چاندی کو سونے کے بدلہ ادھار فروخت کرنا
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟، فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ.
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے، ہم نے آپ سے بیع صرف (اثمان کی خریدو فروخت) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: اگر وہ نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھار ہو تو یہ صحیح نہیں ۔
Abu Al-Minhal said: " I asked Al-Bara bin Azib and Zaid bin Arqam (RA) and they said: We were merchants at the time of the Messenger of Allah ﷺ and we asked the Prophet of Allah about money exchange. He said: "If it is done hand to hand there is nothing wrong with it, but if it is done on credit then it is not right.