چند سال کے پھل فروخت کرنا
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيكٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: عَتِيكٌ بِالْكَافِ وَالصَّوَابُ عَتِيقٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ.
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کئی سال تک کے لیے پھل بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade selling the harvest for a number of years (in advance.)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4531
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگلے سالوں میں پھل آئیں گے یا نہیں، اور پھل نہ آنے کی صورت میں خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہے اس طرح کی بیع کو بیع غرر یعنی دھوکے کی بیع کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم /البیوع ١٦ (١٥٣٦)، سنن ابی داود/البیوع ٢٤ (٣٣٧٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٣ (٢٢١٨)، (تحفة الأشراف: ٢٢٦٩)، مسند احمد (٣/٣٠٩)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٤٦٣١) (صحیح )