Sunan An Nasai 1101

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

1101Sunan An Nasai

سجدہ کی حالت میں دونوں پاؤں کھڑے رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَبِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک رات مجھے رسول اللہ ﷺ بستر پہ نہیں ملے تو میں تلاش کرتی ہوئی آپ تک پہنچی، آپ سجدے میں تھے، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے، اور آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے: اللہم إني أعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک وبک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، تیرے عفو و درگزر کی تیری سزا اور عقوبت سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے، میں تیری تعریف کی طاقت نہیں رکھتا، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف بیان کی ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "I noticed the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was missing one night, and I found him when he was prostrating with his feet held upright, and he was saying: Allahumma, inni audhu biridaka min sakhatik, wa bimuafatika min uqubatik, wa bika minka la uhsi thanaan alaika anta kama athnaita ala nafsik (O Allah, I seek refuge with Your pleasure from Your wrath, in Your forgiveness from Your punishment and in You from You. I cannot praise You enough, You are as You have praised Yourself").

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1100
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٩، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٧) (صحیح )