Sunan An Nasai 4538

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4538Sunan An Nasai

تازہ انگور خشک انگور کے عوض فروخت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، مزانبہ درخت پر لگے کھجور کو توڑے ہوئے کھجور سے ناپ کر بیچنا، اور بیل پر لگے تازہ انگور کو توڑے ہوئے انگور (کشمش) سے ناپ کر بیچنا۔

It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah forbade Muzabana, and Muzabanah means selling fresh dates still on tree for dried dates by measure, and selling fresh grapes for raisins by measure.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4534
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٧٥ (٢١٧١)، ٨٢ (٢١٨٥)، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ٨٣٦٠)، موطا امام مالک/البیوع ١٣(٢٣)، مسند احمد (٢/٧، ٦٣) (صحیح )