اس آیت کریمہ کی تفسیر وہ آیت ہے|"انما جزاء الذین یحاربون اللہ۔ الآیہ یعنی ان لوگوں کی سزا جو کہ اللہ اور رسول سے لڑتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں فساد برپا کریں وہ (سزا) یہ ہے کہ وہ لوگ قتل کیے جائیں یا ان کو سولی دے دی جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالیں جائیں یا وہ لوگ ملک بدر کردیئے جائیں اور یہ آیت کریمہ کن لوگوں سے متعلق نازل ہوئی ہے یہ ان کا بیان ہے
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی آئے، پھر انہوں نے اسی طرح لم يحسمهم ان کے زخموں کو داغا نہیں تک بیان کیا اور فقتلوا راعيها کے بجائے قتلوا الراعي کہا۔
It was narrated that Anas said: "Eighty men from Ukl came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)" and he (the narrator) mentioned a similar report up to the words: "And he did not have (their wounds) cauterized." And he said: "They killed the herdsman.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4026
اس آیت کریمہ کی تفسیر وہ آیت ہے|"انما جزاء الذین یحاربون اللہ۔ الآیہ یعنی ان لوگوں کی سزا جو کہ اللہ اور رسول سے لڑتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں فساد برپا کریں وہ (سزا) یہ ہے کہ وہ لوگ قتل کیے جائیں یا ان کو سولی دے دی جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالیں جائیں یا وہ لوگ ملک بدر کردیئے جائیں اور یہ آیت کریمہ کن لوگوں سے متعلق نازل ہوئی ہے یہ ان کا بیان ہے
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند آدمی آئے، انہیں جب مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی تو آپ ﷺ نے اونٹوں کا یا دودھ والی اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا، تو انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک لے گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگوں کو روانہ کیا اور ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیے، اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
It was narrated that Anas said: "A group of men from Ukl, or Uraynah, came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and when the climate of Al-Madinah did not suit them, he told them to go to some camels and drink their milk and urine. Then they killed the herdsman and stole the camels. He sent (men) after them, and had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4027
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے اونٹوں کے پاس بھیجا، انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا، جب وہ اچھے ہوگئے تو اسلام سے پھرگئے اور رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کئے، تو انہیں گرفتار کرلیا گیا، پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں اور انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: Some people from Uraynah came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent them to some camels of his, and he drank some of their milk and urine. When they recovered, they apostatized from Islam and killed the herdsman of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), who was a believer, and drove the camels off. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent (men) after them, and they were caught. He had their hands and feet cut off, their eyes gouged out, and had them crucified.
صحيح دون قوله وصلبهمصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4028
Notes · وضاحت
١ ؎: سولی پر چڑھانے کی بات کسی اور روایت میں نہیں ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ نے انہیں یونہی دھوپ میں ڈال دیا اسی حالت میں وہ تڑپ تڑپ کر مرگئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٠٥) (صحیح) (مگر ” وصلبھم “ کا جملہ صحیح نہیں ہے )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عرینہ کے کچھ لوگ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تم سب ہمارے اونٹوں میں جا کر رہتے، ان کا دودھ اور پیشاب پیتے (تو اچھا ہوتا) چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ اچھے ہوگئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو جا کر قتل کردیا اور کافر و مرتد ہوگئے اور نبی اکرم ﷺ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے، آپ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ روانہ کئے، چناچہ وہ سب گرفتار کر کے لائے گئے تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو گرم سلائی سے پھوڑ دیا۔
It was narrated that Anas said: "Some people from Uraynah came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to them: Why dont you go out to our camels and stay with them and drink their milk and urine? So they did that, and when they recovered, they went to the herdsman of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and killed him, reverted to being disbelievers, and drove off the camels of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He sent (men) after them, and they were brought to him. He had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4029
انس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تم جاتے اور ہمارے اونٹوں کا دودھ پیتے (تو اچھا ہوتا) (قتادہ نے البانہا (دودھ) کے بجائے ابو الہا (پیشاب) کہا ہے) چناچہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کے پاس گئے جب اچھے ہوگئے تو اسلام لانے کے بعد کافر (مرتد) ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور آپ کے اونٹ ہانک لے گئے اور جنگجو (لڑنے والے) بن کر گئے۔ آپ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگوں کو بھیجا تو وہ گرفتار کرلیے گئے، آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو گرم سلائی سے پھوڑ دیا ۔
It was narrated that Anas said: "Some people from Uraynah came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to them: Why dont you go out to our camels and drink their milk?" - (one of the narrators) Qatadah said: And their urine. - "So they went out to the camels of the Messenger of Allah, but when they recovered they killed the herdsman of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), who was a believer, and drove off the camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and left as those at war. He sent (men) after them and they were caught. Then he had their hands and feet cut off, and branded their eyes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4030
انس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ اسلام لائے تو انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تم لوگ ہمارے اونٹوں میں جاتے اور ان کا دودھ پیتے (تو اچھا ہوتا) ، (حمید کہتے ہیں: قتادہ نے انس سے البانہا (دودھ کے) بجائے ابو الہا (پیشاب) روایت کی ہے۔ ) انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ ٹھیک ہوگئے تو اسلام لانے کے بعد کافر و مرتد ہوگئے، رسول اللہ ﷺ کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا، اور آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے اور جنگجو بن کر نکلے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے کچھ لوگ بھیجے، چناچہ وہ سب گرفتار کرلیے گئے۔ آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور انہیں حرہ (مدینے کے پاس پتھریلی زمین) میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مرگئے۔
It was narrated that Anas said: "Some people from Uraynah became Muslim, but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to them: Why dont you go out to some camels of ours and drink their milk?" - (one of the narrators) Humaid said: "And Qatadah said, narrating from Anas: And their urine." - "So they did that, and when they recovered they reverted to disbelief after their Islam, killed the herdsman of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), who was a believer, drove off the camels of the Messenger of Allah, and fled as those at war. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent someone to bring them and they were caught. He had their hands and feet cut off and their eyes branded, then he left them in Al-Harrah until they died.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4031
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ہم مویشی والے لوگ ہیں ناکہ کھیت والے۔ انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے کچھ اونٹوں اور ایک چرواہے کا حکم دیا اور ان سے وہاں جانے کے لیے کہا تاکہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پی کر صحت یاب ہو سکیں، جب وہ ٹھیک ہوگئے (وہ حرہ کے ایک گوشے میں تھے۔ ) تو اسلام سے پھر کر کافر (و مرتد) ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، آپ نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیجا، تو وہ گرفتار کر کے لائے گئے، آپ نے ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور پھر انہیں حرہ میں ان کے حال پر چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مرگئے۔
Anas bin Malik (RA) narrated that: Some people or some men from Ukl, or Uraynah came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Messenger of Allah, we are herdsmen, not tillers," the climate of Al-Madinah did not suit them. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered that they be allocated some camels and a herdsman, and he told them to go out with them and drink their milk and urine. When they recovered and they were in the vicinity of Al-Harrah, they reverted to disbelief after their Islam, killed the herdsman of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and drove off the camels. He sent (men) after them and they were brought, and he had their eyes gouged out, and their hands and feet cut off. Then he left them in Al-Harrah in that state until they died.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4032
انس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ حرہ میں ٹھہرے، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقے کے اونٹوں میں جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیئیں، تو انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا، اسلام سے پھرگئے اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہیں پکڑ کر لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے، آنکھیں پھوڑ دیں اور انہیں حرہ میں ڈال دیا۔ انس ؓ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین سے اپنے منہ کو رگڑ رہا تھا، (یعنی زمین کو اپنے منہ سے چاٹ رہا تھا) یہاں تک کہ سب مرگئے۔
It was narrated from Anas that : Some people from Uraynah camped in Al-Harrah and came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). The climate of Al-Madinah did not suit them, so the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) told them to go and stay near the camels that had been given in Sadaqah, and to drink their milk and urine. Then they killed the herdsman and apostatized from Islam, and drove off the camels. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent (men) after them, who brought them, then he had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out, and left them in Al-Harrah. Anas said: "I saw one of them biting at the ground from thirst, until they died.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4034
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ پیلے پڑگئے، ان کے پیٹ پھول گئے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں کے پاس بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کا دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ جب وہ ٹھیک ہوگئے تو انہوں نے ان چرواہوں کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم ﷺ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ بھیجے، انہیں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر ان کو پھوڑ دیا۔ امیر المؤمنین عبدالملک نے انس ؓ سے کہا (وہ ان سے یہ حدیث بیان کر رہے تھے) : کفر (ردت) کی وجہ سے یا جرم کی وجہ سے (ان کے ساتھ ایسا کیا گیا) ؟ انہوں نے کہا: کفر (ردت) کی وجہ سے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "Some Bedouin from Uraynah came to the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and accepted Islam, but the climate of Al-Madinah did not suit them; their skin turned yellow and their bellies became swollen. The Prophet (صلی اللہ علیProphet of me milk camels of his and told them to drink their milk and urine until they recovered. Then they killed their herdsmen and drove off the camels. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) of Allah sentProphet of brought back, then he had their hands and feet cut off, and their eyes were branded." The Commander of the Believers, Abdul-Malik, said to Anas, when he was narrating this Hadith: "Was that (punishment) for Kufr or for sin?" He said: "For Kufr.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4035
تابعی سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ کچھ عرب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، پھر وہ بیمار پڑگئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کا دودھ پیئں۔ وہ انہیں اونٹنیوں میں رہے، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے غلام چرواہے پر نیت خراب کی اور اسے قتل کردیا اور اونٹنیاں ہانک لے گئے، لوگوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کی: اللہم عطش من عطش آل محمد الليلة اے اللہ! اسے پیاسا رکھ جس نے محمد کے گھر والوں کو اس رات پیاسا رکھا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ بھیجے۔ جب وہ گرفتار کرلیے گئے تو آپ نے ان کے ہاتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں۔ راویوں میں سے بعض دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کرتے ہیں، سوائے معاویہ کے، انہوں نے اس حدیث میں کہا ہے کہ وہ ہانک کر مشرکوں کی زمین کی طرف لے گئے۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Some Arab people came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and accepted Islam, then they became sick. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent them to some milk camels to drink their milk. While they were with them, they attacked the herdsman, who was a slave of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and killed him. They drove off the camels, and claimed that the Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) had said: O Allah, make thirsty the one who makes the family of Muhammad thirsty tonight. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent (men) after them, and they were caught. Then he had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out." Some of them (the narrators) added more than others, except that in his narration of this Hadith, Muawiyah said: "They drove them off to the land of Shirk.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4036
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیوں کو لوٹا تو آپ نے انہیں گرفتار کیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "Some people raided the milk camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He caught them and had their hands and feet cut off and their eyes gouged out.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4037
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں لوٹ لیں، انہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے، اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
It was narrated from Aishah (RA): "Some people raided the milk camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). They were brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had their hands and feet cut off and their eyes gouged out." This is the wording of Ibn Al-Muthanna.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4038
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٠ (٢٥٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٠٣٢)، ویأتي عند المؤلف: ٤٠٤٤، ٤٠٤٥) (صحیح الإسناد )
عروہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹ لوٹ لیے، تو آپ ﷺ ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
It was narrated from Hisham, from his father, that: Some people raided the camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He had their hands and feet cut off and their eyes gouged out.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4039
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٠٤٣ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ عروہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر صحیح ہے )
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں لوٹ لیں، انہیں ہانک لے گئے اور آپ کے غلام کو قتل کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کیے، وہ سب گرفتار کرلیے گئے، تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
It was narrated that Urwah bin Az-Zubair said: "Some people from Uraynah raided the milk camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and drove them off, and killed a slave of his. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent (men) after them, and they were caught, and he had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4040
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٠٤٣ (صحیح) (یہ روایت بھی مرسل ہے، اس لیے کہ عروہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کے ہاتھ کاٹے جن ہوں نے آپ کی اونٹنیاں چرائی تھیں اور آگ سے ان کی آنکھوں کو پھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں آپ کی سرزنش کی ١ ؎، چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ مکمل آیت اتاری إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … الخ ۔
It was narrated from Abu Az-Zinad that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had the (hands and feet) of those who drove off his camels cut off, and their eyes gouged out with fire. Allah rebuked him for that, and Allah, Most High, revealed the entire verse: "The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4042
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اثر ضعیف ہے اور اس میں یہ بات کہ ابوالزناد نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی اکرم ﷺ کے متعلق عتاب کی جو بات کہی ہے غیر مناسب ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے ساتھ وہی سلوک اپنایا جو انہوں نے آپ ﷺ کے چروا ہوں کے ساتھ اپنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سلوک پر صاد کیا، صرف آنکھیں پھوڑنے کی ممانعت کردی۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (یہ روایت معضل ہے، سند سے ابو الزناد کے بعد دو آدمی ساقط ہیں )
زیر نظر حدیث شریف میں حضرت یحیی بن سعید پر راوی طلحہ اور مصرف کے اختلاف کا تذکرہ
أخبرنا الفضل بن سهل الأعرج قال حدثنا يحيى بن غيلان - ثقة مأمون - قال حدثنا يزيد بن زريع عن سليمان التيمي عن أنس قال إنما سمل النبي صلى الله عليه وسلم أعين أولئك لأنهم سملوا أعين الرعاة .
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کی آنکھیں پھوڑ دیں کیونکہ ان لوگوں نے چرواہوں کی آنکھیں پھوڑ دی تھیں۔
It was narrated that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) only had the eyes of those people gouged out, because they had gouged out the eyes of the herdsmen.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4043
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک انصاری لڑکی کو اس کے زیور کی لالچ میں قتل کر کے، اسے کنوئیں میں پھینک دیا اور اوپر سے اس کا سر پتھروں سے کچل دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اسے پتھروں سے اس طرح مارا جائے کہ وہ مرجائے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: A Jewish man killed an Ansari girl for her jewelry, and threw her in an empty well, and crushed her head with a rock. He was caught and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered that he be stoned to death.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4044
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک انصاری لڑکی کو اس کے ایک زیور کی لالچ میں قتل کردیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں پھینک دیا اور اس کا سر پتھر سے کچل دیا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اسے پتھروں سے اس طرح مارا جائے کہ وہ ہلاک ہوجائے ۔
It was narrated from Anas that: A man killed an Ansari girl for her jewelry, then he threw her in an empty well, and crushed her head with a rock. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered that he be stoned to death.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4045