عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے رات کو کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی، وہ مشکیزے میں رکھی جاتی پھر آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد کے (تیسرے) دن پیتے، جب تیسرے دن کا آخری وقت ہوتا تو آپ اسے (کسی کو) پلاتے یا خود پی لیتے اور صبح تک کچھ باقی رہ جاتی تو اسے بہا دیتے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Nabidh of raisins would be made for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) at night, and he would put it in a water skin and drink it during the next day, the day after, and the day after that. At the end of the third day, he would give it to others to drink, or drink it himself, and if anything was left the following morning, he would pour it away.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5739
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے لیے مشکیزے میں کشمش صبح کو بھگوئی جاتی، پھر وہ اسے رات کو پیتے اور شام کو بھگوئی جاتی تو صبح کو پیتے، اور وہ مشکیزے کو دھو لیتے تھے، اور معمولی سا تل چھٹ وغیرہ نہیں رہنے دیتے۔ نافع کہتے ہیں: ہم اسے شہد کی طرح پیتے تھے۔
It was narrated from Ibn Umar that: Nabidh of raisins would be made for him in a water skin in the morning, and he would drink it that night, and it would be made for him in the evening, and he would drink it in the morning. He would wash out the water skins and not leave any pieces or anything in them. Nafi said: "We used to drink it like honey.
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5740
بسام کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے نبیذ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: علی بن حسین کے لیے رات کو نبیذ تیار کی جاتی تو وہ صبح کو پیتے، اور صبح کو تیار کی جاتی تو رات کو پیتے۔
It was narrated that Bassam said: "I asked Abu Jafar about Nabidh and he said: Ali bin Husain, may Allah be pleased with him, would have Nabidh made for him at night, and he would drink it in the morning, and he would have Nabidh made in the morning and he would drink it at night.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5741
ابوعثمان (جو ابوعثمان نہدی نہیں ہیں) سے روایت ہے کہ ام الفضل نے انس بن مالک ؓ سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھوایا۔ تو انہوں نے اپنے بیٹے نضر کے واسطہ سے ان کو بتایا کہ وہ گھڑے میں نبیذ تیار کرتے تھے، اور صبح کو نبیذ تیار کرتے اور شام کو پیتے۔
It was narrated from Abu Uthman, who was not Al-Hindi, that: Umm Al-Fadl sent word to Anas bin Malik (RA) , asking him about Nabidh made in an earthenware jar. He told her about his son An-Nadr, who used to make Nabidh in an earthenware jar in the morning and drink it in the evening.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5743
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٢٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” ابو عثمان “ لین الحدیث ہیں )
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خمر کا نام خمر اس لیے پڑا کہ وہ کچھ دیر رکھ چھوڑا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نتھر کر بالکل صاف ہوجاتا ہے، اور نیچے تل چھٹ بیٹھ جاتی ہے، اور وہ ہر اس نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے جس میں تل چھٹ ملا دی گئی ہو۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Khamr is so called because it is left until the good parts are gone and the dregs remain." And he disliked everything that was made by using dregs (by adding new materials to the dregs).
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5746
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آجائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے۔
It was narrated that Ibrahim said: "They used to think that whoever drank something and became intoxicated from it, it was not befitting for him to go back and drink more of the same.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5747
ابومسکین کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا: ہم لوگ خمر (شراب) یا طلاء کا تل چھٹ لیتے ہیں، پھر اسے صاف کر کے اس میں تین روز تک کشمش بھگوتے ہیں، پھر ہم اسے صاف کرتے ہیں، پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی حد کو پہنچ جائے، پھر ہم اسے پیتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ مکروہ ہے۔
It was narrated that Abu Al-Miskin said: "I asked Ibrahim: We take the dregs of Khamr or Tila (thickened grape juice) and clean them, then we soak it with raisins for three days, then we strain it and leave it until it matures, then we drink it. He said: That is Makruh.
حسن الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5749
ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی سے نشہ لانے والی چیز کی رخصت صحیح روایت کے ساتھ نہیں سنی سوائے ابراہیم نخعی کے۔
Ibn Al-Mubarak said: "I have never found any sound report, giving a concession on intoxicants, except the report narrated from Ibrahim.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5751
عبیداللہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابواسامہ کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی شخص کو عبداللہ بن مبارک سے زیادہ علم کا طالب شام، مصر، یمن اور حجاز میں نہیں دیکھا۔
Ubaidullah bin Saeed said: "I heard Abu Usamah say: I never saw any man more assiduous in seeking knowledge than Abdullah bin Al-Mubarak, not in Ash-Sham, Egypt, Yemen or the Hijaz.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5752
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ام سلیم ؓ کے پاس لکڑی کا ایک پیالا تھا، جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ میں نے اس میں رسول اللہ ﷺ کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے: پانی، شہد، دودھ اور نبیذ۔
It was narrated that Anas said: Umm Sulaim had a wooden cup and she said: "I gave the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) all kinds of things to drink in it: Water, honey, milk and Nabidh.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5753
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب ؓ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: پانی پیو، شہد پیو، ستو اور دودھ پیو جس سے تم پلے بڑھے ہو۔ میں نے پھر پوچھا تو کہا: کیا تم شراب چاہتے ہو؟، کیا تم شراب چاہتے ہو؟۔
It was narrated from Saeed bin Abdur-Rahman bin Abza that his father said: "I asked Ubayy bin Kab about Nabidh, and he said: Drink water, drink honey, drink Sawiq (barley gruel) and drink milk that you have been nourished with since childhood. I repeated the question and he said: Is it wine you want? Is it wine you want?
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5754
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کئی مشروبات ایجاد کرلی ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں۔ لیکن میرا مشروب کوئی بیس سال (یا کہا: چالیس سال) سے سوائے پانی اور ستو کے کچھ نہیں اور نبیذ کا ذکر نہیں کیا۔
It was narrated that Ibn Masud said: "The people have invented new drinks and I do not know what they are. I have not drunk anything for 20 years (or he said: 40 years) except water and Sawiq (barley gruel), and he did not mention Nabidh.
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5755
عبیدہ سلمانی کہتے ہیں کہ لوگوں نے بہت سارے مشروبات ایجاد کرلیے، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں، لیکن میرا تو بیس سال سے سوائے پانی، دودھ اور شہد کے کوئی مشروب نہیں ہے۔
It was narrated that Abidah said: "The people have invented drinks and I do not know what they are. I have not drunk anything for 20 years except water, milk and honey.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5756
ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ طلحہ ؓ نے کوفہ والوں سے کہا: نبیذ میں فتنہ ہے اس میں چھوٹا بڑا ہوجاتا ہے اور بڑا بوڑھا ہوجاتا ہے، وہ (ابن شبرمہ) کہتے ہیں: اور جب کسی شادی کا ولیمہ ہوتا تو طلحہ اور زبیر ؓ دودھ اور شہد پلاتے۔ طلحہ ؓ سے کہا گیا: آپ نبیذ کیوں نہیں پلاتے؟ وہ بولے: مجھے ناپسند ہے کہ میری وجہ سے کسی مسلمان کو نشہ آئے۔
It was narrated that Ibn Shubrumah said: "Talhah said to the people of Al-Kufah concerning Nabidh: It is a test whereby a young man may benefit but an old man may be harmed. If there was a wedding among them, Talhah and Zubaid would offer milk and honey to drink. It was said to Talhah: Why dont you offer Nabidh? He said: I would not like a Muslim to become intoxicated because of me.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5757