کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّهُ كَانَ يَشْرَبُ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ.
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایسا طلاء پیتے تھے جس کا دو تہائی جل کر ختم ہوگیا ہو اور ایک تہائی باقی ہو۔
It was narrated from Abu Musa Al-Ashari that: He used to drink thickened grape juice that of which two-third had gone and one-third was left.
صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5721
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: ٩٠٢٧) (صحیح )