نبیذ سے متعلق ابراہیم پر رواة کا اختلاف
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا فَسَكِرَ مِنْهُ لَمْ يَصْلُحْ لَهُ أَنْ يَعُودَ فِيهِ.
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آجائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے۔
It was narrated that Ibrahim said: "They used to think that whoever drank something and became intoxicated from it, it was not befitting for him to go back and drink more of the same.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5747
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٤٢٥) (صحیح الإسناد )