داود کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن المسیب سے پوچھا: وہ کون سا مشروب ہے جسے عمر ؓ نے حلال قرار دیا؟ وہ بولے: جو اس قدر پکایا جائے کہ اس کا دو تہائی حصہ ختم ہوجائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
It was narrated that Dawud said: "I asked Saeed: What is the drink that Umar bin Al-Khattab (RA) regarded as permissible? He said: That which has been cooked until two-third has gone and one-third is left.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5719
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ان سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جو پکا کر آدھا رہ گیا ہو، انہوں نے کہا: نہیں، جب تک دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
It was narrated that Yala bin Ata said: "I heard Saeed bin Al-Musayyab say, when a Bedouin asked him about a drink that had been cooked and reduced by half: No, not until two-third has gone and one-third is left.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5722
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جب طلاء جل کر ایک تہائی رہ جائے تو اسے پینے میں کوئی حرج نہیں۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "When At-Tila (thickened grape juice) has been cooked and reduced to one-third, then there is nothing wrong with it.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5723
بشیر بن مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے پوچھا: شیرہ (رس) کس قدر پکایا جائے۔ انہوں نے کہا: اس وقت تک پکاؤ کہ اس کا دو تہائی جل جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
It was narrated that Bushair bin Al-Muhajir said: "I asked Al-Hasan about juice that has been cooked. He said: That which has been cooked until two-third of it has gone and one-third is left.
حسن الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5725
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو کہتے ہوئے سنا: نوح (علیہ السلام) سے شیطان نے انگور کے پودے کے بارے میں جھگڑا کیا، اس نے کہا: یہ میرا ہے، انہوں نے کہا: یہ میرا ہے، پھر دونوں میں صلح ہوئی اس پر کہ نوح (علیہ السلام) کا ایک تہائی ہے اور شیطان کا دو تہائی ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Sirin said: "I heard Anas bin Malik (RA) say: The Shaitan disputed with Nuh علیہ السلام, concerning the grapevine. One said: "This is for me," and the other said: "This is for me." Then they agreed that Nuh علیہ السلام would have one-third and the Shaitan would have two-thirds.
حسن الإسناد موقوف وهو بالإسرائيليات أشبهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5726
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی طرف عمر ؓ کا اشارہ تھا۔ (دیکھئیے نمبر ٥٧٢٠ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: ٢٣٧) (حسن الإسناد) (یہ اثر اسرائیلیات سے قریب ہے )
عبدالملک بن طفیل جزری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں لکھا: طلاء مت پیو، جب تک کہ اس کا دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی نہ رہ جائے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
It was narrated that Abdul-Malik bin Tufail Al-Jazari said: "Umar bin Abdul-Aziz رحمۃ اللہ علیہ wrote to us (saying): Do not drink At-Tila (thickened grape juice) until two-third of it are gone and one-third remains, and every intoxicant is unlawful.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5727
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦٠٣ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبدالملک مجہول ہیں، لیکن اس معنی کی پچھلی اگلی روایات صحیح ہیں )
ابوثابت ثعلبی کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور ان سے رس (شیرے) کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: جب تک تازہ ہو پیو۔ اس نے کہا: میں نے ایک مشروب کو پکایا ہے پھر بھی وہ میرے دل میں کھٹک رہا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم اسے پکانے سے پہلے پیتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: آگ سے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی۔
It was narrated that Abu Thabit Ath-Thalabi said: "I was with Ibn Abbas when a man came to him and asked him about juice. He said: Drink that which is fresh. He said: I cooked a drink on the fire and I am not sure about it. He said: Did you drink it before you cooked it? He said: No. He said: Fire does not make permissible something that is forbidden." (Sahih Mawquf)
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5729
عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم! آگ کسی (حرام) چیز کو حلال نہیں کرتی، اور نہ ہی کسی (حلال) چیز کو حرام کرتی ہے پھر آپ نے اپنے اس قول آگ کسی چیز کو حلال نہیں کرتی کی شرح میں یہ کہا کہ یہ رد ہے طلاء کے سلسلے میں بعض لوگوں کے قول کا ١ ؎ کہ آگ جس کو چھولے اس سے وضو واجب ہوجاتا ہے ٢ ؎۔
Ata said: "I heard Ibn Abbas say: By Allah, fire does not make anything permissible or forbidden." He said: "Then he explained what he meant by it does not make permissible as referring to what they said about At-Tila (thickened grape juice), and he explained what he said about it does not make forbidden as referring to performing Wudu after eating something that has been touched by fire.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5730
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ قول یہ ہے آگ سے طلاء حلال ہوجاتا ہے یعنی: طلاء کا دد تہائی جب جل جائے اور ایک ثلث باقی رہ جائے تو یہ آخری تہائی حلال ہے۔ ٢ ؎: یہ تردید اس طرح ہے کہ اگر یہ کہتے ہیں کہ آگ سے پکنے سے پہلے کوئی چیز حلال تھی اور پکنے کے بعد وہ حرام ہوگئی، تو یہ ماننا پڑے گا کہ آگ بھی کسی چیز کو حلال اور حرام کرتی ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ اس تشریح سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ الوضوء مما مست النار کا جملہ حدیث نمبر ٥٧٣٣ کا تتمہ ہے، نہ کہ کوئی مستقل باب کا عنوان، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے (سندھی اور حاشیہ نظامیہ میں اس پر انتباہ موجود ہے، نیز: اگر اس جملے کو ایک مستقل باب مانتے ہیں تو اس میں مذکور آثار (نمبر ٥٧٣٤ تا ٥٧٣٧ ) کا اس باب سے کوئی تعلق بھی نظر نہیں آتا)۔
ہشام بن عائذ اسدی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے شیرے (رس) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے پیو، جب تک کہ ابل کر بدل جائے۔
It was narrated that Hisham bin Aidh Al-Asadi said: "I asked Ibrahim about juice and he said: Drink it, unless it bubbles, so long as it doesnt change.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5732
عبداللہ دیلمی کے والد فیروز ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم انگور والے لوگ ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرما دی ہے، اب ہم کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: اسے سکھا کر منقیٰ بنا لو ۔ میں نے کہا: تب ہم منقیٰ کا کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: اسے صبح کے وقت بھگوؤ دو اور شام کو پیو، اور شام کو بھگوؤ صبح کو پیو ۔ میں نے کہا: دیر تک نہ رہنے دیں یہاں تک کہ اس میں تیزی آجائے؟ آپ نے فرمایا: اسے گھڑوں میں مت رکھو بلکہ چمڑے کی مشک میں رکھو اس لیے کہ اگر اس میں زیادہ دیر تک رہا تو وہ (مشروب) سرکہ بن جائے گا ۔
It was narrated from Abdullah Ad-Dailami that his father Fairuz said: "I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, we have grapevines and Allah, the Mighty and Sublime, has revealed that Khamr (wine) is forbidden, so what should we do? He said: Make raisins. I said: What should we do with the raisins? He said: Soak them in the morning and drink them in the evening, and soak them in the evening and drink them in the morning. I said: Can we leave it until it gets stronger? He said: Do not put it in clay vessels, rather put it in skins, for if it stays there for a long time, it will turn into vinegar.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5735
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں (بشمول باب ٥٧ ) جو احادیث و آثار مذکور ہیں ان کا حاصل مطلب یہ ہے کہ کچھ مشروبات کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ کسی مرحلہ میں ان میں نشہ نہیں ہوتا اور کسی مرحلہ میں ہوجاتا ہے، تو جب مرحلہ میں نشہ نہیں ہوتا اس کا پینا حلال ہے، اور جب نشہ پیدا ہوجائے تو خواہ کم مقدار میں ہو یا زیادہ مقدار میں کم مقدار میں پینے سے خواہ نشہ آئے یا نہ آئے اس کا پینا حرام ہے۔ الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات۔
فیروز دیلمی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے انگور کے باغات ہیں ہم ان کا کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ان کا منقیٰ اور کشمش بنا لو ، ہم نے عرض کیا: پھر منقے اور کشمش کا کیا کریں، آپ نے فرمایا: صبح کو بھگاؤ اور شام کو پی لو، اور شام کو بھگاؤ صبح کو پی لو، اور اسے مشکیزوں میں بھگاؤ، گھڑوں میں نہ بھگانا، اس لیے کہ اگر اس میں وہ (مشروب) دیر تک رہ گیا تو سرکہ بن جائے گا ۔
It was narrated from Ibn Al-Dailami that his father said: "We said: O Messenger of Allah, we have grapevines; what should we do with them? He said: Make raisins. We said: What should we do with the raisins? He said: Soak them in the morning and drink them in the evening, and soak them in the evening and drink them in the morning. I said: Can we leave it until it gets stronger? He said: Do not put it in clay vessels, rather put it in skins, for if it stays there for a long time, it will turn into vinegar.
حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5736
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تھی، آپ اسے دوسرے دن اور تیسرے دن پیتے ١ ؎، جب تیسرے دن کی شام ہوتی اور اگر اس میں سے کچھ برتن میں بچ گئی ہوتی تو اسے نہیں پیتے بلکہ بہا دیتے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Nabidh would be made for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he would drink it in the morning, and on the following morning. Then on the evening before the third day, if there was anything left in the vessel, they would not drink it and it would be thrown away.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5737
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ہم نبیذ تیار کرتے جسے آپ ایک دن اور رات تک پیتے، تو یہ حدیث ابن عباس ؓ کی اس حدیث کے معارض نہیں ہے کیونکہ عائشہ ؓ کی حدیث میں اس سے زیادہ مدت تک پینے کی نفی نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی، آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور تیسرے دن تک پیتے۔
It was narrated from Ibn Abbas that: Raisins would be soaked for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he would drink it that day, the following day, and the day after that.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5738