تو لنے میں زیادہ دینے سے متعلق
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، دَعَا بِمِيزَانٍ فَوَزَنَ لِي وَزَادَنِي.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ آئے تو آپ نے ترازو منگا کر اس سے مجھے تول کردیا اور مجھے اس سے کچھ زیادہ دیا ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to Al-Madinah, he called for a scale and weighed (something) for me and gave me more.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4590
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر بغیر شرط کے خریداری ( یا قرض دار ) اپنی طرف سے قیمت میں زیادہ کر دے تو اس کو علماء نے مستحب قرار دیا ہے، اور اس کو خفیہ صدقہ سے تعبیر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٥٩ (٤٤٣)، الوکالة ٨ (٢٣٠٩)، الاستقراض ٧ (٢٣٩٤)، الہبة ٣٢ (٣٦٠٣، ٣٦٠٤)، صحیح مسلم/المسافرین ١١ (٧١٥)، سنن ابی داود/البیوع ١١(٣٣٤١)، (تحفة الأشراف: ٢٥٧٨)، مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣٠٢، ٣٦٣) سنن الدارمی/البیوع ٤٦ (٢٦٢٦) (صحیح )