ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آگئی، چناچہ اس پر بہت سارا قرض ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے خیرات دو ، تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہوجاتی تو آپ نے (اس کے قرض خواہوں سے) کہا: جو پا گئے ہو وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Sa eed Al-Khudri said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ, a ma suffered loss of some fruit that he had purchased, and his debts increased. The Messenger of Allah ﷺ said: give him charity. So the people gave him charity, but that was not enough to pay of his debts. The Messenger of Allah ﷺ said: "Take what you find but you have no right to or than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4530
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے۔ اس واقعہ میں پھلوں پر آفت آنے کا معاملہ پھلوں کے پک جانے کے بعد بیچنے پر ہوا تھا، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بیچنے والے سے بھرپائی کرانے کے بجائے عام لوگوں سے خیرات دینے کی اپیل کی، اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرض خواہ بقیہ قرض سے ہاتھ دھو لیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حاکم موجودہ مال کو قرض خواہوں کے درمیان بقدر حصہ تقسیم کر دے پھر بھی اس شخص کے ذمہ قرض خواہوں کا قرض باقی رہ جائے تو ایسی صورت میں قرض خواہ اسے تنگ کرنے، قید کرنے اور قرض کی ادائیگی پر مزید اصرار کرنے کے بجائے اسے مال کی فراہمی تک مہلت دے۔ حدیث کا مفہوم یہی ہے اور قرآن کی اس آیت وإن کان ذوعسر ۃ فنظر ۃ إلی میسر ۃ کے مطابق بھی ہے کیونکہ کسی کے مفلس (دیوالیہ) ہوجانے سے قرض خواہوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے، رہی اس حدیث کی یہ بات کہ اس کے علاوہ اب تم کو کچھ نہیں ملے گا تو یہ اس آدمی کے ساتھ خاص ہوسکتا ہے، کیونکہ اصولی بات وہی ہے جو اوپر گزری۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٤ (البیوع ٢٥) (١٥٥٦)، سنن ابی داود/البیوع ٦٠ (٣٤٦٩)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٤ (٦٥٥)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٥ (٢٣٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٠)، مسند احمد (٣/٥٦، ٥٨)، ویأتي عند المؤلف في باب ٩٥ برقم: ٤٦٨٢ (صحیح )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کئی سال تک کے لیے پھل بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade selling the harvest for a number of years (in advance.)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4531
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگلے سالوں میں پھل آئیں گے یا نہیں، اور پھل نہ آنے کی صورت میں خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہے اس طرح کی بیع کو بیع غرر یعنی دھوکے کی بیع کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم /البیوع ١٦ (١٥٣٦)، سنن ابی داود/البیوع ٢٤ (٣٣٧٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٣ (٢٢١٨)، (تحفة الأشراف: ٢٢٦٩)، مسند احمد (٣/٣٠٩)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٤٦٣١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے درخت کے پھل (کھجور) توڑے ہوئے پھلوں (کھجور) سے بیچنے سے منع فرمایا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: مجھ سے زید بن ثابت ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایا میں اجازت عطا فرمائی ١ ؎۔
It was narrated from Salim, from his father, that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade selling fresh dates still on the tree for dried dates. Ibn Umar said: "Azid bin Thabit narrated to me, that Allahs Messenger permitted that in the case o Ayaya.
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4532
Notes · وضاحت
١ ؎: عرایا: عریا کی شکل یہ ہوتی تھی کہ باغ کا مالک کسی غریب و مسکین کو درختوں کے درمیان سے کوئی درخت صدقہ کردیتا تھا، تو ایسے میں اگر مسکین اور اس کے بال بچوں کے باغ میں باربار آنے جانے سے مالک کو تکلیف ہوتی ہو تو اس کو یہ اجازت دی گئی کہ اس درخت پر لگے پھل (تر کھجور) کے بدلے توڑی ہوئی کھجور کا اندازہ لگا کر دیدے، یہ ضرورت کے تحت خاص اجازت ہے۔ عام حالات میں اس طرح کی بیع جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥٢٤، وحدیث زید بن ثابت وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٧٥ (٢١٧٣)، ٨٢ (٢١٨٤، ٢١٨٨)، ٨٤ (٢١٩٢)، المساقاة ١٧ (٢٣٨٠)، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٣٩)، سنن الترمذی/البیوع ٦٣ (١٣٠٠، ١٣٠٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٥ (٢٢٦٨، ٢٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ٣٧٢٣، موطا امام مالک/البیوع ٩ (١٤)، مسند احمد (٢/٥، ٨، ٥/١٨٢، ١٨٦، ١٨٨، ١٩٠)، سنن الدارمی/البیوع ٢٤ (٢٦٠٠)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٥٤٠، ٤٥٤٢- ٤٥٤٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں موجود پھل کو متعین توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنا اس طور پر کہ زیادہ ہوا تو بھی میرا (یعنی کا) اور کم ہوا تو بھی میرے ذمہ۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah ﷺ forbade Muzabanah. Ad Muzabanah is when what is art the tops of the trees is sold for a certain amount f dried dates; if there are more then I gain, and if there are less the I lose.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4533
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، مزانبہ درخت پر لگے کھجور کو توڑے ہوئے کھجور سے ناپ کر بیچنا، اور بیل پر لگے تازہ انگور کو توڑے ہوئے انگور (کشمش) سے ناپ کر بیچنا۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah forbade Muzabana, and Muzabanah means selling fresh dates still on tree for dried dates by measure, and selling fresh grapes for raisins by measure.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4534
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے زید بن ثابت ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایا میں اجازت دی ہے۔
It was narrated from Salim that his father said: "Zaid bin Thabit told me that the Messenger of Allah ﷺ granted a concession regarding the sale of Arays.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4536
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایا میں خشک کھجور کو تر کھجور سے بیچنے کی اجازت دی ہے۔
Kharijah bin Zaid bin Thabit narrated from his father that: the Messenger of Allah ﷺ granted a concession regarding Araya sales regarding dried dates and fresh dates.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4537
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عاریت والی بیع میں اجازت دی کہ (اس کی تازہ کھجوروں کو) اندازہ کر کے (توڑی ہوئی) کھجوروں کے بدلے بیچی (جا سکتی) ہے۔
It was narrated from Zaid bin Thabit that: the Messenger of Allah ﷺ granted a concession allowing Araya sales by estimation.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4538
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے زید بن ثابت ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عریہ کی اجازت دی کہ اس (کی تازہ کھجوروں کو) اندازہ لگا کر کے خشک کھجوروں کے بدلے بیچی (جا سکتی) ہے۔
Zaid bin Thabit narrated that: the Messenger of Allah ﷺ granted a concession allowing Araya sales for dried dates by estimation.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4539
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ان سے زید بن ثابت ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عاریت والی بیع میں اجازت دی کہ وہ توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور سے بیچی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز میں رخصت نہیں دی۔
It was narrated the Zaid bin Thabit sadi: "The Messenger of Allah ﷺ granted a concession allowing Araya sales for fresh dates and for dried dates, but he did not allow anything other than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4540
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عاریت والی بیع میں (یہ) اجازت دی کہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کھجور اندازہ لگا کر کے بیچی جائے ١ ؎۔
It was narrated from Au Hurairah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) granted a concession allowing estimation for Ararya sales, so long as they were five Wasq or less then that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4541
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اوپر جو عاریت والی بیع میں یہ اجازت موجود ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور کے بدلے بیچ سکتے ہیں، یہ ایک ضرورت کے تحت اجازت ہے، اور بات ضرورت کی ہے تو پانچ وسق سے یہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے، اس لیے صرف پانچ وسق تک کی اجازت ہے۔
سہیل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پھل بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ پک نہ جائیں اور بیع عرایا میں اجازت دی کہ اندازہ لگا کر کے بیچا جائے، تاکہ کچی کھجور والے تازہ کھجور کھا سکیں۔
It was narrated from Sahl bin Abi Hathamah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade selling fruits before their condition was known, but he granted a concession allowing Araya sales by estimate, so its people could eat fresh dates.
صحيح ق دون قوله حتى يبدو صلاحهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4542
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، یعنی: درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھل سے بیچنا، سوائے اصحاب عرایا کے، آپ نے انہیں اس کی اجازت دی۔
Rafi bin Khadij and Sahl Bi Abi Hathamah narrated that the Messenger of Allah ﷺ forbade Muzabanah, which means selling fresh dates still on the tree for dried dates, except in cases of Araya, for which he gave permission. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4543
صحابہ کرام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تخمینہ (اندازہ) لگا کر کے عاریت والی بیع کی اجازت دی۔
It was narrated from Bashir bin yasar that the Companions of the Messenger of Allah ﷺ said: "The Messenger of Allah granted a concession allowing Araya sales by estimate.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4544
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجور بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اپنے اردگرد موجود لوگوں سے سوال کیا: جب تازہ کھجور سوکھ جاتی ہے تو کیا کم ہوجاتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated that Sad said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about (buying) fresh dates with dried dates, and he said to those who were around him: Will fresh dates decrease (in weight or volume) when they dry out?" they said Yes, so he forbade that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4545
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی کے پاس خشک کھجوریں ہوں اور وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتا ہے تو ایک دوسرے کے بدلے برابر یا کم و بیش کے حساب سے خریدو فروخت کرنے کی بجائے خشک کھجوروں کو پیسوں سے فروخت کر دے، پھر ان پیسوں سے تازہ کھجوریں خرید لے، ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے (دیکھئیے نمبر ٤٥٥٧ ) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ١٨ (٣٣٦٠)، سنن الترمذی/البیوع ١٤ (١٢٢٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٥ (٢٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ٣٨٥٤)، موطا امام مالک/البیوع ١٢ (٢٢)، مسند احمد ١/١٧٥، ١٧٩ (صحیح )
سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوکھی کھجور کے بدلے تازہ کھجور بیچنے کے متعلق سوال کیا گیا؟ تو آپ نے فرمایا: کیا تازہ کھجور سوکھنے پر کم ہوجائے گی؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔
It was narrated that Sa d bin Malik said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about (buying) said; Will fresh dates decrees (in weight or volume) when they dry out? They said yes so he forbade that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4546
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بےناپی کھجور کے ڈھیر کو ناپی ہوئی کھجور سے بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade selling a heap of dried dates whose volume is unknown for known volume of dried dates.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4547
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: دونوں کھجوریں خشک ہوں جن کو برابر برابر کے حساب سے بیچ سکتے ہیں، مگر دونوں کی ناپ معلوم ہونی چاہیئے، کیونکہ ایسی چیزوں کی خریدو فروخت میں کم و بیش ہونا جائز نہیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اناج کا ڈھیر اناج کے ڈھیر سے نہیں بیچا جائے گا ١ ؎، اور نہ ہی اناج کا ڈھیر ناپے اناج سے ٢ ؎۔
Abu Zubair narrated that he heard Jabir bin Abdullah say: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: A heap of grain should not be sold for a heap of grain, or for a heap of grain of known measure.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4548
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ دونوں کی مقدار معلوم نہیں، تو ہوسکتا ہے کہ ایک زیادہ ہو اور ایک کم، جب کہ تفاضل (کمی زیادتی) جائز نہیں۔ ٢ ؎: کیونکہ گرچہ ایک ڈھیر کی مقدار معلوم ہے مگر دوسرے کی معلوم نہیں، تو ہوسکتا ہے کہ کمی زیادتی ہوجائے، جو جائز نہیں، یہ اس صورت میں ہے جب دونوں ڈھیروں کی جنس ایک ہو۔