ولاء کا فروخت کرنا
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ.
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء (وراثت) کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah that: the Messenger of Allah ﷺ forbade selling loyalty or giving it away.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4657
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی نے غلام کو آزاد کیا تو اس غلام کے مرنے پر اگر اس کے عصبہ وارث نہ ہوں، تو آزاد کرنے والا عصبہ ہوگا، اور عصبہ والا ترکے کا حقدار ہوگا اسی کو ولاء کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٣ (١٥٠٦)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٣)، موطا امام مالک/العتق ١٠ (٢٠)، مسند احمد (٢/٩، ٧٩، ١٠٧)، سنن الدارمی/البیوع ٣٦ (٢٦١٤) (صحیح )