کھجور کو کھجور کے عوض کم زیادہ فروخت کرنا
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْغَافِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: أَتَى بِلَالٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟، قَالَ: اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوِّهْ، عَيْنُ الرِّبَا لَا تَقْرَبْهُ.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس برنی نامی کھجور لائے، تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ وہ بولے: یہ میں نے ایک صاع دو صاع دے کر خریدی ہیں۔ آپ نے فرمایا: افسوس! یہ تو عین سود ہے، اس کے نزدیک مت جانا ۔
Abu Saeed said: "Bilal brought some Bami dates to the Messenger of Allah ﷺ and he said: What is this? He said: I bought a Sa of them for two Sas. The Messenger of Allah ﷺ said: "O! The essence of Riba, do not approach it.