ایک بیع میں دو شرائط طے کرنا مثلا اگر رقم ایک ماہ میں ادا کرو تو اتنے اور دو ماہ میں اتنے (زائد)
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ، مَا لَمْ يُضْمَنْ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلف (قرض) اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں، اور نہ ہی ایسی چیز کا نفع جس کے تاوان کی ذمے داری نہ ہو ۔
Amr bin shuaib said: "My father told me, mar rating from his father, from his father (and he mentioned Abdullah bin Amr) that he said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "It is not permissible to lend on the condition of a sale, or to stipulate two conditions in one transaction, or to make a profit on that which you do not possess.