خرید و فروخت کے مسائل و احکام

Sunan An Nasai · Chapter 44 · 257 hadiths · Page 8 of 13

4593Sunan An Nasai

سونے کے عوض چاندی لینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ؟، قَالَ: لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِسِعْرِ يَوْمِهَا، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: ٹھہریے! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں؟ میں بقیع میں دینار کے بدلے اونٹ بیچتا ہوں اور درہم لیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اسی دن کے بھاؤ سے لو تو کوئی حرج نہیں جب تک کہ تم ایک دوسرے سے الگ نہ ہو اور تمہارے درمیان ایک دوسرے پر کچھ باقی ہو ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: Wait, I want to ask you something. I sell camels in Al-Baqi with a price set in Dinars but I accept Dirhams instead. He said: There is nothing wrong with it if you take the price on that day, still unfinished business between you both (buyer and seller)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4589
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥٨٦ (ضعیف )
4594Sunan An Nasai

تو لنے میں زیادہ دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، دَعَا بِمِيزَانٍ فَوَزَنَ لِي وَزَادَنِي.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ آئے تو آپ نے ترازو منگا کر اس سے مجھے تول کردیا اور مجھے اس سے کچھ زیادہ دیا ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to Al-Madinah, he called for a scale and weighed (something) for me and gave me more.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4590
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر بغیر شرط کے خریداری ( یا قرض دار ) اپنی طرف سے قیمت میں زیادہ کر دے تو اس کو علماء نے مستحب قرار دیا ہے، اور اس کو خفیہ صدقہ سے تعبیر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٥٩ (٤٤٣)، الوکالة ٨ (٢٣٠٩)، الاستقراض ٧ (٢٣٩٤)، الہبة ٣٢ (٣٦٠٣، ٣٦٠٤)، صحیح مسلم/المسافرین ١١ (٧١٥)، سنن ابی داود/البیوع ١١(٣٣٤١)، (تحفة الأشراف: ٢٥٧٨)، مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣٠٢، ٣٦٣) سنن الدارمی/البیوع ٤٦ (٢٦٢٦) (صحیح )
4595Sunan An Nasai

تو لنے میں زیادہ دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَضَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَنِي.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا قرض دیا اور مجھے مزید دیا۔

It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah ﷺ paid off what he owed me, and gave me more.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4591
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4596Sunan An Nasai

تولتے وقت جھکتا دینا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى وَوَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ، فَاشْتَرَى مِنَّا سَرَاوِيلَ، فَقَالَ لِلْوَزَّانِ: زِنْ وَأَرْجِحْ.

سوید بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی ؓ مقام ہجر سے کپڑا لائے، ہم منیٰ میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ آگئے، وہاں ایک تولنے والا تھا جو اجرت پر تول رہا تھا، تو آپ نے ہم سے پاجامہ خریدا اور تولنے والے سے فرمایا: جھکتا ہوا تولو ۔

It was narrated that Suwaid bin Qais said: "Makhrafah Al-Abdi and I brought some cloth from Hajar, and the Messenger of Allah ﷺ came to us while we were in Mina where there w a man who weighed (goods) in return for payment. He bought some trousers from us, and said to the man who weighed: Weigh it, and allow more.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4592
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧ (٣٣٣٦)، سنن الترمذی/البیوع ٦٦(١٣٠٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٤(٢٢٢٠)، اللباس ١٢ (٣٥٧٩)، (تحفة الأشراف: ٤٨١٠)، مسند احمد (٤/٣٥٢)، سنن الدارمی/البیوع ٤٧ (٢٦٢٧) (صحیح )
4597Sunan An Nasai

تولتے وقت جھکتا دینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَفْوَانَ، قَالَ: بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَأَرْجَحَ لِي.

ابوصفوان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت سے قبل پاجامے بیچے تو آپ نے میرے لیے جھکتی ہوئی تول تولی۔

It was narrated that Simak bin Harb said: "I heard Abu Safwan say: I bought a pair of trousers from the Messenger of Allah ﷺ before the Hijrah, and he weighed it for me and allowed me

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4593
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4598Sunan An Nasai

تولتے وقت جھکتا دینا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْمُلَائِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْسُفْيَانَ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمِكْيَالُ عَلَى مِكْيَالِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَالْوَزْنُ عَلَى وَزْنِ أَهْلِ مَكَّةَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مکیال (ناپنے کا آلہ) مدینے والوں کا معتبر ہے اور وزن اہل مکہ کا معتبر ہے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "Volume is to be measured according to the system of the people of Al-Madinah, and weight is to be measured according to the system of the people of Makkah." (Sahih) This is the wording of Ishaq (one of the narrators).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4594
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٢١/م (صحیح )
4599Sunan An Nasai

غلہ فروخت کرنے کے ممانعت جس وقت تک اس کو تول نہ لے یا نہ ناپ نہ کر لے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever buys food, let him not sell it until he has taken possession of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4595
Notes · وضاحت
١ ؎: خریدو فروخت میں شریعت اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز کو خریدار جب تک بیچنے والے سے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے دوسرے سے نہ بیچے، اور یہ تحویل و تملک اور قبضہ ہر چیز پر اسی چیز کے حساب سے ہوگا، نیز اس سلسلے میں ہر علاقہ کے عرف ( رسم رواج ) کا اعتبار بھی ہوگا کہ وہاں کس چیز پر کیسے قبضہ مانا جاتا ہے، البتہ منقولہ چیزوں کے سلسلے میں شریعت نے ایک عام اصول برائے مکمل قبضہ یہ بتایا ہے کہ اس چیز کو بیچنے والے کی جگہ سے خریدار اپنی جگہ میں منتقل کرلے، یا ناپنے والی چیز کو ناپ لے اور تولنے والی چیز کو تول لے، اور اندازہ والی چیز کی جگہ بدل لے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥١ (٢١٢٦)، ٥٤(٢١٣٥)، ٥٥ (٢١٣٦)، صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٦)، سنن ابی داود/البیوع ٦٧ (٣٤٩٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٧ (٢٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٧)، موطا امام مالک/البیوع ١٩ (٤٠)، مسند احمد (١/٥٦، ٦٢)، سنن الدارمی/البیوع ٢٥ (٢٦٠٢) (صحیح )
4600Sunan An Nasai

غلہ فروخت کرنے کے ممانعت جس وقت تک اس کو تول نہ لے یا نہ ناپ نہ کر لے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے غلہ خریدا تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اس کو اپنی تحویل میں نہ لے لے ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever buys food let him not sell it until he has taken possession of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4596
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٢٥١)، موطا امام مالک/البیوع ١٩ (٤١) (صحیح )
4601Sunan An Nasai

غلہ فروخت کرنے کے ممانعت جس وقت تک اس کو تول نہ لے یا نہ ناپ نہ کر لے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اناج خریدے تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے ناپ نہ لے ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever buys food, let him not sell it until he has checked its weight.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4597
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٤ (٢١٣٢)، ٥٥ (٢١٣٥)، صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٥)، سنن ابی داود/البیوع ٦٧ (٣٤٩٦)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٧)، مسند احمد (١/٢٥٢، ٢٥٦، ٣٦٨، ٣٦٩)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٦٠٣، ٤٦٠٤ (صحیح )
4602Sunan An Nasai

غلہ فروخت کرنے کے ممانعت جس وقت تک اس کو تول نہ لے یا نہ ناپ نہ کر لے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَالَّذِي قَبْلَهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح سے سنا، (اس سے پہلی والی روایت میں حتى يقبضه کے الفاظ ہیں) ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA)said: "I heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say" something similar to the preceding two reports "until he takes possession of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4598
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٥ (٢١٣٥)، صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٥)، سنن ابی داود/البیوع ٦٧ (٣٤٩٧)، سنن الترمذی/البیوع ٥٦ (١٢٩١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٧ (٢٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٦)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٧٠، ٢٨٥) (صحیح )
4603Sunan An Nasai

غلہ فروخت کرنے کے ممانعت جس وقت تک اس کو تول نہ لے یا نہ ناپ نہ کر لے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى الطَّعَامُ.

طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو کہتے ہوئے سنا: ناپ تول کرلینے سے جس چیز کے پہلے بیچنے سے رسول اللہ ﷺ نے روکا وہ غلہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Tawus said: "I heard Ibn Abbas say: As for that which the Messenger of Allah ﷺ forbade, (it is) selling before taking possession of food.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4599
Notes · وضاحت
١ ؎: غلہ تو ہے ہی، غلہ کی طرح منتقل کی جانے والی، ناپنے اور تولے جانے والی دیگر چیزوں کے بارے میں بھی یہی حکم ہوگا، جیسا کہ خود ابن عباس ؓ کا خیال ہے، دیکھئیے اگلی روایت۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٦٠١ (صحیح )
4604Sunan An Nasai

غلہ فروخت کرنے کے ممانعت جس وقت تک اس کو تول نہ لے یا نہ ناپ نہ کر لے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَحْسَبُ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی گیہوں خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک اس کو اپنی تحویل میں نہ لے لے ۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ہر چیز گیہوں ہی کی طرح ہے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever buys food let him not sell it until he takes possession of it. Ibn Abbas said: "I think the same applies to everything else as to food.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4600
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٦٠١ (صحیح )
4605Sunan An Nasai

غلہ فروخت کرنے کے ممانعت جس وقت تک اس کو تول نہ لے یا نہ ناپ نہ کر لے

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبِعْ طَعَامًا حَتَّى تَشْتَرِيَهُ وَتَسْتَوْفِيَهُ.

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اناج (غلہ) مت بیچو جب تک اسے خرید نہ لو اور ناپ نہ لو ۔

It was narrated that Hakim bin Hizam said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "Do not sell food until you have bought it and taken possession of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4601
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٤٣٠)، مسند احمد (٣/٤٠٢، ٤٠٣) (صحیح )
4606Sunan An Nasai

غلہ فروخت کرنے کے ممانعت جس وقت تک اس کو تول نہ لے یا نہ ناپ نہ کر لے

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ذَلِكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ الْجُشَمِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اس سند سے بھی حکیم بن حزام ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔

Ibn Jurayi said: "Ata told me that from Abdullah bin Ismah Al-Jushami from Hakim bin Hizam from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4602
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٤٢٩) (صحیح )
4607Sunan An Nasai

غلہ فروخت کرنے کے ممانعت جس وقت تک اس کو تول نہ لے یا نہ ناپ نہ کر لے

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْحِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: قَالَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ: ابْتَعْتُ طَعَامًا مِنْ طَعَامِ الصَّدَقَةِ، فَرَبِحْتُ فِيهِ قَبْلَ أَنْ أَقْبِضَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: لَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ. `

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے صدقے کے اناج میں سے خریدا تو اسے اپنی تحویل میں لینے سے پہلے ہی مجھے اس میں نفع ملا، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: جب تک تحویل میں نہ لے لو اسے مت بیچو ۔

Hakim bin Hizam said: "I bought some food and made food and made a profit on it (by selling it) before I took possession of it. I came to the Messenger of Allah ﷺ and told him about that and he said: Do not sell it until you take possession of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4603
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٤٢٤) (صحیح )
4608Sunan An Nasai

جو شخص غلہ ناپ کر خریدے اس کا فروخت کرنا درست نہیں ہے جس وقت تک اس پر قبضہ نہ کر لے

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی ناپ کر خریدا ہوا اناج بیچے جب تک کہ اسے پورا پورا اپنی تحویل میں نہ لے لے۔

It was narrated from Ibn Umar that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade anyone to sell food that he brought.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4604
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٦٧ (٣٤٩٥)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٥)، مسند احمد (٢/١١١) (صحیح )
4609Sunan An Nasai

جو شخص غلہ کا انبار بغیر ناپے ہوئے خرید لے اس کا اس جگہ سے اٹھانے سے قبل فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ، فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَا فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اناج خریدتے تھے، پھر آپ ایک شخص کو ہمارے پاس بھیجتے جو ہمیں حکم دیتا کہ اسے اس جگہ سے کسی دوسری جگہ منتقل کرلے جہاں سے ہم نے خریدا ہے قبل اس کے کہ ہم اسے فروخت کریں۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "During the time the Messenger of Allah ﷺ we used to buy food, and he sent someone to tell us to remove it from the place where we had bought it, to another place, before selling.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4605
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٧)، سنن ابی داود/البیوع ٦٧ (٣٤٩٣)، (تحفة الأشراف: ٨٣٧١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٥٤ (٢١٣١)، ٥٦ (٢١٣٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣١ (٢٢٢٢)، موطا امام مالک/البیوع ١٩ (٤٢)، مسند احمد (١/٥٦، ١١٢) (صحیح )
4610Sunan An Nasai

جو شخص غلہ کا انبار بغیر ناپے ہوئے خرید لے اس کا اس جگہ سے اٹھانے سے قبل فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْتَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى السُّوقِ جُزَافًا، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں بازار کی اونچی جگہ پر ڈھیر خریدا کرتے تھے تو آپ نے انہیں اسے اسی جگہ بیچنے سے روکا جب تک کہ وہ اسے منتقل نہ کرلیں۔

It was narrated from Ibn Umar that: they used to buy and sell during the time of the Messenger of Allah ﷺ at the top of the marketplace without measuring. The Messenger of Allah ﷺ forbade them to sell it in the place where they had bought it until they moved it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4606
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٧٢ (٢١٦٧)، سنن ابی داود/البیوع ٦٧ (٣٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٨١٥٤) (صحیح )
4611Sunan An Nasai

جو شخص غلہ کا انبار بغیر ناپے ہوئے خرید لے اس کا اس جگہ سے اٹھانے سے قبل فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرُّكْبَانِ، فَنَهَاهُمْ أَنْ يَبِيعُوا فِي مَكَانِهِمُ الَّذِي ابْتَاعُوا فِيهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ إِلَى سُوقِ الطَّعَامِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں لوگ سواروں سے اناج (غلہ) خریدتے تھے تو آپ نے انہیں اسی جگہ بیچنے سے روکا جہاں انہوں نے اسے خریدا تھا، یہاں تک کہ وہ اسے غلہ منڈی منتقل کرلیں۔

It was narrated from Nafi that Ibn UMar told them, that: they used to buy foold from the riders at the time of the Messenger of Allah ﷺ and he forbade them to sell it in the place where they had bought it until they moved it to the food market.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4607
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٤٢٥) (صحیح )
4612Sunan An Nasai

جو شخص غلہ کا انبار بغیر ناپے ہوئے خرید لے اس کا اس جگہ سے اٹھانے سے قبل فروخت کرنا

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّاسَ يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوْا الطَّعَامَ جُزَافًا، أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کی پٹائی اس بات پر ہوتی تھی کہ جب وہ اناج اندازہ لگا کر خریدیں تو اسے گھر تک لانے سے پہلے ہی فروخت کردیں۔

It was narrated from Salim that his father said: "I saw people being beaten (in punishment) at the time of the Messenger of Allah ﷺ for buying food unmeasured and selling it before bringing it to their own camp.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4608
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ٤٢ (٦٨٥٢)، صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٧)، سنن ابی داود/البیوع ٦٧ (٣٤٩٨)، (تحفة الأشراف: ٦٩٣٣)، مسند احمد (٢/٧، ١٥٠) (صحیح )