کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ طُفَيْلٍ الْجَزَرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَنْ لَا تَشْرَبُوا مِنَ الطِّلَاءِ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
عبدالملک بن طفیل جزری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں لکھا: طلاء مت پیو، جب تک کہ اس کا دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی نہ رہ جائے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
It was narrated that Abdul-Malik bin Tufail Al-Jazari said: "Umar bin Abdul-Aziz رحمۃ اللہ علیہ wrote to us (saying): Do not drink At-Tila (thickened grape juice) until two-third of it are gone and one-third remains, and every intoxicant is unlawful.