Sunan An Nasai 4656

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4656Sunan An Nasai

مدبر کی بیع سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ ؟، قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا، وَهَكَذَا وَهَكَذَا، يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَعَنْ يَمِينِكَ، وَعَنْ شِمَالِكَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنا ایک غلام بطور مدبر آزاد (یعنی مرنے کے بعد آزاد ہونے کی شرط پر) کردیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی، تو آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی مال ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟ چناچہ اسے نعیم بن عبداللہ عدوی ؓ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، رسول اللہ ﷺ ان (دراہم) کو لے کر آئے اور اسے ادا کردیا، پھر فرمایا: اپنی ذات سے شروع کرو اور اس پر صدقہ کرو، پھر کچھ بچ جائے تو وہ تمہارے گھر والوں کا ہے، تمہارے گھر والوں سے بچ جائے تو تمہارے رشتے داروں کے لیے ہے اور اگر تمہارے رشتے داروں سے بھی بچ جائے تو اس طرح اور اس طرح ، اپنے سامنے، اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے ہوئے۔

It was narrated that Jabir said: "A man from Banu Adhrah stated that a slave of his was to be set free after he died. News of that reached the Messenger of Allah ﷺ and he said: Do you have any other property basides him/ He said? No. the Messenger of Allah ﷺ said; Who will buy him from me? Nuaim bin Abdullah Al-Adawi bought him for eight hundred Dirhams, which the Messenger of Allah ﷺ brought and gave to him (the former owner). Then the Messenger of Allah ﷺ said: Start with yourself and give charity to (yourself). If there is anything left over, then give it to your family; if there is anything left over from your family, then give it to your relatives; if there is anything left over from your relatives, then give it to such and such, saying In front of you, to your right and to your left.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4652
Notes · وضاحت
١ ؎: مدبر: وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے کہے کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔ اگر مدبّر کرنے والا مالک محتاج ہوجائے تو اس مدبّر غلام کو بیچا جاسکتا ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آدمی محتاج تھا اور اس پر قرض تھا، امام بخاری اور مؤلف نیز دیگر علماء مطلق طور پر مدبّر کے بیچنے کو جائز مانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٤٧ (صحیح )