ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ مدت تک کے لیے ادھار اناج خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ رہن رکھی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ bought some food from a Jew with payment to be made later, and he put his shield in pledge for that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4609
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جو کی ایک روٹی اور بودار چربی لے گئے، اور آپ نے اپنی زرہ مدینے کے ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی تھی اور اپنے گھر والوں کے لیے اس سے جَو لیے تھے۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that he brought some barley bread and rancid oil to the Messenger of Allah ﷺ. He said: "He put his armor in pledge for that with a Jew in Al-Madinah, and he took some barley from him for his family.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4610
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ١ ؎، اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ٢ ؎، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہ ٣ ؎۔
It was narrated fromAmr bin Shuaib, from his father that his grandfather, Said: that the Messenger of Allah ﷺ said: "It is not permissible to lend on the condition of a sale, or to have two conditions in one transaction, or to sell what you do not have." (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4611
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا خریدار کے ہاتھ آٹھ سو کا سامان ایک ہزار روپے کے بدلے اس شرط پر بیچے کہ بیچنے والا خریدار کو ایک ہزار روپے بطور قرض دے گا ( دیکھئیے باب رقم ٧٠ ) گویا بیع کی اگر یہ شکل نہ ہوتی تو بیچنے والا خریدار کو قرض نہ دیتا اور اگر قرض کا وجود نہ ہوتا تو خریدار یہ سامان نہ خریدتا۔ ٢ ؎: مثلاً کوئی کہے کہ یہ غلام میں نے تجھ سے ایک ہزار نقد اور دو ہزار ادھار میں بیچا ( دیکھئیے باب رقم ٧٢ ) یہ ایسی بیع ہے جو دو شرطں ہیں یا مثلاً کوئی یوں کہے کہ میں نے تم سے اپنا یہ کپڑا اتنے اتنے میں اس شرط پر بیچا کہ اس کا دھلوانا اور سلوانا میرے ذمہ ہے۔ ٣ ؎: بیچنے والے کے پاس جو چیز موجود نہیں ہے اسے بیچنے سے اس لیے روک دیا گیا ہے کہ اس میں دھوکہ دھڑی کا خطرہ ہے جیسے کوئی شخص اپنے بھاگے ہوئے غلام یا اونٹ بیچے جب کہ ان دونوں کے واپسی کی ضمانت بیچنے والا نہیں دے سکتا البتہ ایسی چیز کی بیع جو اپنی صفت کے اعتبار سے خریدار کے لیے بالکل واضح ہو جائز ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے بیع سلم کی اجازت دی ہے باوجود یہ کہ بیچی جانے والی چیز بیچنے والے کے پاس بروقت موجود نہیں ہوتی۔ ( کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہوسکتا ہے ) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧ (٣٥٠٤)، سنن الترمذی/البیوع ١٩ (١٢٣٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٠ (٢١٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٦٤)، مسند احمد (٢/١٧٨)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٦٣٤، ٤٦٣٥ (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس چیز کا بیچنا آدمی کے لیے جائز نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No man is bound by a transaction involving the sale of something that he does not possess.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4612
حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس آدمی آتا ہے اور وہ مجھ سے ایسی چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی۔ کیا میں اس سے اس چیز کو بیچ دوں اور پھر وہ چیز اسے بازار سے خرید کر دے دوں؟ آپ نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اسے مت بیچو ۔
It was narrated that Hakim bin Hizam said: "I asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) "O Messenger of Allah, a man may come to me and ask me to sell him something that I do not have. Can I sell it to him then go and buy it from the market? He said: Do not sell what you do not have.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4613
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر ؓ کے زمانے میں گی ہوں، جَو اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم، آیا ان کے یہاں یہ چیزیں ہوتی بھی تھیں یا نہیں۔ اور ابن ابزیٰ نے (سوال کرنے پر) اسی طرح کہا۔
It was narrated that Abdullah Ibn Abi Awfa about paying in advance. He said: We used to pay in advance during the time of the Messenger of Allah ﷺ and Abu Bakr and Umar, for wheat, barley and dates, paying people whom we did not know if they had those things or not.Ibn Abza said meaning, similarly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4614
Notes · وضاحت
١ ؎: سلف یا سلم یہ ہے کہ خریدار بیچنے والے کو سامان کی قیمت پیشگی دے دے اور سامان کی ادائیگی کے لیے ایک میعاد مقرر کرلے، ساتھ ہی سامان کا وزن وصف اور نوعیت وغیرہ متعین ہو۔ ( اگلی حدیث دیکھیں )
ابن ابی مجالد بیان کرتے ہیں کہ ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد میں سلم کے سلسلے میں بحث ہوگئی تو انہوں نے مجھے ابن ابی اوفی ؓ کے پاس بھیجا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اور ابوبکر و عمر ؓ کے زمانے میں گیہوں، جَو، کشمش اور کھجور میں بیع سلم کیا کرتے تھے، ایسے لوگوں سے جن کے پاس ہم یہ چیزیں نہیں پاتے اور (ابن ابی المجالد کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابزیٰ سے پوچھا تو انہوں نے اسی طرح کہا۔
Ibn Abi Al-Mujalid-on one occasion he (the narrator) said Abdullah, and on another occasion he said Muhammad - said: "Abu Burdah and Abdullah bin Shaddad argued about payment in advance. They sent me to Ibn Abi Awfa and I asked him (about that). He said: We used to pay in advance during the time of the Messenger of Allah ﷺ and Abu Bakr and Umar, for wheat, barley, raisins and dates, paying people whom we did not see it with them." And I asked Ibn Abza and he said something similar to that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4615
ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو لوگ کھجور میں دو تین سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے، آپ نے انہیں روک دیا، اور فرمایا: جو بیع سلم کرے تو مقررہ ناپ، مقررہ وزن میں مقررہ مدت تک کے لیے کرے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Al-Minhal said: "I heard Ibn Abbas say: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came (to al-Madinah), they used to pay in advance for dates, two or three years in advance. He forbade them that and said: whoever pays in advance for dates, let him pay for a known amount or a known weight, to be delivered at a known time.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4616
Notes · وضاحت
١ ؎: ناپ وزن اور اس میں یہ تعیین و تحدید اس لیے ہے تاکہ جھگڑے اور اختلاف پیدا ہونے والی بات نہ رہ جائے، اگر مدت نہ معلوم ہو اور وزن اور ناپ نہ متعین ہو تو بیع سلف صحیح نہ ہوگی۔
ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے اونٹ کے بچے میں بیع سلم کی، وہ شخص اپنے نوجوان اونٹ کا تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے ایک شخص سے کہا: جاؤ، اس کے لیے نوجوان اونٹ خرید دو ، اس نے آپ کے پاس آ کر کہا: مجھے تو سوائے بہترین، رباعی (جو ساتویں برس میں لگ چکا ہو) نوجوان اونٹ کے کوئی نہیں ملا، آپ نے فرمایا: اسے وہی دے دو، اس لیے کہ بہترین مسلمان وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں بہتر ہو ۔
It was narrated from Abu Rafi that the Messenger of Allah ﷺ borrowed a young camel from a man, and then he came to get his camel back. He said to a man: "Go and buy a young camel for him." He came and said: "I could only get a Raba camel of good quality." He said: "Give it to him, for the best of the Muslims is the one who is best in repaying.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4617
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ذمہ ایک شخص کا ایک جوان اونٹ باقی تھا، وہ آپ کے پاس تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے (صحابہ سے) فرمایا: اسے دے دو ، انہیں اس سے زیادہ عمر کے ہی اونٹ ملے تو آپ نے فرمایا: اسی کو دے دو ، اس نے کہا: آپ نے پورا پورا ادا کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man had lent a camel of a certain age to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he came to get it back. He said: "Give it to him" But they could only find a camel that was older than it. He said: "Give it to him." He said: "You have repaid me well," The Messenger of Allah ﷺ said; "The best of you is the one who is best in repaying.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4618
عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک جوان اونٹ بیچا تو میں آپ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا، آپ نے فرمایا: میں تو تمہیں بختی (عمدہ قسم کا اونٹ) دوں گا ، پھر آپ نے مجھے ادا کیا تو بہت اچھا ادا کیا، اور آپ کے پاس ایک اعرابی (دیہاتی) اپنا جوان اونٹ مانگتے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا: اسے جوان اونٹ دے دو ، تو اس دن ان لوگوں نے اسے ایک بڑا (مکمل) اونٹ دیا، اس نے کہا: یہ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے جو بہتر طرح سے قرض ادا کرے ۔
Irbad bin Saryah said: "I lent a young camel to the Messenger of Allah ﷺ, and I came to ask him to repay me. He said: Yes, I will only repay you with a superior she-camel. so he repaid me and repaid me well. Then a Bedouin came to him to ask to repay him a camel of a certain age, and the Messenger of Allah ﷺ said: Give him a camel of certain age. On that day they gave him a mature camel and he said: This is better than my camel. He (The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) Said: The best of you is the one who is best in repaying.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4619
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٢ (٢٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٨٨٧)، مسند احمد (٤/١٢٨) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی، آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ غلام ہے، اتنے میں اسے ڈھونڈتا ہوا اس کا مالک آپہنچا تو آپ نے فرمایا: اسے میرے ہاتھ بیچ دو ، چناچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا، پھر آپ نے اس کے بعد کسی سے بیعت نہیں لی جب تک کہ اس سے پوچھ نہ لیتے کہ وہ غلام ہے؟۔
It was narrated that Jabir Sair: "A slave came and gave his pledge to the Messenger of Allah ﷺ to emigrate, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not realize that he was a slave. Then his master came looking for him. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said; Sell him to me. So he bought him for two black slaves, then he did not accept until he had asked; Is he a slave?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4621
عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حمل والے جانور کے حمل کی بیع سلم کرنا سود ہے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Paying in advance for the offspring of the offspring of a pregnant animal (Habal al-Habalah) is Riba.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4622
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حاملہ کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade selling the offspring of the offspring of a pregnant animal (Habal Al-Habalah)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4623
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٤ (٢١٩٧)، (تحفة الأشراف: ٧٠٦٢)، مسند احمد (٢/١٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حاملہ کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade selling the offspring of the offspring of a pregnant animal (Habal Al-Habalah)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4624
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بیع زمانہ جاہلیت میں رائج تھی، آدمی اس شرط پر اونٹ خریدتا تھا کہ جب اونٹنی بچہ جنے گی پھر بچے کا بچہ ہوگا تب وہ اس اونٹ کے پیسے دے گا تو ایسی خریدو فروخت سے روک دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں دھوکہ ہے، یہ بیع غرر ( دھوکہ والی بیع ) کی قبیل سے ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حاملہ کے حمل کی بیع سے منع فرمایا اور یہ ایسی بیع تھی جو جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، ایک شخص اونٹ خریدتا اور پیسے دینے کا وعدہ اس وقت تک کے لیے کرتا جب وہ اونٹنی جنے اور پھر اس کا بچہ جنے۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah ﷺ forbade selling the offspring of the offspring of a pregnant animal (Habal Al-Habalah), which was a transaction practiced by the people of the Jahiliyyah, whereby a man would buy camel to slaughter, but he would wait until the she-camel had produced offspring and the offspring in her belly had then produced offspring.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4625
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو قطری چادریں تھیں، جب آپ بیٹھتے اور ان میں پسینہ آتا تو وہ بھاری ہوجاتیں، ایک یہودی کا شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا: اگر آپ اس کے پاس کسی کو بھیج کر تاوقت سہولت (قیمت ادا کرنے کے وعدہ پر) دو کپڑے خرید لیتے تو بہتر ہوتا، چناچہ آپ نے اس کے پاس ایک شخص کو بھیجا، اس (یہودی) نے کہا: مجھے معلوم ہے محمد کیا چاہتے ہیں، وہ تو میرا مال ہضم کرنا چاہتے ہیں، یا یہ دونوں چادروں کو ہضم کرنا چاہتے ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نے جھوٹ کہا، اسے معلوم ہے کہ میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ امانت کا ادا کرنے والا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was wearing two Qitri garments which, if he sat and sweated, would become heavy (and uncomfortable). A Jewish man got some fabric from Ash-sham so I said: Why dont you send word to him to buy two garments from him, and pay him when things get easier? So he sent word to him, but he said: I know what Muhammad wants; he wants to go away with my money and take them (the two garments). The Messenger of Allah ﷺ said; He is lying; he knows that I am one of the ones who fear Allah the most, and are most honest in fulfilling trusts.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4628
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے اس طرح کی بیع پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ اس یہودی کے پاس اس کے لیے آدمی بھیجا، اسی سے باب پر استدلال ہے۔