کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَعْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: إِذَا طُبِخَ الطِّلَاءُ عَلَى الثُّلُثِ فَلَا بَأْسَ بِهِ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جب طلاء جل کر ایک تہائی رہ جائے تو اسے پینے میں کوئی حرج نہیں۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "When At-Tila (thickened grape juice) has been cooked and reduced to one-third, then there is nothing wrong with it.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5723
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: ١٨٧٥٤) (صحیح الإسناد )