کھجور کو کھجور کے عوض کم زیادہ فروخت کرنا
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ، وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ، فَقَالَ: أَنَّى لَكُمْ هَذَا ؟، قَالُوا: ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصِحُّ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ، وَاشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ.
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ریان (نامی عمدہ) کھجوریں لائی گئیں اور آپ کی بعل نامی (گھٹیا قسم کی) سوکھی کھجور تھی تو آپ نے فرمایا: تمہارے پاس یہ کھجوریں کہاں سے آئیں؟ لوگوں نے کہا: ہم نے اپنی دو صاع کھجوروں کے بدلے اسے ایک صاع خریدی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، اس لیے کہ یہ چیز صحیح نہیں، البتہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو اور پھر اس نقدی سے اپنی ضرورت کی دوسری کھجوریں خریدو ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-udri that: some dates from trees that were irrigated artificially were brought to the Messenger of Allah ﷺ and the dates of the Messenger of Allah were dates from trees that were nourished by their roots. He said: "Where did you get these from?" They said: "We bought a Sa of them for two Sa s of our dates: He said: "Do not do that, for this is not right. Rather sell your dates and but what you need of these.