کونسی طلاء پینا درست ہے اور کونسی نہیں؟
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وَاللَّهِ، مَا تُحِلُّ النَّارُ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ، قَالَ: ثُمَّ فَسَّرَ لِي قَوْلَهُ: لَا تُحِلُّ شَيْئًا لِقَوْلِهِمْ فِي الطِّلَاءِ وَلَا تُحَرِّمُهُ.
عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم! آگ کسی (حرام) چیز کو حلال نہیں کرتی، اور نہ ہی کسی (حلال) چیز کو حرام کرتی ہے پھر آپ نے اپنے اس قول آگ کسی چیز کو حلال نہیں کرتی کی شرح میں یہ کہا کہ یہ رد ہے طلاء کے سلسلے میں بعض لوگوں کے قول کا ١ ؎ کہ آگ جس کو چھولے اس سے وضو واجب ہوجاتا ہے ٢ ؎۔
Ata said: "I heard Ibn Abbas say: By Allah, fire does not make anything permissible or forbidden." He said: "Then he explained what he meant by it does not make permissible as referring to what they said about At-Tila (thickened grape juice), and he explained what he said about it does not make forbidden as referring to performing Wudu after eating something that has been touched by fire.