زیر نظر حدیث شریف میں حضرت یحیی بن سعید پر راوی طلحہ اور مصرف کے اختلاف کا تذکرہ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ قَالَ: أَغَارَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوهَا، وَقَتَلُوا غُلَامًا لَهُ،فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں لوٹ لیں، انہیں ہانک لے گئے اور آپ کے غلام کو قتل کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کیے، وہ سب گرفتار کرلیے گئے، تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
It was narrated that Urwah bin Az-Zubair said: "Some people from Uraynah raided the milk camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and drove them off, and killed a slave of his. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent (men) after them, and they were caught, and he had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out.