کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَسَأَلَهُ أَعْرَابِيٌّ عَنْ شَرَابٍ يُطْبَخُ عَلَى النِّصْفِ ؟، فَقَالَ: لَا، حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى الثُّلُثُ.
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ان سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جو پکا کر آدھا رہ گیا ہو، انہوں نے کہا: نہیں، جب تک دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
It was narrated that Yala bin Ata said: "I heard Saeed bin Al-Musayyab say, when a Bedouin asked him about a drink that had been cooked and reduced by half: No, not until two-third has gone and one-third is left.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5722
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٧٥٨) (صحیح الإسناد )