Sunan An Nasai 4653

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4653Sunan An Nasai

فروخت کرنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، وَاللَّفْظُ لإِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَضَرْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَتَاهُ رَجُلَانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَبِكَذَا، وَقَالَ هَذَا: بِعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَأَبُو عُبَيْدَةَ: أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا، فَقَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمِثْلِ هَذَا،فَأَمَرَ الْبَائِعَ أَنْ يَسْتَحْلِفَ، ثُمَّ يَخْتَارَ الْمُبْتَاعُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ.

عبدالملک بن عبید کہتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس حاضر ہوئے، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے ایک سامان کی خریدو فروخت کر رکھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں لیا ہے، دوسرے نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں بیچا ہے تو ابوعبیدہ نے کہا: ابن مسعود ؓ کے پاس بھی ایسا ہی مقدمہ آیا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس ایسا ہی مقدمہ آیا۔ تو آپ ﷺ نے بائع کو قسم کھانے کا حکم دیا پھر (فرمایا: خریدار) کو اختیار ہے، چاہے تو اسے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔

It was narrated that Abdul-Malik binUbaid said: "We were with Abu Ubaidah bin Abdullah bin Masud when two men who were involved in a transaction came to him. One of them said: I bought it for such and such, and the other said; I sold it to him for such and such, Abu Ubaidah said" something like this was brought to Ibn Masud, and he said; I was with something like this was brought to him. He told the seller to swear an oath, them he gave the purchaser the choice; If he wished, he could buy it, and if he wished he could cancel (the transaction).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4649
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٦١١) (صحیح) (پچھلی روایت نیز دیگر متابعات و شواہد کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ” عبدالملک بن عبید “ مجہول ہیں، اور ” ابو عبیدہ “ کا اپنے باپ ” ابن مسعود رضی الله عنہ “ سے سماع نہیں ہے )