ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ (رمضان کی) اکیسویں رات کی صبح کو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کا نشان تھا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri (RA) said: "My two eyes saw the traces of water and mud on the forehead and nose of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), from his praying Qiyam on the night of the twenty-first".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1095
Notes · وضاحت
١ ؎: تفصیل سے یہی حدیث باب السہو ( ١٣٥٧ ) میں وارد ہوئی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاء: پیشانی اور ناک، دونوں ہتھیلی، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں ۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I have been commanded to prostrate on seven, and not to tuck up my hair nor my garment: the forehead, the nose, the hands, the knees and the feet".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1096
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر، اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک پر کا اشارہ کیا، اور دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر کے کناروں یعنی انگلیوں پر۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I have been commanded to prostrate on seven bones: on the forehead"- and he pointed with his hand- "on the nose, the hands, the knees and the ends of the feet".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1097
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٩٧، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اور بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے روکا گیا: اپنی دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے اور انگلیوں کے سروں پر۔ سفیان کہتے ہیں: ابن طاؤس نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھے، اور انہیں اپنی ناک پر گزارا، اور کہا: یہ سب ایک ہے۔ امام نسائی کہتے ہیں: یہ الفاظ محمد بن منصور کے ہیں۔
It was narrated from Ibn Abbas: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was commanded to prostrate on seven-and he was forbidden to tuck up his hair and garment-on his hands, his knees, the edges of his feet". Sufyan said: "Ibn Tawus said to us: He put his hand on his forehead and moved it down to his nose and said: This one thing".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1098
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٩٧، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٨) (صحیح )
عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے ساتوں اعضاء یعنی اس کا چہرہ، دونوں ہتھیلی، دونوں گھٹنے اور دونوں پیر سجدہ کرتے ہیں ۔
t was narrated from Abbas bin Abdul-Muttalib that: He heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "When a person prostrates, seven parts of his body prostrate with him: his forehead, his two hands, his two knees and his two feet".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1099
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٩٥، (تحفة الأشراف: ٥١٢٦) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک رات مجھے رسول اللہ ﷺ بستر پہ نہیں ملے تو میں تلاش کرتی ہوئی آپ تک پہنچی، آپ سجدے میں تھے، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے، اور آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے: اللہم إني أعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک وبک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، تیرے عفو و درگزر کی تیری سزا اور عقوبت سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے، میں تیری تعریف کی طاقت نہیں رکھتا، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف بیان کی ہے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "I noticed the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was missing one night, and I found him when he was prostrating with his feet held upright, and he was saying: Allahumma, inni audhu biridaka min sakhatik, wa bimuafatika min uqubatik, wa bika minka la uhsi thanaan alaika anta kama athnaita ala nafsik (O Allah, I seek refuge with Your pleasure from Your wrath, in Your forgiveness from Your punishment and in You from You. I cannot praise You enough, You are as You have praised Yourself").
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1100
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٩، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٧) (صحیح )
ابو حمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے تو اپنے بازوؤں کو اپنی بغل سے الگ رکھتے، اور اپنے پیر کی انگلیوں کو کھلا رکھتے - یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
It was narrated that Abu Humaid As-Saidi said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) fell to the ground during prostration, he held his arms away from his sides and bent his toes".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1101
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٤٠، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧) (صحیح )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز ضرور دیکھوں گا (کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں تو میں نے دیکھا) آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے دونوں انگوٹھوں کو آپ کی دونوں کانوں کے قریب دیکھا، اور جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سجدہ کیا، آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کانوں کی اس جگہ تک اٹھے جہاں تک آپ نے شروع نماز میں انہیں اٹھایا تھا (یعنی انہیں دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھایا) ۔
It was narrated that Wail bin Hujr said: "I came to Al-Madinah and said: I am going to watch the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray. He said the takbir and raised his hands until I saw his thumbs near his ears. When he wanted to bow, he said the takbir and raised his hands. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him). Then he said the takbir and prostrated, and his hands were in the same position in relation to his ears as when he started the prayer".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1102
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٩٠، (تحفة الأشراف: ١١٧٨١) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کوئی شخص سجدے میں اپنے دونوں بازو (زمین پر) کتے کے بچھانے کی طرف نہ بچھائے ۔
It was narrated from Anas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not rest your forearms on the ground like a dog when prostrating".
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1103
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ براء ؓ نے ہمیں سجدہ کر کے دکھایا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے، اور اپنی سرین اٹھائے رکھی، اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Abu Ishaq said: "Al-Bara described the prostration to us. He places his hands on the ground and raised his posterior and said: This is what I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) doing".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1104
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥٨ (٨٩٦)، مسند احمد ٤/٣٠٣، (تحفة الأشراف: ١٨٦٤) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی حافظے کے کمزور راوی ہیں )
عبداللہ بن مالک ابن بحینہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ کشادگی رکھتے، یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی ظاہر ہوجاتی۔
It was narrated from Abdullah bin Malik bin Buhainah that: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed he held his arms out so much that the whiteness of his armpits appeared.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1106
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ اگر میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوتا تو میں آپ کی دونوں بغل ضرور دیکھتا ہوتا ١ ؎۔ ابومجلز کہتے ہیں کہ گویا انہوں نے یہ بات اس وجہ سے کہی ہے کیونکہ وہ نماز میں موجود تھے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "If I were in front of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) I would be able to see the whiteness of his armpits". (One of the narrators) Abu Mijlaz said: "It is as if he said that because he was praying".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1107
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ اس قدر کشادہ رکھتے کہ آپ کی دونوں بغل کی سفیدی دکھائی دیتی۔
عبداللہ بن اقرم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے آپ کی دونوں بغل کی سفیدی نظر آتی۔
It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah bin Aqram that his father said: "I prayed with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and I used to see the whiteness of his armpits when he prostrated".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1108
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٨٩ (٢٧٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨١)، (تحفة الأشراف: ٥١٤٢)، مسند احمد ٤/٣٥ (صحیح )
ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
It was narrated from Maimunah that: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prostrated he would hold his arms out from his sides so that if a lamb wanted to pass beneath his arms it would be able to do so.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1109
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو ١ ؎ اور تم میں سے کوئی اپنے دونوں ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے - یہ الفاظ اسحاق بن راہویہ کے ہیں۔
It was narrated that Qatadah said: "I heard Anas (narrate) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Be moderate in prostration and do not rest your forearms along the ground like a dog".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1110
Notes · وضاحت
١ ؎: سجدہ میں اپنی ہیئت درمیانی رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے، اور کہنیوں کو زمین سے اور پیٹ کو ران سے الگ رکھے۔
Takhrij · تخریج
حدیث سعید عن قتادة عن أنس قد تقدم، انظر حدیث رقم: ١٠٢٩، (تحفة الأشراف: ١١٩٧)، وحدیث شعبة عن قتادة عن أنس أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٤١ (٨٢٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٥ (٤٩٣)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٨ (٨٩٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٠ (٢٧٦)، مسند احمد ٣/١١٥، ١٧٧، ١٧٩، ٢٠٢، ٢٧٤، ٢٩١، سنن الدارمی/الصلاة ٧٥ (١٣٦١)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٧) (صحیح )
ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ نماز کفایت نہیں کرتی جس میں آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۔
It was narrated that Abu Masud said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No prayer is valid in which a man does not maintain his back (at ease) when bowing and prostrating".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1111
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٢٨، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٥) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن شبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین باتوں سے منع کیا ہے: ایک کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسری درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے سے، اور تیسری یہ کہ آدمی نماز کے لیے ایک جگہ خاص کرلے جیسے اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ کو خاص کرلیتا ہے۔
Abdur-Rahman bin Shibl said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade three things: "Pecking like a crow, resting ones forearms on the ground like a predator, and allocating the same place for prayer like a camel gets used to a certain place".
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1112
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں ۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I have been commanded to prostrate on seven and not to tuck up my hair or garment".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1113
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٩٤، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن حارث ؓ کو اس حالت میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے سر میں پیچھے جوڑا بندھا ہوا تھا، تو وہ کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے، جب عبداللہ بن حارث ؓ سلام پھیر چکے تو ابن عباس ؓ کے پاس آئے، اور کہنے لگے: آپ کو میرے سر سے کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ بندھے ہوں ۔
It was narrated from Abdullah bin Abbas (RA) that: He saw Abdullah bin Al-Harith praying with his hair bound behind him. He stopped and started to undo it. When he finished he turned to Ibn Abbas and said: "What were you doing to my head?" He said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The likeness of this is that of one who prays with his hands tie behind his neck".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1114