Sunan An Nasai 4537

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4537Sunan An Nasai

درخت کے پھلوں کو خشک پھلوں کے بدلہ فروخت کرنا

أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى، إِنْ زَادَ لِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں موجود پھل کو متعین توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنا اس طور پر کہ زیادہ ہوا تو بھی میرا (یعنی کا) اور کم ہوا تو بھی میرے ذمہ۔

It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah ﷺ forbade Muzabanah. Ad Muzabanah is when what is art the tops of the trees is sold for a certain amount f dried dates; if there are more then I gain, and if there are less the I lose.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4533
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٧٥ (٢١٧٢)، صحیح مسلم/البیوع ١٤(١٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ٧٥٢٢)، مسند احمد (٢/٥، ٦٤) (صحیح )