عبدالملک بن عبید کہتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس حاضر ہوئے، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے ایک سامان کی خریدو فروخت کر رکھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں لیا ہے، دوسرے نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں بیچا ہے تو ابوعبیدہ نے کہا: ابن مسعود ؓ کے پاس بھی ایسا ہی مقدمہ آیا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس ایسا ہی مقدمہ آیا۔ تو آپ ﷺ نے بائع کو قسم کھانے کا حکم دیا پھر (فرمایا: خریدار) کو اختیار ہے، چاہے تو اسے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
It was narrated that Abdul-Malik binUbaid said: "We were with Abu Ubaidah bin Abdullah bin Masud when two men who were involved in a transaction came to him. One of them said: I bought it for such and such, and the other said; I sold it to him for such and such, Abu Ubaidah said" something like this was brought to Ibn Masud, and he said; I was with something like this was brought to him. He told the seller to swear an oath, them he gave the purchaser the choice; If he wished, he could buy it, and if he wished he could cancel (the transaction).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4649
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٦١١) (صحیح) (پچھلی روایت نیز دیگر متابعات و شواہد کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ” عبدالملک بن عبید “ مجہول ہیں، اور ” ابو عبیدہ “ کا اپنے باپ ” ابن مسعود رضی الله عنہ “ سے سماع نہیں ہے )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنا ایک غلام بطور مدبر آزاد (یعنی مرنے کے بعد آزاد ہونے کی شرط پر) کردیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی، تو آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی مال ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟ چناچہ اسے نعیم بن عبداللہ عدوی ؓ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، رسول اللہ ﷺ ان (دراہم) کو لے کر آئے اور اسے ادا کردیا، پھر فرمایا: اپنی ذات سے شروع کرو اور اس پر صدقہ کرو، پھر کچھ بچ جائے تو وہ تمہارے گھر والوں کا ہے، تمہارے گھر والوں سے بچ جائے تو تمہارے رشتے داروں کے لیے ہے اور اگر تمہارے رشتے داروں سے بھی بچ جائے تو اس طرح اور اس طرح ، اپنے سامنے، اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے ہوئے۔
It was narrated that Jabir said: "A man from Banu Adhrah stated that a slave of his was to be set free after he died. News of that reached the Messenger of Allah ﷺ and he said: Do you have any other property basides him/ He said? No. the Messenger of Allah ﷺ said; Who will buy him from me? Nuaim bin Abdullah Al-Adawi bought him for eight hundred Dirhams, which the Messenger of Allah ﷺ brought and gave to him (the former owner). Then the Messenger of Allah ﷺ said: Start with yourself and give charity to (yourself). If there is anything left over, then give it to your family; if there is anything left over from your family, then give it to your relatives; if there is anything left over from your relatives, then give it to such and such, saying In front of you, to your right and to your left.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4652
Notes · وضاحت
١ ؎: مدبر: وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے کہے کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔ اگر مدبّر کرنے والا مالک محتاج ہوجائے تو اس مدبّر غلام کو بیچا جاسکتا ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آدمی محتاج تھا اور اس پر قرض تھا، امام بخاری اور مؤلف نیز دیگر علماء مطلق طور پر مدبّر کے بیچنے کو جائز مانتے ہیں۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ ابومذکور نامی انصاری نے ایک یعقوب نامی غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا: اسے کون خریدے گا؟ اسے نعیم ابن عبداللہ ؓ نے آٹھ سو درہم میں خریدا، آپ نے اس (انصاری) کو وہ (درہم) دے کر فرمایا: تم میں جب کوئی محتاج ہو تو پہلے اپنی ذات سے شروع کرے، پھر اگر بچے تو اپنے گھر والوں پر، پھر اگر بچے تو اپنے رشتے داروں پر، اور اگر پھر بھی بچ رہے تو ادھر ادھر (یعنی دوسرے فقراء پر خرچ کرے) ۔
It was narrated from Jabir that: a man from among the Ansar who was called Abu (Madhkur) stated that a slave of his who was called Yaqub was to be set free after he died, and he did not own any other property apart from him. The Messenger of Allah ﷺ called for him (the slave) to be brought and he said: "Who will buy him?" Nuaim bin Abdullah bought him for eight hundred dirhams, and he gave it to him and said: "If one of you is poor, let him start with himself; if there is anything left over, (let him give it) to his dependents; if there is anything left over, (let him give it) to his relatives; and if there is anything left over, (let him give it) here and there.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4653
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ عائشہ ؓ کے پاس آئیں، اپنی کتابت کے سلسلے میں ان کی مدد چاہتی تھیں، ان سے عائشہ ؓ نے کہا: تم اپنے گھر والوں (مالکوں) کے پاس لوٹ جاؤ، اب اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت (کی رقم) ادا کر دوں اور تمہارا ولاء (حق وراثت) میرے لیے ہوگا تو میں ادا کر دوں گی، بریرہ ؓ نے اس کا تذکرہ اپنے گھر والوں سے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں البتہ تمہارا ولاء (ترکہ) ہمارے لیے ہوگا، عائشہ ؓ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: انہیں خرید لو ٢ ؎ اور آزاد کر دو ۔ ولاء (وراثت) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا، پھر آپ نے فرمایا: کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہیں، لہٰذا اگر کوئی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہ ہو، تو وہ پوری نہ ہوگی گرچہ سو شرطیں لگائی گئی ہوں، اللہ کی شرط قبول کرنے اور اعتماد کرنے کے لائق ہے ۔
It was narrated fromAishah (RA) that Barirah came to Aishah (RA) asking her to help her with her contract of manumission. Aishah said: "Go back to your masters, and if they agree to let me pay off your contract of manumission, and let your loyalty be to me, then I will do it" Barirah told her masters about that, but they refused and said: "If she wants to seek reward (with Allah) by freeing you, let her do so, but your loyalty will be to us." She told the Messenger of Allah ﷺ about that , and the Messenger of Allah said to her; "Buy her and set her free, and loyalty belongs to the one who set the slave free," Then the Messenger of Allah ﷺ said: "What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah? Whoever stipulates something that is not in the Book of Allah, it is not valid even if he stipulates one hundred conditions? The condition of Allah is more deserving of being followed and is more hinting.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4655
Notes · وضاحت
١ ؎: مکاتب: وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے کہے کہ اگر تم اتنی اتنی رقم اتنی مدت میں، یا جب بھی کما کر ادا کر دے تو تم آزاد ہو۔ ٢ ؎: بریرہ ؓ نے چونکہ ابھی تک مکاتبت ( معاہدہ آزادی ) کی کوئی قسط ادا نہیں کی تھی، اس لیے عائشہ ؓ نے کل رقم ادا کر کے انہیں خرید لیا، یہی باب سے مناسبت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ ؓ نے آ کر کہا: عائشہ! میں نے نو اوقیہ کے بدلے اپنے گھر والوں (مالکوں) سے مکاتبت کرلی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ دوں گی تو آپ میری مدد کریں۔ (اس وقت) انہوں نے اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہ کیا تھا۔ ان سے عائشہ ؓ نے کہا اور ان میں دلچسپی لے رہی تھیں: جاؤ اپنے لوگوں (مالکوں) کے پاس اگر وہ پسند کریں کہ میں انہیں یہ رقم ادا کر دوں اور تمہارا ولاء (حق وراثت) میرے لیے ہوگا تو میں ایسا کروں، بریرہ ؓ اپنے لوگوں (مالکوں) کے پاس گئیں اور ان کے سامنے یہ بات پیش کی، تو انہوں نے انکار کیا اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن وہ ولاء (ترکہ) ہمارا ہوگا، اس کا ذکر عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ چیز تمہیں ان سے مانع نہ رکھے، خریدو اور آزاد کر دو، ولاء (ترکہ) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: امابعد، لوگوں کا کیا حال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہوتیں، جو ایسی شرط لگائے گا جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہے تو وہ باطل ہے گرچہ وہ سو شرطیں ہوں، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ زیادہ قابل قبول اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ لائق بھروسہ ہے، ولاء (حق وراثت) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "Barirah came to me and said: O Sishah, I have drawn up a contract of manumission with my master, (to buy my freedom) in return for nine Uwqiyah, one Uwqiyah to be paid each year; help me, she had not yet paid anything toward her contract of manumission. Aishah (RA), who liked her and wanted to help her, said: Go back to your masters and if they agree to let me pay the whole sum and that your loyalty will be to me, I will do it. So Barirah went to her masters and suggested that to them, but they refused and said: if she wants to seek reward (with Allah) by freeing you, let her do so, but (you loyalty) will be to us, Aishah (RA) told the Messenger of Allah ﷺ about that and he said: Do not let that stop you. Buy her and set her free, and loyalty belongs to the one who sets the slave free.; so she did that, then the Messenger of Allah ﷺ stood up before the people, praised and glorified Allah, then said: What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah? Whoever stipulates conditions that are not in even if there are a hundred conditions? The decree of Allah takes priority, and the conditions of Allah binding. And loyalty belongs to the one who sets the slaves free.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4656
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء (وراثت) کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah that: the Messenger of Allah ﷺ forbade selling loyalty or giving it away.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4657
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی نے غلام کو آزاد کیا تو اس غلام کے مرنے پر اگر اس کے عصبہ وارث نہ ہوں، تو آزاد کرنے والا عصبہ ہوگا، اور عصبہ والا ترکے کا حقدار ہوگا اسی کو ولاء کہتے ہیں۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that: the Messenger of Allah ﷺ forbade selling water.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4660
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد نہر اور چشمے وغیرہ کا پانی جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو، اور اگر پانی پر کسی کا کسی طرح کا خرچ آیا ہو تو ایسے پانی کا بیچنا منع نہیں ہے، جیسے راستوں میں ٹھنڈا پانی، مینرل واٹر وغیرہ بیچنا۔
ایاس بن عمر (یا ابن عبد) ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پانی بیچنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ قتیبہ کہتے ہیں: مجھے ان (سفیان) سے ایک مرتبہ ابومنہال کے بعض کلمات سمجھ میں نہیں آئے جیسا میں نے چاہا۔
Abu Al-Minhal said: "I heard Iyas bin Umar" - and on one occasion he said: "Ibn Abd - say: I heard the Messenger of Allah ﷺ forbid the sale of water.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4661
ایاس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فاضل پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہط کے نگراں نے وہط کا فاضل پانی بیچا تو عبداللہ بن عمرو ؓ نے اسے ناپسند کیا۔
It was narrated from Iyas that: the Messenger of Allah ﷺ forbade selling surplus water. The keeper of al-Wahat sold the surplus water of al-Wahat, and Abdullah bin Arm disapproved of that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4662
ابومنہال نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی ایاس بن عبد ؓ نے کہا: فاضل پانی مت بیچو، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاضل پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
Iya bin Abd, the companion of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "do not sell surplus water, for the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade the sale of surplus water.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4663
ابن وعلہ مصری سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے انگور کے رس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو شراب کی مشکیں تحفہ میں دیں تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: کیا تمہیں علم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے؟ پھر اس نے کانا پھوسی کی - میں اس بات کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکا تو میں نے اس کی بغل کے آدمی سے پوچھا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے کہا: تم نے اس سے کیا کانا پھوسی کی؟ ، وہ بولا: میں نے اس سے کہا کہ وہ اسے بیچ دے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا ہے، اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے ، تو اس آدمی نے دونوں مشکوں کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ جو کچھ اس میں تھا بہہ گیا۔
It was narrated from Ibn Walah Misri that he asked Ibn Abbas about what is produced from grapes. IbnAbbas said: "A man gave the Messenger of Allah ﷺ a skin full of wine, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him; did you know that Allah has forbidden it? He whispered something and I did not understand what he whispered as I wanted to. I asked a person who was beside him and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him; What are you whispering about? He said: I told him to sell it. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The One Who forbade drinking it also forbade selling it. Then he opened the vessels and poured out their contents.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4664
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی، پھر شراب کی تجارت حرام قرار دی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "When the Verses of Riba were revealed, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up on the Minbar and recited them to the people, then he forbade dealing in wine.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4665
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے، اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا سوائے شکاری کتے کے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Adbullah that: the Messenger of Allah ﷺ forbade the price of dogs and cats, except hunting dogs. (Daif) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is Munkar.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4668
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ثقہ راویوں کی روایت میں إلا کلب صید کا ذکر نہیں ہے، اس کے رواۃ حجاج مختلط، اور ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣٠٠ (صحیح) (لیکن ” إلا کلب صید “ کا جملہ صحیح نہیں ہے، اور یہ جملہ صحیح مسلم میں بھی نہیں ہے )