یا سکہ، اور کوئی حرج نہیں (یعنی) چاندی کو سونے سے نقدا نقد بیچنے میں جب کہ چاندی زیادہ ہو، البتہ اس میں نسیئہ (ادھار) درست نہیں، سنو! گیہوں گیہوں کے بدلے، اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر ہو، البتہ جَو گیہوں کے بدلے نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں جب جَو زیادہ ہو لیکن نسیئہ (ادھار) درست نہیں، سنو! کھجور کھجور کے بدلے برابر برابر ہو یہاں تک کہ انہوں نے ذکر کیا کہ نمک (نمک کے بدلے) برابر برابر ہو، جس نے زیادہ دیا، یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود لیا۔
It was narrated from Ubdah bin As-Samit-who had been present at Badar and had given his pledge to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) swearing not to fear the blame of any blamer for the sake of Allah that Ubadah stood up to deliver a speech and said: "O people, you have invented kinds of transactions, I do not know what they are, but make sure it is gold for gold, of the same weight, or silver for silver, of the same weight. There is nothing wrong with selling silver for gold, hand to hand, giving more silver than gold, but no credit is allowed. When you sell wheat for wheat and barley for barley, it should be measure for measure, but there is nothing wrong with selling barley for wheat, hand to hand, giving more barley than wheat, but no credit is allowed. And when you sell dates for dates, it should be measure for measure" And he mentioned salt, "measure for measure, and whoever gives more or asks for more has engaged in Riba.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4563
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، ڈلا ہو یا سکہ، برابر برابر ہو، چاندی چاندی کے بدلے ڈالا ہو یا سکہ، برابر برابر ہو، نمک نمک کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر اور یکساں ہو، لہٰذا جو زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود لیا ۔ یہ الفاظ محمد بن المثنیٰ کے ہیں، ابراہیم بن یعقوب نے جَو جَو کے بدلے کا ذکر نہیں کیا۔
It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "The Messenger of Allah said: Gold for gold, of equal measure; silver for silver, of equal measure; salt for salt, dates for dates wheat for wheat, barley for barley, like for like. Whoever gives more or takes more has engaged in Riba." (Sahih) The wording is that of Muhammad Yaqub did not mention - "Wheat for wheat".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4564
سلیمان بن علی سے روایت ہے کہ بازار میں ان کے پاس سے ابوالمتوکل کا گزر ہوا، تو کچھ لوگ ان کے پاس گئے، ان لوگوں میں میں بھی تھا، ہم نے کہا: ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ سے بیع صرف ١ ؎ کے بارے میں پوچھیں، تو انہوں نے کہا: میں نے ابو سعید خدری ؓ کو (کہتے) سنا، (اس پر) ایک شخص نے ان سے کہا: آپ کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ابوسعید ؓ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: میرے اور آپ ﷺ کے درمیان ان (ابوسعید ؓ) کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گیہوں گیہوں کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے برابر برابر ہو، اب جو اس میں زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود کا کام کیا، اور سود لینے اور دینے والے (جرم میں) دونوں برابر ہیں۔
It was narrated from Sulaiman bin Ali: "Abu Al-Mutawakkil passed by them in the market and some people, including me, stood up to greet him. We said: We have come to you to ask you about transactions. He said: I heard a man say to Abu Saeed Al-Khudri: Is there anyone between you and the Messenger of Allah ﷺ (in the chain of narrators) apart from Abu Saeed Al-Khudri? He said: There is no one else between him and I. He said: Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt, equal amounts. Whoever gives more than that or takes more has engaged in Riba, and the taker and the giver are the same.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4565
Notes · وضاحت
١ ؎: سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے نقدا بیچنا بیع صرف ہے، اور اسی کو بیع اثمان بھی کہتے ہیں۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: سونا ایک پلڑا دوسرے پلڑے کے برابر ہو ، تو معاویہ ؓ نے کہا: یہ بات تو میرے سمجھ میں نہیں آتی، تو عبادہ ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے پروا نہیں اگر میں اس سر زمین میں نہ رہوں جہاں معاویہ ؓ رہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Gold, equal amount." (One of the narrators) Yaqub did not mention: "Equal amount." Muawiyah said: "This does not mean anything." Ubadah said; "By Allah I do not care if I am in a land where Muawiyah is not present. I bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4566
عمر ؓ کہتے ہیں کہ دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم کی بیع میں کمی زیادتی جائز نہیں، یہ ہم سے نبی اکرم ﷺ کا عہد ہے۔
It was narrated that Mujahid said: "Umar said: Dinar for Dinar, Dirham for Dirham, no difference between them, this is the obligation that our Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) enjoined upon us.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4568
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ نے اس کا ہمیں حکم دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٣٩٨) (صحیح) (مجاہد کا عمر رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )