عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلف اور بیع ایک ساتھ کرنے، ایک بیع میں دو شرطیں لگانے، اور اس چیز کے نفع لینے سے منع فرمایا جس کے تاوان کا وہ ذمے دار (ضامن) نہ ہو ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin shuaib, from his father, from his grandfather, that: the Messenger of Allah ﷺ prohibited lending on the condition of a sale, or to have two conditions in one transaction, or to profit from what you do not posses.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4629
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس چیز کو بیچنا جو ابھی پہلے بیچنے والے سے خریدار کے قبضے میں آئی بھی نہ ہو، اور نہ ہی اس کے اوصاف ( وزن، ناپ اور نوعیت ) معلوم ہو۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلف (قرض) اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں، اور نہ ہی ایسی چیز کا نفع جس کے تاوان کی ذمے داری نہ ہو ۔
Amr bin shuaib said: "My father told me, mar rating from his father, from his father (and he mentioned Abdullah bin Amr) that he said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "It is not permissible to lend on the condition of a sale, or to stipulate two conditions in one transaction, or to make a profit on that which you do not possess.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4630
Notes · وضاحت
١ ؎: اور دونوں میں سے کسی ایک پر بات طے نہ ہو، اور اگر کسی ایک پر بات طے ہوجائے تو پھر بیع حلال اور جائز ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سلف (قرض) اور بیع ایک ساتھ کرنے سے، ایک ہی بیع میں دو شرطیں لگانے سے، اور اس چیز کے بیچنے سے جو تمہارے پاس موجود نہ ہو اور ایسی چیز کے نفع سے جس کے تاوان کی ذمہ داری نہ ہو، (ان سب سے) منع فرمایا۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade lending on the condition of a sale, selling what you do not have, and profiting on what you do not possess.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4631
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ سے اور بیع میں استثناء کرنے سے سوائے اس کے کہ مقدار معلوم ہو منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Muhaqalah, Muzahanah, Mukhabarah and selling with an exception unless it is defined.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4633
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی درخت کے پھل بیچتے وقت کچھ غیر معلوم پھل الگ کرنے سے منع فرمایا، اگر الگ کئے ہوئے پھلوں کی مقدار طے ہو تو یہ معاملہ جائز ہے، لیکن یہ مقدار اتنی بھی نہ ہو کہ بیچے ہوئے پھل کی مقدار انتہائی کم رہ جائے، جس سے خریدار کو گھاٹا ہو۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ، معاومہ (کئی سالوں کی بیع) اور بیع میں الگ کرنے سے منع فرمایا اور بیع عرایا (عاریت والی بیع) میں رخصت دی۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Muhaqalah, Muzahanah, Mukhabarah, Muawamah, and selling with an exception unless it is defined but he gave concession allowing Araya.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4634
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو بھی کوئی کھجور کے درخت کی پیوند کاری کرے پھر اس درخت کو بیچے تو درخت کا پھل پیوند کاری کرنے والے کا ہوگا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا پھل کی شرط لگالے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Any man who pollinates a date-palm tree then sells it, the fruits of the tree are for the one who pollinated it, unless the purchaser stipulated otherwise.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4635
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ معاملہ ہر قسم کی کھیتی کے بیچنے میں ہوگا، کیونکہ کھیتی میں بیچنے والا خرچ کیا ہوتا ہے، کھجور میں تو تابیر ( پیوند کاری ) سے پہلے بیچنے والے کا کچھ خرچ نہیں ہوتا ہے اس لیے تابیر ( پیوند کاری ) کی شرط لگائی گئی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی تابیر (پیوند کاری) ہوجانے کے بعد (کھجور کا) درخت خریدے تو اس کا پھل بائع کا ہوگا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے، اور جو غلام بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع کا ہوگا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے ۔
It was narrated from Salim, from his father that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever buys a date-palm tree after it has been pollinated, its fruits belong to the seller, unless the purchaser has stipulated otherwise. And whoever buys a slave who has wealth, his wealth belongs to the seller, unless the purchaser has stipulated otherwise. "(sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4636
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میرا اونٹ تھک کر چلنے سے عاجز آگیا، تو میں نے چاہا کہ اسے چھوڑ دوں، اتنے میں رسول اللہ ﷺ مجھ سے آ ملے، آپ نے اس کے لیے دعا کی اور اسے تھپتھپایا، اب وہ ایسا چلا کہ اس طرح کبھی نہ چلا تھا، آپ نے فرمایا: اسے ایک اوقیہ ( ٤٠ درہم) میں مجھ سے بیچ دو ، میں نے کہا: نہیں (بلکہ وہ آپ ہی کا ہے) ، آپ نے فرمایا: اسے مجھ سے بیچ دو تو میں نے ایک اوقیہ میں اسے آپ کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینے تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط لگائی ١ ؎، جب ہم مدینہ پہنچے تو میں اونٹ لے کر آپ کے پاس آیا اور اس کی قیمت چاہی، پھر میں لوٹا تو آپ نے مجھے بلا بھیجا، اور فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے کم قیمت لگائی تاکہ میں تمہارا اونٹ لے سکوں، لو اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "I was with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on a journey, and my camel got tired. I thought I wanted to let it go, but the Messenger of "Allah met me and prayed for it (the camel) and hit it. Then it started to run like never before. He said: Sell it to me for one Uwqiyah. I said" No. He said: Sell it to me. So I sold it to him for one Uwqiyah but stipulated an exception, to ride it until we reached al-Madinah. When we reached Al-Medinah, I brought the camel to him and asked him for its price, then I went back. He sent word to me saying; Do you think I bargained with you to take your camel? Take your camel and your Dirhams.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4637
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جائز شرط تھی اس لیے نبی اکرم ﷺ نے اس پر معاملہ کرلیا، یہی باب سے مناسبت ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے سینچائی کرنے والے اونٹ پر بیٹھ کر جہاد کیا، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی، پھر ایک چیز کا تذکرہ کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ تھک گیا تو اسے نبی اکرم ﷺ نے ڈانٹا تو وہ تیز ہوگیا یہاں تک کہ سارے لشکر سے آگے نکل گیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جابر! تمہارا اونٹ تو لگ رہا ہے کہ بہت تیز ہوگیا ہے ، میں نے عرض کیا: آپ کے ذریعہ سے ہونے والی برکت سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اسے، میرے ہاتھ بیچ دو۔ البتہ تم (مدینہ) پہنچنے تک اس پر سوار ہوسکتے ہو ، چناچہ میں نے اسے بیچ دیا حالانکہ مجھے اس کی سخت ضرورت تھی۔ لیکن مجھے آپ سے شرم آئی۔ جب ہم غزوہ سے فارغ ہوئے اور (مدینے کے) قریب ہوئے تو میں نے آپ سے جلدی سے آگے جانے کی اجازت مانگی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ابھی جلد شادی کی ہے، آپ نے فرمایا: کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا: بیوہ سے، اللہ کے رسول! والد صاحب عبداللہ بن عمرو ؓ مارے گئے اور انہوں نے کنواری لڑکیاں چھوڑی ہیں، تو مجھے برا معلوم ہوا کہ میں ان کے پاس ان جیسی (کنواری لڑکی) لے کر آؤں، لہٰذا میں نے بیوہ سے شادی کی ہے جو انہیں تعلیم و تربیت دے گی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی اور مجھ سے فرمایا: اپنی بیوی کے پاس شام کو جانا ، جب میں مدینے پہنچا تو میں نے اپنے ماموں کو اونٹ بیچنے کی اطلاع دی، تو انہوں نے مجھے ملامت کی، جب رسول اللہ ﷺ پہنچے تو میں صبح کو اونٹ لے کر آپ کے پاس گیا، تو آپ نے مجھے اونٹ کی قیمت ادا کی اور اونٹ بھی دے دیا اور (مال غنیمت میں سے) ایک حصہ سب لوگوں کے برابر دیا۔
It was narrated that Jabir said: "I went on a campaign with the Messenger of Allah ﷺ riding a camel of ours," then he quoted the whole Hadith. Then he said words to the effect that: "The camel got tired and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) hit it, so it became energetic and came to the front of the army. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: O Jabir, I see that your camel has become energetic. I said: "It is because of your blessing, O Messenger of Allah, He said: Sell it to me, and you can ride it till we arrive (in Al-Madinah). So I sold it to him. I was in great need of it myself but I felt too shy to refuse. When we finished our campaign, and we were close to Al-Madinah, I asked his permission to go on ahead. I said: O Messenger of Allah, I am newly married. He said; Have you married a virgin or a previously married woman? I said: A previously married woman, O Messenger of Allah. Abdullah bin Arm died and left behind young druthers, and I did not like to bring to them someone who was like them, so I married a previously married woman who could teach the, and rise them with good manners. So he gave me permission, and said to me; Go to When I arrived, I told my maternal uncle that I had sold the camel and he scolded me. When the Messenger of Allah ﷺ came, I brought the camel to him, and he gave me the price of the camel, and the camel, and share (of the spoils of war) with the rest of the people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4638
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں ایک اونٹ پر سوار تھا۔ آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم سب سے پیچھے میں ہو؟ میں نے عرض کیا: میرا اونٹ تھک گیا ہے، آپ نے اس کی دم کو پکڑا اور اسے ڈانٹا، اب حال یہ تھا کہ میں سب سے آگے تھا، (ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے اونٹ سے آگے بڑھ جائے اس لیے) مجھے اس کے سر سے ڈر ہو رہا تھا، تو جب ہم مدینے سے قریب ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اونٹ کا کیا ہوا؟ اسے میرے ہاتھ بیچ دو ، میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: نہیں، اسے میرے ہاتھ بیچ دو ، میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے، آپ نے کہا: نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ بیچ دو، میں نے اسے ایک اوقیہ میں لے لیا، تم اس پر سوار ہو اور جب مدینہ پہنچ جاؤ تو اسے ہمارے پاس لے آنا ، جب میں مدینے پہنچا تو اسے لے کر آپ کے پاس آیا، آپ نے بلال ؓ سے فرمایا: بلال! انہیں ایک اوقیہ (چاندی) دے دو اور ایک قیراط مزید دے دو ، میں نے عرض کیا: یہ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے زیادہ دیا ہے، (یہ سوچ کر کہ) وہ مجھ سے کبھی جدا نہ ہو، تو میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھا، پھر وہ قیراط میرے پاس برابر رہا یہاں تک کہ حرہ کے دن ١ ؎ اہل شام آئے اور ہم سے لوٹ لے گئے جو لے گئے۔
It was narrated that Jabir Abdullah said: "I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and I was riding a camel. He said: Why are you at the back of the people?, I said: My camel is tired, He took hold of its tail and shouted at it, then I was at the front of the people, worrying that it would go ahead of the others. When we drew close to al-Madinah he said: What happened to the camel? Sell it to me. I said, No, it is yours O Messenger of Allah.; He said, No, sell it tome. I said, No, it is yours, O Messenger of Allah. He said: No, sell it to me. I will take it for one Uwqiyah but you (continue to) ride it. Then when you reach Al-Madinah, bring it to us. So when I reached Al-Madinah, I brought it him. He said to Bilal: O Bilal, weight out for him one Uwqiyyah and add a Qirat. I said: This is something extra that the Messenger of Allah ﷺ gave to. I kept it with me and put it in a bag, and it stayed with me until the people of Ash-Sham came on the Day of Al-Harrah and took from us what they took.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4639
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ واقعہ ٦٣ ھ میں پیش آیا تھا، اس میں یزید کے لشکر نے مدینے پر چڑھائی کی تھی۔ حرہ کالے پتھروں والی زمین کو کہتے ہیں جو مدینے کے مشرقی اور مغربی علاقہ کی زمین ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے پایا کہ میں اپنے سینچنے والے اونٹ پر سوار تھا، میں نے عرض کیا: افسوس! ہمارے پاس ہمیشہ پانی سینچنے والا اونٹ ہی رہتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جابر! کیا تم اسے میرے ہاتھ بیچو گے؟ میں نے عرض کیا: یہ تو آپ ہی کا ہے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کی مغفرت کر، اس پر رحم فرما، میں نے تو اسے اتنے اتنے دام پر لے لیا ہے، اور مدینے تک اس پر سوار ہو کر جانے کی تمہیں اجازت دی ہے ، جب میں مدینے آیا تو اسے تیار کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: بلال! انہیں اس کی قیمت دے دو ، جب میں لوٹنے لگا تو آپ نے مجھے بلایا، مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ اسے لوٹائیں گے، آپ نے فرمایا: یہ تمہارا ہے ۔
It was narrated tat Jabir Said: "The Messenger of Allah ﷺ caught up with me when I was riding a bad camel of ours, and I said: We have a bad camel, mares the pit! The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Will you sell it to me, O Jabir? I Said, No, It is yours, O Messenger of Allah.; He said: O Allah forgive him; O Allah, have mercy on him. I will buy it for such and such, and I will lend it to you to ride until (we reach) al-Madinah. When Reached al-Madinah, I prepared it, and brought it to him, and he said: O Bilal, give him its price, When I turned to leave, he called me back, and I was afraid that he would give it back at he said: It is yours.
تفردہ بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٧٦٩) (ضعیف) (سند ضعیف ہے، اور متن منکر ہے، اس لیے کہ اس کے راوی ابو زبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس کے متن میں پچھلے متن سے تعارض بھی ہے جو واضح ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے، میں سینچائی کرنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف کرے ، میں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے نبی! وہ آپ کا ہی ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اور اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف کرے ، میں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے نبی! وہ آپ ہی کا ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اور اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف کرے ، میں نے عرض کیا: ہاں، وہ آپ ہی کا ہے۔ ابونضرہ کہتے ہیں: یہ مسلمانوں کا تکیہ کلام تھا کہ جب کسی سے کہتے: ایسا ایسا کرو تو کہتے: واللہ یغفر لک۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "We were traveling with the Messenger of Allah ﷺ and I was riding a camel. The Messenger of Allah ﷺ said to me: Will you sell it to me for such and such, may Allah forgive you?, I said, I said, Yes, it is yours, O Prophet of Allah. He said: Will you sell it to me for such and such, may Allah forgive your? I said: Yes, it is yours, O Prophet (صلی اللہ علیProphet of ll you sell it to me for such and such, may Allah forgives you? I said: Yes, it is yours. (One of the narrators) Abu Nadrah said: "This became a phrase that was used by the Muslims: Do such and such, may Allah forgive you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4641
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے بریرہ ؓ کو خریدا تو ان کے گھر والوں نے ولاء (وراثت) کی شرط لگائی، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء (وراثت) اس کا حق ہے جس نے درہم (روپیہ) دیا ہے ، چناچہ میں نے انہیں آزاد کردیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور انہیں ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا ١ ؎ تو بریرہ ؓ نے اپنے شوہر کی زوجیت میں نہ رہنے کو ترجیح دی، حالانکہ ان کے شوہر آزاد تھے ٢ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "I bought Barirah and her masters stipulated that her loyalty (Wala) should be to them, I mentioned that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Set her free, and loyalty belongs to the one who pays the silver. She said: "so I set her free. The Messenger of Allah ﷺ called her and gave her the choice regarding her husband, and she chose herself. Her husband was a free man.
صحيح دون قوله وکان زوجها حرا فإنه شاذ والمحفوظ أنه کان عبداصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4642
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چاہیں تو اس شوہر کی زوجیت میں رہیں جن سے غلامی میں نکاح ہوا تھا، اور چاہیں تو ان کی زوجیت میں نہ رہیں۔ ٢ ؎: صحیح واقعہ یہ ہے کہ وہ اس وقت غلام تھے، اسی لیے تو بریرہ ؓ کو اختیار دیا گیا، اگر وہ آزاد ہوتے تو بریرہ ؓ کو اختیار دیا ہی نہیں جاتا، (دیکھئیے حدیث رقم ٢٦١٥ و ٣٤٧٩ ) اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ولاء والی شرط کو باطل قرار دے کر باقی معاملہ ( بریرہ کی بیع کو ) صحیح قرار دیا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٤٧٩ (صحیح) (لیکن ” وکان زوجھا حراً “ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ روایت یہی ہے کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے غلامی سے آزاد کرنے کے لیے بریرہ ؓ کو خریدنا چاہا، لوگوں نے ان کے ولاء (وراثت) کی شرط لگائی، انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء (وراثت) کا حق اسی کا ہے جو آزاد کرے ، اور رسول اللہ ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا تو کہا گیا: یہ تو بریرہ پر کیا گیا صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے تحفہ (ہدیہ) ہے ، اور انہیں (بریرہ کو) اختیار دیا گیا (شوہر کے ساتھ رہنے اور نہ رہنے کا) ۔
It was narrated from Aishah that: she wanted to buy Barirah to set her free, but they stipulated that her loyalty (should be to them. She mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and the Messenger of Allah said: "Buy her, and wet her free and loyalty (Wala) belongs to the one who sets the slave free." Some meat was brought to the Messenger of and it was said that this had been given in charity to Barirah. He said: "It is charity for her, and a gift for us." And she was given the choice.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4643
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے لونڈی خریدنا چاہی تاکہ اسے آزاد کریں، تو اس کے گھر والوں (مالکان) نے کہا: ہم اسے آپ سے اس شرط پر بیچیں گے کہ ولاء (حق وراثت) ہمارا ہوگا، عائشہ ؓ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: تم اس وجہ سے مت رک جانا، کیونکہ ولاء (وراثت) تو اس کے لیے ہے جو آزاد کرے ۔
It was narrated fromAbdullah bin Umar that Aishah (RA) wanted to but a slave woman to set her free, but her people said: "We will sell her to you on condition that her loyalty (Wala) is to us," She mentioned that top the Messenger of Allah ﷺ and he said: "That should not stop you. Loyalty belongs to the one who sets the slave free.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4644
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تقسیم ہونے سے پہلے مال غنیمت بیچنے، حاملہ عورتوں ١ ؎ کے ساتھ بچہ کی پیدائش سے پہلے جماع کرنے اور ہر دانت والے درندے کے گوشت (کھانے) سے منع فرمایا۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade selling something from the spoils of war prior to its distribution, having intercourse with a pregnant woman until she gives birth, and (eating) the flesh of any predator that has fangs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4645
Notes · وضاحت
١ ؎: مال غنیمت میں ملی ہوئی لونڈیاں مراد ہیں، اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو پانے والے مجاہد ان کے بچہ جننے کے بعد ہی ان سے مباشرت کرسکتے ہیں۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شفعہ کا حق ہر چیز میں ہے، زمین ہو یا کوئی احاطہٰ (باغ وغیرہ) ، کسی حصہ دار کے لیے جائز نہیں کہ اپنے دوسرے حصہ دار کی اجازت کے بغیر اپنا حصہ بیچے، اگر اس نے بیچ دیا تو وہ (دوسرا حصہ دار) اس کا زیادہ حقدار ہوگا یہاں تک کہ وہ خود اس کی اجازت دیدے ۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Pre-emption is to be given in everything that is shared, whether it is a house or a garden. It is not right to sell it before informing ones partner, and if he sells it he (the partner) has more right to it, unless he gives Permission to sell it to someone else.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4646
Notes · وضاحت
١ ؎: شفعہ: زمین، باغ گھر وغیرہ میں ایسی ساجھے داری کو کہتے ہیں جس میں کسی فریق کا حصہ متعین نہ ہو کہ ہمارا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے اور دوسرے کا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے بس مطلق ملکیت میں سب کی ساجھے داری ہو، ایسا ساجھے دار اگر اپنا حصہ بیچنا چاہتا ہے تو دوسرے شریک کو پہلے بتائے، اگر وہ اسی قیمت پر لینے پر راضی ہوجائے تو اسی کا حق ہے، اگر جازت دیدے تب دوسرے سے بیچنا جائز ہوگا، اور اگر اس کی اجازت کے بغیر بیچ دیا تو وہ اس بیع کو قاضی منسوخ کرا سکتا ہے۔
صحابی رسول عمارہ بن خزیمہ کے چچا (خزیمہ بن ثابت ؓ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک اعرابی (دیہاتی) سے ایک گھوڑا خریدا، اور اس سے پیچھے پیچھے آنے کو کہا تاکہ وہ اپنے گھوڑے کی قیمت لے لے، نبی اکرم ﷺ آگے بڑھ گئے اور اعرابی سست رفتاری سے چلا، لوگ اعرابی سے پوچھنے لگے اور گھوڑا خریدنے کے لیے (بڑھ بڑھ کر قیمتیں لگانے لگے) انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ اسے خرید چکے ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اس سے زیادہ قیمت لگا دی جتنے پر آپ نے اس سے خریدا تھا، اعرابی نے نبی اکرم ﷺ کو پکارا، اگر آپ اس گھوڑے کو خریدیں تو ٹھیک ورنہ میں اسے بیچ دوں، آپ نے جب اس کی پکار سنی تو ٹھہر گئے اور فرمایا: کیا میں نے اسے تم سے خریدا نہیں ہے؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نے اسے آپ سے بیچا نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اسے تم سے خرید چکا ہوں ١ ؎، اب لوگ نبی اکرم ﷺ اور اعرابی کے اردگرد اکٹھا ہونے لگے، دونوں تکرار کر رہے تھے، اعرابی کہنے لگا: گواہ لائیے جو گواہی دے کہ میں اسے آپ سے بیچ چکا ہوں ، خزیمہ بن ثابت ؓ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے بیچ چکے ہو، نبی اکرم ﷺ خزیمہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم گواہی کیسے دے رہے ہو ؟ انہوں نے کہا: آپ کے سچا ہونے پر یقین ہونے کی وجہ سے ٢ ؎، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے خزیمہ ؓ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا۔
It was narrated from Umarah bin Khuzaimah that his paternal uncle, who was one of the companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him, that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) bought a horse from a Bedouin and asked him to follow him, so that he could pay him for the horse. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) hastened but the Bedouin was slow. Men started to talk to the Bedouin and make offers for the horse, and they did not realize that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had bought it, until some of them offered more than the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had bought it for. Then the Bedouin called out to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said; "Are you going to buy this horse or shall I sell it?" The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up when he heard him calling and said: "Have I not bought it from you?" He said: No, by Allah, I have not sold it to you, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said "I bought it from you." The people started to gaiter around the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and the Bedouion as they were talking, and the Bedouin started to say: "Bring a witness who will testify that you bought it. " Khuzaimah bin habit said: "I bear witness that you bought it" The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) turned to Khunzimah and said: "Why are you bearing witness?" He said: "Because I know that you are truthful, O Messenger of Allah" made the testimony of Khuzaimah equivalent to the testimony of two men. (sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4647
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر اس خریدو فروخت میں گواہوں کا انتظام کیا گیا ہوتا تو وہ دیہاتی آپ ﷺ سے گواہ طلب ہی نہیں کرتا، اس نے سوچا کہ گواہ نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر زیادہ قیمت پر بیچ دوں گا، پتہ چلا کہ خریدو فروخت میں گواہی کا ضروری نہیں، ورنہ آپ ضرور اس کا انتظام کرتے۔ ٢ ؎: چونکہ آپ سچے ہیں اس لیے آپ کا یہ دعویٰ ہی میرے لیے کافی ہے کہ آپ خرید چکے ہیں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بیچنے اور خریدنے والے میں اختلاف ہوجائے اور ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہو تو اس کی بات کا اعتبار ہوگا جو صاحب مال (بیچنے والا) ہے ١ ؎ (اور خریدار کو اسی قیمت پر لینا ہوگا) یا پھر دونوں بیع ترک کردیں ٢ ؎۔
Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If the two parties to a transaction disagree, and neither of them has any proof, then it is as the owner of the goods says, or they may cancel it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4648
Notes · وضاحت
١ ؎: مگر قسم کھانے کے بعد، جیسا کہ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ ٢ ؎: خریدنے اور بیچنے والے کے درمیان قیمت کی تعیین میں اگر اختلاف ہوجائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں بیچنے والا قسم کھا کر کہے گا کہ میں نے اس سامان کو اتنے میں نہیں بلکہ اتنے میں بیچا ہے اب خریدار اس کی قسم اور قیمت کی تعیین پر راضی ہے تو بہتر ورنہ بیع کا معاملہ ہی ختم کردیا جائے گا۔