Sunan An Nasai 5749

کتاب الا شربة

5749Sunan An Nasai

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْخَمْرُ لِأَنَّهَا تُرِكَتْ حَتَّى مَضَى صَفْوُهَا وَبَقِيَ كَدَرُهَا، وَكَانَ يَكْرَهُ كُلَّ شَيْءٍ يُنْبَذُ عَلَى عَكَرٍ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خمر کا نام خمر اس لیے پڑا کہ وہ کچھ دیر رکھ چھوڑا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نتھر کر بالکل صاف ہوجاتا ہے، اور نیچے تل چھٹ بیٹھ جاتی ہے، اور وہ ہر اس نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے جس میں تل چھٹ ملا دی گئی ہو۔

It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Khamr is so called because it is left until the good parts are gone and the dregs remain." And he disliked everything that was made by using dregs (by adding new materials to the dregs).

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5746
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٧٢٣) (صحیح الإسناد )