Sunan An Nasai 4615

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4615Sunan An Nasai

اس چیز کا فروخت کرنا جو کہ فروخت کرنے والے شخص کے پاس موجود نہ ہو

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ١ ؎، اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ٢ ؎، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہ ٣ ؎۔

It was narrated fromAmr bin Shuaib, from his father that his grandfather, Said: that the Messenger of Allah ﷺ said: "It is not permissible to lend on the condition of a sale, or to have two conditions in one transaction, or to sell what you do not have." (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4611
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا خریدار کے ہاتھ آٹھ سو کا سامان ایک ہزار روپے کے بدلے اس شرط پر بیچے کہ بیچنے والا خریدار کو ایک ہزار روپے بطور قرض دے گا ( دیکھئیے باب رقم ٧٠ ) گویا بیع کی اگر یہ شکل نہ ہوتی تو بیچنے والا خریدار کو قرض نہ دیتا اور اگر قرض کا وجود نہ ہوتا تو خریدار یہ سامان نہ خریدتا۔ ٢ ؎: مثلاً کوئی کہے کہ یہ غلام میں نے تجھ سے ایک ہزار نقد اور دو ہزار ادھار میں بیچا ( دیکھئیے باب رقم ٧٢ ) یہ ایسی بیع ہے جو دو شرطں ہیں یا مثلاً کوئی یوں کہے کہ میں نے تم سے اپنا یہ کپڑا اتنے اتنے میں اس شرط پر بیچا کہ اس کا دھلوانا اور سلوانا میرے ذمہ ہے۔ ٣ ؎: بیچنے والے کے پاس جو چیز موجود نہیں ہے اسے بیچنے سے اس لیے روک دیا گیا ہے کہ اس میں دھوکہ دھڑی کا خطرہ ہے جیسے کوئی شخص اپنے بھاگے ہوئے غلام یا اونٹ بیچے جب کہ ان دونوں کے واپسی کی ضمانت بیچنے والا نہیں دے سکتا البتہ ایسی چیز کی بیع جو اپنی صفت کے اعتبار سے خریدار کے لیے بالکل واضح ہو جائز ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے بیع سلم کی اجازت دی ہے باوجود یہ کہ بیچی جانے والی چیز بیچنے والے کے پاس بروقت موجود نہیں ہوتی۔ ( کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہوسکتا ہے ) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧ (٣٥٠٤)، سنن الترمذی/البیوع ١٩ (١٢٣٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٠ (٢١٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٦٤)، مسند احمد (٢/١٧٨)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٦٣٤، ٤٦٣٥ (صحیح )