ایک بیع کے اندر دو بیع کرنا جیسے کہ اس طریقہ سے کہے کہ اگر تم نقد فروخت کرو تو سو روپیہ میں اور ادھار لو تو دو سو روپے میں
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade two transactions in one.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4632
Notes · وضاحت
١ ؎: اور دونوں میں کسی بات پر اتفاق نہ ہوسکا ہو، اگر کسی ایک پر اتفاق ہوگیا تو پھر یہ بیع حلال اور جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥١١٢)، مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٧٥) (حسن صحیح )