جو شخص غلہ ناپ کر خریدے اس کا فروخت کرنا درست نہیں ہے جس وقت تک اس پر قبضہ نہ کر لے
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی ناپ کر خریدا ہوا اناج بیچے جب تک کہ اسے پورا پورا اپنی تحویل میں نہ لے لے۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade anyone to sell food that he brought.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4604
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٦٧ (٣٤٩٥)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٥)، مسند احمد (٢/١١١) (صحیح )