Sunan An Nasai 4545

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4545Sunan An Nasai

عرایا میں تر کھجور دینا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عاریت والی بیع میں (یہ) اجازت دی کہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کھجور اندازہ لگا کر کے بیچی جائے ١ ؎۔

It was narrated from Au Hurairah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) granted a concession allowing estimation for Ararya sales, so long as they were five Wasq or less then that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4541
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اوپر جو عاریت والی بیع میں یہ اجازت موجود ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور کے بدلے بیچ سکتے ہیں، یہ ایک ضرورت کے تحت اجازت ہے، اور بات ضرورت کی ہے تو پانچ وسق سے یہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے، اس لیے صرف پانچ وسق تک کی اجازت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٨٣ (٢١٩٠)، المساقاة ١٧ (٢٣٨٢)، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤١)، سنن ابی داود/البیوع ٢١ (٣٣٦٤)، سنن الترمذی/البیوع ٦٣ (١٣٠١)، موطا امام مالک/البیوع ٩ (١٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٣)، مسند احمد (٢/٢٣٧) (صحیح )