جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 37 · 167 hadiths · Page 5 of 9

4051Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت یحیی بن سعید پر راوی طلحہ اور مصرف کے اختلاف کا تذکرہ

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ، فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ سَبِيلٌ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لِلرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، فَمَنْ قَتَلَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، وَحَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْكُفَّارِ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ، لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَ.

عبداللہ بن عباس ؓ آیت کریمہ إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین کے سلسلے میں نازل ہوئی، پس ان میں سے جو شخص توبہ کرنے سے پہلے اسے پکڑا جائے تو اس کو سزا دینے کا کوئی جواز نہیں، یہ آیت مسلمان شخص کے لیے نہیں ہے، پس جو (مسلمان) زمین میں فساد پھیلائے اور اللہ اور اس کے رسول سے لڑے، پھر پکڑے جانے سے پہلے کفار سے مل جائے تو اس کی جو بھی حد ہوگی، اس کے نفاذ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہوگی ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said, : Concerning the statement of Allah, the Most High: The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger. "This Verse was revealed concerning the idolators. Whoever among them repents before he is captured, you have no way against him. This Verse does not apply to the Muslims. Whoever kills, spreads mischief in the land, and wages war against Allah and His Messenger, then joins the disbelievers before he can be caught, there is nothing to prevent the Hadd punishment being carried out on him because of what he did.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4046
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن عباس ؓ کا مطلب یہ ہے کہ اگر مشرکین میں سے کوئی زمین میں فساد پھیلائے اور پکڑے جانے سے پہلے توبہ کرلے، تو اب اس پر زمین میں فتنہ و فساد پھیلانے کے جرم کی حد نافذ نہیں کی جائے گی، لیکن اگر مسلمانوں میں سے کوئی زمین میں فساد پھیلائے اور پکڑے جانے سے پہلے توبہ کرلے، تو بھی اس پر حد نافذ کی جائے گی اس کو معاف نہیں کیا جائے گا، یہ رائے صرف ابن عباس ؓ کی ہے، علی ؓ، نیز دیگر لوگوں نے توبہ کرلینے پر حد نہیں نافذ کی تھی (ملاحظہ ہو: عون المعبود) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٣ (٤٣٧٢)، (تحفة الأشراف: ٦٢٥١) (صحیح الإسناد )
4052Sunan An Nasai

مثلہ کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے خطبے میں صدقہ پر ابھارتے اور مثلہ سے منع فرماتے تھے۔

It was narrated from Anas who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to stress charity in his sermons, and prohibit mutilation.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4047
Notes · وضاحت
١ ؎: مردہ کے ہاتھ پاؤں اور کان ناک کاٹ دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣٨٩) (صحیح )
4053Sunan An Nasai

پھانسی دینا

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: زَانٍ مُحْصَنٌ يُرْجَمُ، أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا فَيُقْتَلُ، أَوْ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ يُحَارِبُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ فَيُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں: ایک تو شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جس نے کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کیا تو اسے قتل کیا جائے گا، تیسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہوئے اسلام سے مرتد ہوجائے، تو اسے سولی دی جائے گی، یا جلا وطن کردیا جائے گا ۔

It was narrated from Aishah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is not permissible to shed the blood of a Muslim except in three cases: An adulterer who had been married, who should be stoned to death; a man who killed another man intentionally, who should be killed; and a man who left Islam and waged war against Allah, the Might and Sublime, and His Messenger, who should be killed, or crucified, or banished from the land.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4048
Notes · وضاحت
١ ؎: من الإسلام کا ٹکڑا سنن أبی داود میں نہیں ہے، اسی بنا پر امام خطابی نے اس حدیث کا مصداق مسلم محاربین (جنگجوؤں) اور باغیوں کو قرار دیا ہے، جن کی سزاؤں کا بیان حدیث نمبر ٤٠٢٩ کے حاشیہ میں گزر چکا ہے، تینوں سزاؤں میں (امام کو اختیار دینے کی بات کافر محاربین کے بارے میں ہے) ٢ ؎: گویا محاربین اسلام کے سلسلہ میں اختیار ہے کہ امام انہیں قتل کرے، سولی دے یا جلا وطن کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١ (٤٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢٦)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٧٤٧) (صحیح )
4054Sunan An Nasai

مسلمان کا غلام اگر کفار کے علاقہ میں بھاگ جائے اور جریر کی حدیث میں شعبی پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اپنے مالک کے پاس لوٹ آئے ١ ؎۔

It was narrated that Jarir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If a slave runs away, no Salah will be accepted from him until he goes back to his masters.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4049
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، یعنی اس کا اجر و ثواب نہیں ملے گا، البتہ دینا میں اس پر سے نماز کی فرضیت ساقط ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣١ (٦٨)، سنن ابی داود/الحدود ١ (٤٣٦٠)، (تحفة الأشراف: ٣٢١٧، مسند احمد (٤/٣٦٤، ٣٦٥)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٠٥٥-٤٠٦١) (صحیح )
4055Sunan An Nasai

مسلمان کا غلام اگر کفار کے علاقہ میں بھاگ جائے اور جریر کی حدیث میں شعبی پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ جَرِيرٌ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ، وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا. وَأَبَقَ غُلَامٌ لِجَرِيرٍ، فَأَخَذَهُ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، اور اگر وہ مرگیا تو وہ کفر کی حالت میں مرا ۔ اور جریر ؓ کا ایک غلام بھاگ گیا تو آپ نے اسے پکڑا اور اس کی گردن اڑا دی۔

Jarir used to narrate from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "If a slave runs away, no Salah will be accepted from him, and if he dies he will die a disbeliever." A slave of Jarirs ran away, and he caught him and struck his neck (killing him)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4050
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (شاذ) (اس کے راوی ” جریر بن عبدالحمید “ سے وہم ہوجایا کرتا تھا، اور یہاں وہم ہوگیا ہے، دیکھئے پچھلی اور اگلی روایات )
4056Sunan An Nasai

مسلمان کا غلام اگر کفار کے علاقہ میں بھاگ جائے اور جریر کی حدیث میں شعبی پر اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَلَا ذِمَّةَ لَهُ.

جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جب غلام مشرکوں کے ملک میں بھاگ جائے تو پھر اس کا ذمہ نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Jarir bin Abdullah said: "If a slave runs away to the land of Shirk, there is no protection (or immunity) for him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4051
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی امان کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٠٥٤) (صحیح )
4057Sunan An Nasai

راوی ابواسحق سے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب غلام مشرکوں کی زمین میں بھاگ کر چلا جائے تو اس کا خون حلال ہے ۔

It was narrated that Jarir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If a slave runs away to the land of Shirk, it becomes permissible to shed his blood.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4052
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٠٥٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابواسحاق “ مختلط اور مدلس ہیں )
4058Sunan An Nasai

راوی ابواسحق سے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب غلام مشرکوں کی زمین میں بھاگ کر چلا جائے تو اس کا خون حلال ہے ۔

It was narrated from Jarir that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If a slave runs away to the land of Shirk, it becomes permissible to shed his blood.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4053
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف )
4059Sunan An Nasai

راوی ابواسحق سے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْجَرِيرٍ، قَالَ: أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ جو کوئی غلام بھاگ کر مشرکوں کی سر زمین میں چلا جائے تو اس کا خون حلال ہے۔

It was narrated that Jarir said: "Any slave who runs away to the land of Shirk, it becomes permissible to shed his blood.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4054
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٠٥٤ (ضعیف )
4060Sunan An Nasai

راوی ابواسحق سے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْجَرِيرٍ، قَالَ: أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ جو کوئی غلام بھاگ کر مشرکوں کی زمین میں چلا جائے تو اس کا خون حلال ہے۔

It was narrated that Jarir said: "Any slave who runs away to the land of Shirk, it becomes permissible to shed his blood.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4055
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٠٥٤ (ضعیف )
4061Sunan An Nasai

راوی ابواسحق سے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ وَلَحِقَ بِالْعَدُوِّ، فَقَدْ أَحَلَّ بِنَفْسِهِ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ جو کوئی غلام اپنے مالکوں سے بھاگا اور دشمن سے جا کر مل گیا تو اس نے خود کو حلال کردیا ١ ؎۔

It was narrated that Jarir said: "Any slave who runs away from his masters and joins the enemy, he has made it permissible to shed his blood.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4056
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا خون حلال ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٨٢١)، مسند احمد (١/٦٣) (ضعیف )
4062Sunan An Nasai

مرتد سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ، أَوْ قَتَلَ عَمْدًا فَعَلَيْهِ الْقَوَدُ، أَوِ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عثمان ؓ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں: ایک وہ شخص جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا تو اسے رجم کیا جائے گا، یا جس نے جان بوجھ کر قتل کیا تو اس کو اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا، یا وہ شخص جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا، تو اسے بھی قتل کیا جائے گا۔

It was narrated from Ibn Umar that: Uthman said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: It is not permissible to shed the blood of a Muslim except in three cases: A man who commits adultery after having married; or one who kills intentionally, in which case he deserves retaliation; or one who apostatizes after having become Muslim, in which case he deserves to be killed.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4057
Notes · وضاحت
١ ؎: مرتد کے سلسلہ میں اجماع ہے کہ اسے قتل کرنا واجب ہے، اس سلسلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٨٢١)، مسند احمد (١/٦٣) (صحیح )
4063Sunan An Nasai

مرتد سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِثَلَاثٍ: أَنْ يَزْنِيَ بَعْدَ مَا أُحْصِنَ، أَوْ يَقْتُلَ إِنْسَانًا فَيُقْتَلَ، أَوْ يَكْفُرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَيُقْتَلَ.

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں تین صورتوں کے سوائے: یہ کہ وہ شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرے، یا وہ کسی انسان کو قتل کرے تو اسے قتل کیا جائے یا وہ اسلام لانے کے بعد کافر (مرتد) ہوجائے تو اسے قتل کیا جائے ۔

It was narrated that Uthman bin Affan (RA) said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: It is not permissible to shed the blood of a Muslim except in three cases: A man who commits adultery after having married; or one who kills another person, who is to be killed; or who reverts to Kufr after having accepted Islam, who is to be killed.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4058
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٧٨٤) (صحیح )
4064Sunan An Nasai

مرتد سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے دین و مذہب کو بدلا اسے قتل کر دو ١ ؎۔

Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever changes his religion, kill him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4059
Notes · وضاحت
١ ؎: دین سے مراد دین اسلام ہے، لہٰذا اگر کوئی کفر سے اسلام میں داخل ہوا یا کسی دوسری ملت سے کسی اور ملت میں داخل ہوا تو اس کے سلسلہ میں یہ حکم نہیں ہے، واضح رہے کہ قتل کا حکم مرد اور عورت دونوں کو شامل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٤٩(٣٠١٧)، المرتدین ٢ (٦٩٢٢)، سنن ابی داود/الحدود ١ (٤٣٥١)، سنن الترمذی/الحدود ٢٥ (١٤٥٨)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢ (٢٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ٥٩٨٧)، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٨٢، ٢١٩)، ویأتي فیمایلي: ٤٠٦٥- ٤٠٦٦ (صحیح )
4065Sunan An Nasai

مرتد سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ نَاسًا ارْتَدُّوا، عَنِ الْإِسْلَامِ، فَحَرَّقَهُمْ عَلِيٌّ بِالنَّارِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ أَحَدًا، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ.

عکرمہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ اسلام سے پھرگئے ١ ؎ تو انہیں علی ؓ نے آگ میں جلا دیا۔ ابن عباس ؓ نے کہا: اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: تم کسی کو اللہ کا عذاب نہ دو ، اگر میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا (کیونکہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو اپنا دین بدل ڈالے اسے قتل کر دو ۔

It was narrated from Ikrimah: "Some people apostatized after accepting Islam, and Ali burned them with fire. Ibn Abbas said: If it had been me, I would not have burned them; the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No one should be punished with the punishment of Allah. If it had been me, I would have killed them; the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever changes his religion, kill him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4060
Notes · وضاحت
١ ؎: کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ عبداللہ بن سبا کے متبعین و پیروکاروں میں سے تھے، انہوں نے فتنہ پھیلانے اور امت کو گمراہ کرنے کے لیے اسلام کا اظہار کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4066Sunan An Nasai

مرتد سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنا دین بدلا اسے قتل کر دو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever changes his religion, kill him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4061
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٠٦٤ (صحیح )
4067Sunan An Nasai

مرتد سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنَاسَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنا دین بدلا اسے قتل کر دو ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever changes his religion, kill him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4062
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٠٦٤ (صحیح )
4068Sunan An Nasai

مرتد سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبَّادٍ.

حسن بصری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنا دین بدلا اسے قتل کر دو ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ عباد کی حدیث کی بہ نسبت صواب کے زیادہ قریب ہے ١ ؎۔

It was narrated that Al-Hasan said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever changes his religion, kill him.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4063
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قتادہ کے طریق سے اس روایت کا (بجائے ابن عباس ؓ کے حسن بصری کی روایت سے) مرسل ہونا ہی صحیح ہے، ورنہ قتادہ کے سوا دوسروں کے طریق سے یہ روایت مرفوع ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (سند میں حسن بصری نے ارسال کیا ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
4069Sunan An Nasai

مرتد سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنا دین بدل لیا اسے قتل کر دو ۔

It was narrated from Anas that : Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)said: Whoever changes his religion, kill him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4064
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٣٦٢) (صحیح )
4070Sunan An Nasai

مرتد سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَلِيًّا أُتِيَ بِنَاسٍ مِنَ الزُّطِّ يَعْبُدُونَ وَثَنًا فَأَحْرَقَهُمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ علی ؓ کے پاس کچھ جاٹ لائے گئے جو بت پوجتے تھے تو آپ نے انہیں جلا دیا ١ ؎ ابن عباس ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے تو بس اتنا کہا تھا جس نے اپنا دین بدل لیا، اسے قتل کر دو ۔

It was narrated from Anas that : Ali came to some people of Az-Zutt, who worshipped idols, and burned them. Ibn Abbas said: "But the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever changes his religion, kill him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4065
Notes · وضاحت
١ ؎: علی ؓ کا یہ فعل ان کی اپنی رائے اور اجتہاد کی بنیاد پر تھا، یہی وجہ ہے کہ جب انہیں ابن عباس ؓ سے مروی یہ حدیث پہنچی تو انہوں نے اس سے رجوع کرلیا۔ (واللہ اعلم )
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )