نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 11 · 492 hadiths · Page 13 of 25

1116Sunan An Nasai

کپڑوں کو جوڑنے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور بال اور کپڑے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was commanded to prostrate on seven bones and was forbidden to tuck up his hair and garment".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1115
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٩٤، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٤) (صحیح )
1117Sunan An Nasai

کپڑے پر سجدہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ السُّلَمِيُّ، قال: حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ سَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے۔

It was narrated that Anas said: "When he prayed Zuhr behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) we would prostrate on our garments because of the heat".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1116
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٣ (٣٨٥)، المواقیت ١١ (٥٤٢)، العمل في الصلاة ٩ (١٢٠٨)، صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦٢٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٩٣ (٦٦٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٤ (الجمعة ٥٨) (٥٨٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٤ (١٠٣٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٠)، مسند احمد ٣/١٠٠، سنن الدارمی/الصلاة ٨٢ (١٣٧٦) (صحیح )
1118Sunan An Nasai

سجدہ کے مکمل طریقہ سے ادا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِي فِي رُكُوعِكُمْ وَسُجُودِكُمْ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرو، اللہ کی قسم! میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تمہیں رکوع اور سجدہ کی حالت میں دیکھتا ہوں ۔

It was narrated from Anas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Bow and prostrate properly, for by Allah (SWT) I can see you from behind my back when you bow and prostrate".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1117
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٢٩، ١١١١، (تحفة الأشراف: ١١٩٧) (صحیح )
1119Sunan An Nasai

سجدہ کی حالت میں قرآن کریم پڑھنے کے ممنوع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قال: أَبُو عَلِيٍّ حَدَّثَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: نَهَانِي حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا أَقُولُ نَهَى النَّاسَ نَهَانِي عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْمُعَصْفَرِ الْمُفَدَّمَةِ وَلَا أَقْرَأُ سَاجِدًا وَلَا رَاكِعًا.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب ﷺ نے تین باتوں سے منع کیا ہے، میں نہیں کہتا کہ لوگوں کو بھی منع کیا ہے، مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے، اور کسم میں رنگے ہوئے گہرے سرخ کپڑے پہننے سے منع کیا ہے، اور میں رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتا۔

It was narrated that Ali (RA) bin Abi Talib said: "My beloved (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me from doing three things, but I do not say that he forbade the people. He forbade me from wearing gold rings, wearing Qassi, wearing clothes dyed with safflower Mufaddamah, and from reciting the Quran when prostrating or bowing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1118
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٤٢، (تحفة الأشراف: ١٠١٩٤) (صحیح )
1120Sunan An Nasai

سجدہ کی حالت میں قرآن کریم پڑھنے کے ممنوع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَعَلِيًّا قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا.

علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔

Ali (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me from reciting the Quran when bowing or prostrating".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1119
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٤٤، (تحفة الأشراف: ١٠١٧٩) (صحیح )
1121Sunan An Nasai

سجدہ کے دوران کو شش سے دعا کرنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلَا وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا رَبَّكُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی پردہ ہٹایا، آپ کا سر مبارک کپڑے سے بندھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: اے اللہ! میں نے پہنچا دیا (پھر فرمایا:) نبوت کی خوش خبریوں میں سے سوائے سچے خواب کے جسے بندہ خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ گئی ہے، سنو! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور جب سجدہ کرو تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ یہ حالت اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے ۔

It was narrated that Abdullah bin Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) drew aside the curtain when he had a cloth wrapped around his head during his final illness, and said: O Allah, I have conveyed (the Message) three times. There is nothing left of the features of Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)hood except a good dream that a person sees or is seen by others for him. But I have been forbidden to recite the Quran when bowing and prostrating, so when you bow, then glorify your Lord and when you prostrate, then strive hard in supplication, for it is more deserving of a response".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1120
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٤٦، (تحفة الأشراف: ٥٨١٢) (صحیح )
1122Sunan An Nasai

بحالت سجدہ دعا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ وَهُوَ كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فَرَأَيْتُهُ قَامَ لِحَاجَتِهِ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ، ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ تَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَأَيْقَظَهُ لِلصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث ؓ کے پاس رات گزاری، اور رسول اللہ ﷺ بھی اس رات کو ان ہی کے پاس رہے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی حاجت کے لیے اٹھے، مشک کے پاس آئے، اور اس کا بندھن کھولا، پھر وضو کیا جو دو وضوؤں کے درمیان تھا، (یعنی شرعی وضو نہیں تھا) ، پھر آپ اپنے بستر پہ آئے، اور سو گئے، پھر دوسری بار اٹھے، مشک کے پاس آئے، اور اس کا بندھن کھولا، پھر وضو کیا یہ (شرعی) وضو تھا، پھر آپ ﷺ اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ اپنے سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: اللہم اجعل في قلبي نورا واجعل في سمعي نورا واجعل في بصري نورا واجعل من تحتي نورا واجعل من فوقي نورا وعن يميني نورا وعن يساري نورا واجعل أمامي نورا واجعل خلفي نورا وأعظم لي نورا اے اللہ! میرے دل کو منور کر دے، میرے کانوں کو نور (روشنی) سے بھر دے، میری آنکھوں کو روشن کر دے، میرے نیچے نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیں نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، اور میرے لیے نور کو عظیم کر دے ، پھر آپ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر بلال ؓ آئے، اور آپ ﷺ کو نماز کے لیے جگایا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah bin Al-Harith, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stayed overnight with her. I saw him get up to relieve himself and he went to the waterskin and undid its string, then he performed wudu and that was moderate (in the amount of water used). Then he went to his bed and slept. Then he got up again and went to the waterskin and undid its string, and performed wudu again, like the first time. Then he stood and prayed, and when he prostrated he said: Allahummajal fi qalbi nuran wajal fi sami nuran wajal fi basri nuran, wajal min tahti nuran wajal min fawqi nuran, wa an yamii nuran wa an yasari nuran wajal amami nuran, wajal khalfi nuran wa azimli nura (O Allah, place light in my heart, and place light in my hearing, and place light in my seeing, and place light beneath me, and place light above me, and light on my right, and light on my left, and place light behind me, and make the light greater for me). Then he slept until he started to snore, then Bilal came and woke him up for the prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1121
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعا آپ نے تہجد کے سجدے میں پڑھی تھی، اس لیے تہجد یا نوافل میں اس طرح کی لمبی دعائیں پڑھے، فرائض میں خصوصاً جب امام ہو تو مختصر دعائیں پڑھے جن میں سے بعض کا تذکرہ آگے آ رہا ہے، ان میں سے معروف دعا سبحان ربي الأعلیٰ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ١٠ (٦٣١٦)، صحیح مسلم/الحیض ٥ (٣٠٤)، المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن ابی داود/الأدب ١٠٥ (٥٠٤٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧١ (٥٠٨)، مسند احمد ١/٢٣٤، ٢٨٣، ٢٨٤، ٣٤٣، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٢) (صحیح )
1123Sunan An Nasai

دوران سجدہ دوسری قسم کی دعا مانگنا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں سبحانک اللہم ربنا وبحمدک اللہم اغفر لي اے اللہ! ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کہہ رہے تھے، آپ قرآن کی عملی تفسیر فرما رہے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say when bowing and prostrating: Subhanakallahumma, Rabbana wa bihamdik. Allahumma-ghfirli (Glory be to You O Allah, Our Lord, and praise. O Allah, forgive me following the command of the Quran.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1122
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فسبح بحمد ربک آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے آپ اسی حکم کی تعمیل میں یہ دعا پڑھ رہے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٤٨، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٥) (صحیح )
1124Sunan An Nasai

دوران سجدہ دوسری قسم کی دعانہ پڑھنا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَقالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع اور سجدے میں سبحانک اللہم ربنا وبحمدک اللہم اغفر لي اے اللہ ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کہہ رہے تھے، آپ ﷺ قرآن کی عملی تفسیر فر مار ہے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say when bowing and prostrating: Subhanaka Allahumma, Rabbana wa bihamdik. Allahumma-ghfirli (Glory be to You O Allah, Our Lord, and praise. O Allah, forgive me," following the command of the Quran.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1123
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٤٨، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٥) (صحیح )
1125Sunan An Nasai

دوران سجدہ دوسری قسم کی دعا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قال: قالت عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ فَجَعَلْتُ أَلْتَمِسُهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی خواب گاہ میں نہیں ملے، تو میں آپ کو تلاش کرنے لگی، اور مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں کہ اچانک میرا ہاتھ آپ پر پڑا، آپ سجدے میں تھے، اور کہہ رہے تھے: اللہم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت اے اللہ! بخش دے میرے ان گناہوں کو جنہیں میں نے چھپا کر کیا ہے اور جنہیں میں نے اعلانیہ کیا ہے ۔

Aishah (RA) said: "I noticed that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was missing from bed, so I started to look for him, and I thought that he had gone to one of his concubines. Then my hand fell on him when he was prostrating and saying: "Allahummaghfirli ma asrartu wa ma alant (O Allah, forgive me for what (sin) I have concealed and what I have done openly)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1124
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٦٧٨)، مسند احمد ٦/١٤٧، وانظر حدیث رقم: ١٦٩ (صحیح )
1126Sunan An Nasai

دوران سجدہ ایک دوسری دعا پڑھنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَطَلَبْتُهُ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو اپنے بستر پر موجود نہیں پایا، میں نے گمان کیا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں، چناچہ میں نے آپ کو تلاش کیا، تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں: رب اغفر لي ما أسررت وما أعلنت اے میرے رب! میرے تمام گناہوں کو جو میں نے چھپے اور کھلے کئے ہیں بخش دے ۔

It was narrated that Aishah said: "I noticed that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was missing and I thought he had gone to visit one of his concubines, so I looked for him and found him prostrating and saying: Rabbighfirli ma asrartu wa ma alant (O Allah, forgive me for what (sin) I have concealed and what I have done openly)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1125
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٧٨)، وانظر حدیث رقم: ١٦٩ (صحیح )
1127Sunan An Nasai

دوران سجدہ ایک دوسری قسم دعا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنِي عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا سَجَدَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو کہتے: اللہم لک سجدت ولک أسلمت وبک آمنت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره تبارک اللہ أحسن الخالقين اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیشانی زمین سے ٹیک دی، اور تیرے ہی لیے میں اسلام لایا، اور تجھی پر میں ایمان لایا، میرے چہرے نے سجدہ کیا، اس ذات کے لیے جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور اچھی صورت گری کی، اور جس نے اس کے کان اور اس کی آنکھیں پھاڑیں، اللہ بڑی برکت والا ہے، اور سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ۔

It was narrated from Ali (RA) that: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prostrated he would say: "Allahumma laka sajadtu wa laka aslamtu wa bika amantu sajada wajhi lilladhi khalaqahu wa sawwarahu fa ahsana suratahu wa shaqqa samahu wa basarahu, tabarak Allahu ahsanul-khaliqin (O Allah, to You I have prostrated and to You I have submitted, and in You I have believed. My face has prostrated to the One Who created it and shaped it and shaped it well, and brought forth its hearing and sight. Blessed be Allah the best of Creators").

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1126
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٩٨ و ١٠٥١، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨) (صحیح )
1128Sunan An Nasai

ایک دوسری قسم کی دعا

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو حَيْوَةَ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَأَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.

جابربن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے سجدے میں کہتے تھے: اللہم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارک اللہ أحسن الخالقين اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیشانی زمین پر ٹیک دی، تیرے ہی اوپر ایمان لایا، تیرے ہی لیے میں مسلمان ہوا، تو ہی میرا رب ہے، میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور جس نے اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں، بڑی برکتوں والا ہے، اللہ سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے)۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say when prostrating: "Allahumma laka sajadtu wa laka aslamtu wa anta Rabbi, sajada wajhi lilladhi khalaqahu wa sawwarahu wa shaqqa samahu wa basarahu, tabarak Allahu ahsanul-khaliqin ( O Allah, to You I have prostrated and in You I have believed and to You I have submitted, and You are my Lord. My face has prostrated to the One Who created it and formed it, and brought forth its hearing and sight. Blessed be Allah the best of Creators").

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1127
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٠٥٠) (صحیح )
1129Sunan An Nasai

دوران سجدہ ایک دوسری قسم دعا پڑھنا

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ إِذَا سَجَدَ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.

محمد بن مسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں اٹھتے تو نفل پڑھتے، اور جب سجدہ کرتے تو کہتے: اللہم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت اللہم أنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارک اللہ أحسن الخالقين اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھی پر میں ایمان لایا، تیرے لیے میں مسلمان ہوا، اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں، اللہ بڑی برکتوں والا، سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ۔

It was narrated from Muhammad bin Maslamah that: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) got up to offer voluntary prayers at night, he would say when he prostrated: "Allahumma laka sajadtu wa bika amantu wa laka aslamtu, Allahumma anta Rabbi, sajada wajhi lilladhi khalaqahu wa sawwarahu wa shaqqa samahu wa basarahu, tabarak Allahu ahsanul-khaliqin ( O Allah, to You I have prostrated and in You I have believed and to You I have submitted. O Allah, You are my Lord. My face has prostrated to the One Who created it and formed it, and brought forth its hearing and sight. Blessed be Allah the best of Creators").

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1128
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٩٩ و ١٠٥٣، (تحفة الأشراف: ١١٢٣٠) (صحیح الإسناد )
1130Sunan An Nasai

دعا کا ایک اور طریقہ

أَخْبَرَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَوَّار الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو تلاوت قرآن کے سجدوں میں کہتے: سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته میرے چہرہ نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں اپنی قوت و طاقت سے بنائیں ۔

It was narrated from Aishah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say, when he did a prostration that was required when reciting Quran at night: "Sajada wajhi lilladhi khalaqahu wa sawwarahu wa shaqqa samahu wa basarahu bihawlihi wa quwwatih (My face has prostrated to the One Who created it and formed it, and brought forth its hearing and sight by His power and strength").

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1129
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٤ (١٤١٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٠ (الجمعة ٥٥)، (٥٨٠)، الدعوات ٣٣ (٣٤٢٥)، مسند احمد ٦/٣٠، ٢١٧، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٣) (صحیح )
1131Sunan An Nasai

دوران سجدہ ایک دوسری دعا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ. قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَوَجَدْتُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ وَصُدُورُ قَدَمَيْهِ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنَتْ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو (بستر پر) موجود نہیں پایا، تو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، اور آپ کے دونوں قدموں کے پنجے قبلہ رخ ہیں، تو میں نے آپ کو سجدہ میں کہتے سنا: أعوذ برضاک من سخطک وأعوذ بمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، میں پناہ مانگتا ہوں تیری معافی کی تیری سزا سے، اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری تجھ سے، میں تیری حمد و ثنا کا حق نہیں ادا کرسکتا، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "I noticed the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was missing one night and I found him prostrating with the tops of his feet facing toward the Qiblah. I heard him saying: Audhu biridaka min sakhatika, wa audhu bimu afatika min uqubatika wa audhu bika minka la uhsi thanaan alaika anta kama athnaita ala nafsik (I seek refuge in Your pleasure from Your wrath; I seek refuge in Your forgiveness from Your punishment; I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough, You are as You have praised Yourself").

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1130
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٧٦ (٣٤٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٨٥)، موطا امام مالک/القرآن ٨ (٣١) (صحیح )
1132Sunan An Nasai

دوران سجدہ ایک دوسری دعا

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ الْمِقْسَمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُهُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَفَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک رات (بستر پر) موجود نہیں پایا، تو میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، پھر میں نے آپ کو تلاش کیا تو اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ رکوع یا سجدہ کی حالت میں کہہ رہے ہیں: سبحانک اللہم وبحمدک لا إله إلا أنت اے اللہ! تو پاک ہے، میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں، نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر تو ہی ، تو وہ کہنے لگیں: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! میں کس خیال میں تھی اور آپ کس حال میں ہیں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "I noticed that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was missing one night, and I thought he had gone to one of his other wives. I tried to feel for him, and I found him bowing or prostrating and saying: SubhanakAllahumma wa bihamdika la ilaha ila ant (Glory and praise be to You, O Allah, there is none worthy of worship but You.)" She said: "May my father and mother be ransomed for you. I thought you were doing one thing and you were doing something else altogether".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1131
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٥٦)، مسند احمد ٦/١٥١، ویأتی عند المؤلف في عشرة النساء ٤ برقم: (٣٤١٣) (صحیح )
1133Sunan An Nasai

ایک اور دعا

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ يَتَعَوَّذُ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ: فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ رُكُوعِهِ يَقُولُ: فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ سُورَةً ثُمَّ سُورَةً فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ.

عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اٹھا، پہلے آپ نے مسواک کی، پھر وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، تو آپ نے سورة البقرہ شروع کی، آپ جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت کا سوال کرتے، اور جب بھی عذاب کی کسی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے، اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، تو رکوع میں اپنے قیام کے بقدر ٹھہرے رہے، آپ اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: سبحان ذي الجبروت والملکوت والکبرياء والعظمة پھر آپ نے اپنے رکوع کے بقدر سجدہ کیا، اور اپنے سجدے میں آپ کہہ رہے تھے: سبحان ذي الجبروت والملکوت والکبرياء والعظمة، پھر آپ نے دوسری رکعت میں سورة آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورة پڑھی، پھر ایک اور سورة پڑھی، آپ نے اسی طرح کیا۔

Awf bin Malik (RA) said: "I prayed Qiyam with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He started by using the Siwak and performing wudu, then he stood and prayed. He started reciting Al-Baqarah and he did not come to any verse that spoke of mercy but he paused and asked for mercy, and he did not come to any verse that spoke of punishment but he paused (and sought refuge with Allah from that). Then he bowed and he stayed bowing for as long as he had stood,a nd he said while bowing: Subhanaka Dhil-jabaraut wal-malakut wal-kibriya wal-azamah (Glory be to the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might.) Then he prostrated for as long as he had bowed, saying while prostrating: Subhana Dhil-jabarut wal-malakut wal-kibriya wal-azamah (Glory be to the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might.) Then he recited Al Imran, then another surah and another, doing that each time."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1132
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٥٠ (صحیح )
1134Sunan An Nasai

دوران سجدہ ایک اور قسم کی دعا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ لَمْ يَرْكَعْ فَمَضَى قُلْتُ يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَمَضَى قُلْتُ يَخْتِمُهَا، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى لَا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا ذَكَرَهُ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے سورة البقرہ شروع کردی، آپ نے سو آیتیں پڑھ لیں لیکن رکوع نہیں کیا، اور آگے بڑھ گئے، میں نے اپنے جی میں کہا: لگتا ہے کہ آپ اسے دونوں رکعتوں میں ختم کردیں گے، لیکن آپ برابر آگے بڑھتے رہے، تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ اسے ختم کر کے ہی پھر رکوع کریں گے، لیکن آپ سورت ختم کر کے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ پوری سورة نساء آپ نے پڑھ ڈالی، پھر سورة اٰل عمران بھی پڑھ ڈالی، پھر تقریباً اپنے قیام ہی کے برابر رکوع میں رہے، اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده ربنا لک الحمد کہا، اور دیر تک کھڑے رہے، پھر آپ نے سجدہ کیا تو دیر تک سجدہ میں رہے، آپ سجدے میں کہہ رہے تھے: سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى جب آپ کسی خوف کی یا اللہ تعالیٰ کی بڑائی کی آیت پر سے گزرتے، تو اللہ کا ذکر کرتے یعنی اس کی حمد و ثنا کرتے۔

It was narrated that Hudhaifah said: "I prayed with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) one night. He started reciting Surat Al-Baqarah and he recited one hundred verses, then did not bow, rather he continued. I thought: He will complete it in two rakahs, but he continued. I thought: He will complete it and then bow, but he continued until he recited Surat An-Nisa, then Al Imran. Then he bowed for almost as long as he had stood, saying while bowing: Subhan Rabbial-azim, Subhan Rabbial-azim, Subhan Rabbial-azim ( Glory be to my Lord Almighty, Glory be to my Lord Almighty, Glory be to my Lord Almighty). Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him). Then he prostrated and made his prostration lengthy, saying: "Subhan Rabbial-Ala, Subhan Rabbial-Ala, Subhan Rabbial-Ala (Glory be to my Lord Most High, Glory be to my Lord Most High, Glory be to my Lord Most High). And he did not come to any verse that spoke of fear or glorifying Allah, the Mighty and Sublime, but he said something appropriate".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1133
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ١٠٠٩ (صحیح )
1135Sunan An Nasai

دوران سجدہ ایک دوسری قسم کی دعا

أَخْبَرَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَاسَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں سبوح قدوس رب الملائكة والروح تمام فرشتے اور جبرائیل کا رب ہر نقص و عیب سے پاک ہے کہتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said when bowing and prostrating: Subbuhun Quddusun Rabbul-malaikati warruh (Perfect, Most Holy, Lord of the Angels and the Spirit)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1134
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٤٩ (صحیح )