کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّأَبَا الدَّرْدَاءِكَانَ يَشْرَبُ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ.
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ابو الدرداء ؓ ایسا مشروب پیتے جو دو تہائی جل کر ختم ہوگیا ہو اور ایک تہائی باقی رہ گیا ہو۔
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that : Abu Ad-Darda used to drink that of which two-third had gone and one-third was left.
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5720
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: ١٠٩٣٦) (صحیح الإسناد )