حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ نَطْلَ النَّبِيذِ فِي النَّبِيذِ لِيَشْتَدَّ بِالنَّطْلِ.
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ نبیذ کے تل چھٹ کو نبیذ میں ملایا جائے تاکہ تل چھٹ کی وجہ سے اس میں تیزی آجائے۔
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyib that: He disliked putting the dregs of Nabidh into (new) Nabidh lest it become strong because of the dregs.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5744
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٧٢٤) (صحیح الإسناد )