زیر نظر حدیث شریف میں حضرت انس بن مالک سے حمید راوی پر دوسرے راویوں کے اختلاف کا تذکرہ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَوْدٍ لَهُ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَلَمَّا صَحُّوا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَصَلَبَهُمْ.
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے اونٹوں کے پاس بھیجا، انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا، جب وہ اچھے ہوگئے تو اسلام سے پھرگئے اور رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کئے، تو انہیں گرفتار کرلیا گیا، پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں اور انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: Some people from Uraynah came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent them to some camels of his, and he drank some of their milk and urine. When they recovered, they apostatized from Islam and killed the herdsman of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), who was a believer, and drove the camels off. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent (men) after them, and they were caught. He had their hands and feet cut off, their eyes gouged out, and had them crucified.