Sunan An Nasai 4635

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4635Sunan An Nasai

ایک بیع میں دو شرائط طے کرنا مثلا اگر رقم ایک ماہ میں ادا کرو تو اتنے اور دو ماہ میں اتنے (زائد)

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ وَاحِدٍ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سلف (قرض) اور بیع ایک ساتھ کرنے سے، ایک ہی بیع میں دو شرطیں لگانے سے، اور اس چیز کے بیچنے سے جو تمہارے پاس موجود نہ ہو اور ایسی چیز کے نفع سے جس کے تاوان کی ذمہ داری نہ ہو، (ان سب سے) منع فرمایا۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade lending on the condition of a sale, selling what you do not have, and profiting on what you do not possess.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4631
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٦١٥ (حسن صحیح )