نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 11 · 492 hadiths · Page 14 of 25

1136Sunan An Nasai

دوران سجدہ کتنی مرتبہ تسبیح کہنا چاہئے؟

أخبرنا محمد بن رافع قال حدثنا عبد الله بن إبراهيم بن عمر بن كيسان قال حدثني أبي عن وهب بن مأنوس قال سمعت سعيد بن جبير قال سمعت أنس بن مالك يقول: ما رأيت أحدا أشبه صلاة بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم من هذا الفتى يعني عمر بن عبد العزيز فحزرنا في ركوعه عشر تسبيحات وفي سجوده عشر تسبيحات .

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ نماز کسی کی نہیں دیکھی، تو ہم نے ان کے رکوع میں دس تسبیحوں کا، اور سجدے میں بھی دس تسبیحوں کا اندازہ لگایا۔

Anas bin Malik (RA) said: "I have never seen anyone whose prayer more closely resembles the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) than this young man- meaning Umar bin Abdul-Aziz. And we estimated that when bowing he said the Tasbih ten times and when prostrating he said the Tasbih ten times".

حسن الإسناد إن شاء اللهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1135
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥٤ (٨٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٥٩)، مسند احمد ٣/١٦٢، وانظر حدیث رقم: ٩٨٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” وہب “ مجہول الحال ہیں، لیکن ” عمر بن عبدالعزیز “ کی نماز کے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہونے کی تائید ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ہے (رقم: ٩٨٣) سے ہوتی ہے )
1137Sunan An Nasai

اگر دوران سجدہ کچھ نہ پڑھے تو سجدہ جب بھی ادا ہوجائے گا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ أَبُو يَحْيَى بِمَكَّةَ وَهُوَ بَصْرِيٌّ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ مَالِكِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قال: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَأَتَى الْقِبْلَةَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّفَذَهَبَ فَصَلَّى فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُ صَلَاتَهُ وَلَا يَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّفَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبْتَ مِنْ صَلَاتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِنَّهَا لَمْ تَتِمَّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ وَيُمَجِّدَهُ قَالَ هَمَّامٌ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَيَحْمَدَ اللَّهَ وَيُمَجِّدَهُ وَيُكَبِّرَهُ قَالَ فَكِلَاهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ وَيَقْرَأَ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَذِنَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَرْكَعَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يَقُولَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَسْتَوِيَ قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ جَبْهَتَهُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ وَيُكَبِّرَ فَيَرْفَعَ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمَ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَيَسْتَرْخِيَ فَإِذَا لَمْ يَفْعَلْ هَكَذَا لَمْ تَتِمَّ صَلَاتُهُ.

رفاعہ بن رافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے، اور ہم لوگ آپ کے اردگرد تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ اپنی نماز پوری کرچکا تو آیا، اور رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، تو وہ گیا، اور اس نے جا کر پھر سے نماز پڑھی، اور رسول اللہ ﷺ اس کی نماز کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن وہ یہ جان نہیں رہا تھا کہ اس میں وہ کیا غلطی کر رہا ہے؟ تو جب وہ اپنی نماز پوری کرچکا تو آیا، اور اس نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے پھر اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، چناچہ اس نے دو یا تین بار نماز دہرائی، پھر اس شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری نماز میں آپ نے کیا خامی پائی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کرلے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے، وہ اپنا چہرہ دھوئے، اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے، پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرے (یعنی تکبیر تحریمہ کہے) اور اس کی حمد وثناء اور بزرگی بیان کرے (یعنی دعائے ثناء پڑھے) ۔ ہمام کہتے ہیں: میں نے اسحاق کو ويحمد اللہ ويمجده ويكبره بھی کہتے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دونوں طرح سے انہیں کہتے سنا ہے۔ آگے آپ ﷺ نے فرمایا: اور قرآن میں سے حسب توفیق اور مرضی الٰہی جو آسان ہو پڑھے، پھر اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی جگہ آجائیں، اور ڈھیلے پڑجائیں، پھر سمع اللہ لمن حمده کہے، پھر سیدھا کھڑا ہوجائے یہاں تک اس کی پیٹھ برابر ہوجائے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے ، (میں نے اسحاق کو اپنی پیشانی بھی کہتے سنا ہے) ، اور تمام جوڑ اپنی جگہ آجائیں اور ڈھیلے پڑجائیں، پھر اللہ اکبر کہے، اور اپنا سر اٹھائے یہاں تک کہ اپنی سرین پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے، اور اپنی پیٹھ سیدھی کرلے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین سے اچھی طرح ٹکا دے، اور ڈھیلا پڑجائے، اگر اس نے اس طرح نہیں کیا تو اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ١ ؎۔

It was narrated that Rifaah bin Rafi said: "While the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was sitting with us around him, a man came in, turned towards the Qiblah and prayed. When he had finished his prayer, he came and greeted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and the people with Salam. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: And also to you. Go and pray, for you have not prayed So he went. and prayed, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) started watching him, and he (the man) did not know what was wrong with it. When he had finished the prayer, he came and greeted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and the people with salam. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: And also to you. Go and pray, for you have not prayed. He repeated it two or three times, then the man said: O Messenger of Allah, what is wrong with my prayer? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The prayer of any of you is not complete unless he performs wudu properly as enjoined by Allah, the Mighty and Sublime. So he should wash his face, his arms up to the elbows, and wipe his head, and (wash) his feet up to the ankles. Then he should magnify Allah (SWT) and praise Him and glorify Him". - (One of the narrators) Hammam said: "I heard him say: He should praise Allah and glorify Him and magnify Him". He said: "I heard both of them." -"He (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) said: He should recite whatever is easy for him of the Quran that Allah has taught him and permitted him in it (the prayer). Then he should say the Takbir and bow until his joints settle and he is relaxed. Then he should say: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him) and stand up straight until his backbone is straight (and at ease). Then he should say Takbir and prostrate until he has placed his face firmly on the ground". "I heard him say: his forehead, until his joints settle and he is relaxed. Then he should say the Takbir and sit up until his backbone is straight (and at ease). Then he should prostrate until he has placed his face firmly on the ground and he is relaxed. If he does not do that then he has not completed his prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1136
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف نے اس سے سجدے میں تسبیحات نہ پڑھنے پر استدلال اس طرح کیا ہے کہ اس میں تسبیحات کا ذکر نہیں ہے، مگر آپ ﷺ نے اس میں دیگر بہت سی واجبات کا بھی ذکر نہیں کیا ہے، یہاں صرف تعدیل ارکان پر توجہ دلانا مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٦٨، ویأتي برقم: ١٣١٤ (صحیح )
1138Sunan An Nasai

بندہ اللہ عزوجل سے کب نزدیک ہوتا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The closest that a person can be to his Lord, the Mighty and Sublime, is when he is prostrating, so increase in supplication then".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1137
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٢)، سنن ابی داود/فیہ ١٥٢ (٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٥)، مسند احمد ٢/٤٢١ (صحیح )
1139Sunan An Nasai

سجدہ کرنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، قال: كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ فَقَالَ: سَلْنِي، قُلْتُ: مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ قَالَ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ.

ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے وضو اور آپ کی حاجت کا پانی لے کر آتا تھا، تو ایک بار آپ ﷺ نے فرمایا: جو مانگنا ہو مجھ سے مانگو ، میں نے کہا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے علاوہ اور بھی کچھ؟ میں نے عرض کیا: بس یہی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو اپنے اوپر کثرت سجدہ کو لازم کر کے میری مدد کرو ١ ؎۔

Rabiah bin Kab Al-Aslami said: "I used to bring to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) water for wudu and serve him. He said: Ask of me. I said: I want to be with you in Paradise. He said: Is there anything else? I said: That is all. He said: Help me to fulfill your wish by prostrating a great deal".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1138
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کثرت سے سجدے کیا کرو اس لیے کہ نماز کی عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، شاید تمہاری کثرت سجود سے مجھے تمہارے لیے اپنی رفاقت کی سفارش کا موقع مل جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٩)، سنن ابی داود/فیہ ٣١٢ (١٣٢٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٢٧ (٣٤١٦)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (٣٨٧٩)، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٣)، مسند احمد ٤/٥٧، ٥٨، ٥٩ (صحیح )
1140Sunan An Nasai

خداوندقدوس کے واسطے جو شخص ایک سجدہ کرے تو اس کو کس قدر اجر ملے گا؟

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، قال: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ، قال: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي أَوْ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَسَكَتَ عَنِّي مَلِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةًقَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ ثَوْبَانَ فَقَالَ لِي: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً.

معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے غلام ثوبان ؓ سے ملاقات کی، تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے فائدہ پہنچائے، یا مجھے جنت میں داخل کرے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے بدلے، اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ معدان کہتے ہیں: پھر میں ابو الدرداء ؓ سے ملا اور میں نے ان سے وہی سوال کیا جو ثوبان ؓ سے کرچکا تھا، تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔

Madan bin Talha Al-Yamuri said: "I met Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "Tell me of an action that will benefit me or gain me admittance to Paradise. He remained silent for a while, then he turned to me and said: You should prostrate, because I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "There is no one who prostrated once to Allah, the Mighty and Sublime, except that Allah will raise him one degree in status thereby, and erase one sin thereby". Madan said: "Then I met Abu Ad-Darda and asked him the same question I had asked Thawban". He said to me: "You should prostrate, for I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "There is no one who prostrates once to Allah (SWT), but Allah (SWT) will raise him one degree thereby and erase one sin thereby".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1139
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٨٨، ٣٨٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠١ (١٤٢٣) مختصراً، (تحفة الأشراف: ١٠٩٦٥، ٢١١٢)، مسند احمد ٥/٢٧٦، ٢٨٠، ٢٨٣ (صحیح )
1141Sunan An Nasai

دوران سجدہ زمین پر لگنے والے اعضاء کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ بِالْمِصِّيصَةِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، فَحَدَّثَ: أَحَدُهُمَا حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ وَالْآخَرُ مُنْصِتٌ قال: فَتَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَتَشْفَعُ وَتَشْفَعُ الرُّسُلُ وَذَكَرَ الصِّرَاطَ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ فَإِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ خَلْقِهِ وَأَخْرَجَ مِنَ النَّارِ مَنْ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ وَالرُّسُلَ أَنْ تَشْفَعَ فَيُعْرَفُونَ بِعَلَامَاتِهِمْ إِنَّ النَّارَ تَأْكُلُ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا مَوْضِعَ السُّجُودِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِنْ مَاءِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ.

عطاء بن یزید کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو ان دونوں میں سے ایک نے شفاعت کی حدیث بیان کی، اور دوسرے خاموش رہے، انہوں نے کہا: فرشتے آئیں گے، شفاعت کریں گے، اور انبیاء و رسل بھی شفاعت کریں گے، نیز انہوں نے پل صراط کا ذکر کیا، اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: پل صراط پار کرنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلوں سے فارغ ہوگا، اور جہنم سے جسے نکالنا چاہے گا نکال لے گا، تو اللہ فرشتوں کو اور رسولوں کو حکم دے گا کہ وہ شفاعت کریں، قابل شفاعت لوگ اپنی نشانیوں سے پہچان لیئے جائیں گے، آگ ابن آدم کی ہر چیز کھاجائے گی سوائے سجدہ کی جگہ کے، پھر ان پر چشمہ حیات کا پانی انڈیلا جائے گا، تو وہ اگنے لگیں گے جیسے سیلاب کے خش و خاشاک میں دانہ اگتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ata bin Yazid said: "I was sitting with Abu Hurairah and Abu Saeed. One of them narrated the Hadith about intercession and the other was listening. He said: Then the angels will come and intercede, and the messengers will intercede. And he mentioned the Sirat, and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I will be the first one to cross it, and when Allah has finished passing judgment among His creation, and has brought forth from the Fire those whom He wants to bring forth, Allah will command the angels and the messengers to intercede, and they will be recognized by their signs, for the Fire will consume all of the son of Adam apart from the place of prostration. Then the water of life will be poured on them, and they will grow like seeds on the banks of a rainwater stream".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1140
Notes · وضاحت
١ ؎: جس طرح سیلاب کے کوڑا کرکٹ میں دانہ اُگ کر جلد ہی ترو تازہ ہوجاتا ہے، اسی طرح یہ لوگ بھی اس پانی کی برکت سے بھلے چنگے ہوجائیں گے، اور آگ کے نشانات مٹ جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٢٩ ١ (٨٠٦)، الرقاق ٥٢ (٦٥٧٣)، التوحید ٢٤ (٧٤٣٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٨٠ (١٨٢)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٦، ١٤٢١٣)، مسند احمد ٢/٢٧٥، ٢٩٣، ٥٣٣ و ٣/٩٤، سنن الدارمی/الرقاق ٩٦ (٢٨٥٩) (صحیح )
1142Sunan An Nasai

کیا ایک سجدہ دوسرے سے طویل کرنا جائز ہے؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ وَهُوَ حَامِلٌ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا قَالَ: أَبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ إِلَى سُجُودِي فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ سَجَدْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِكَ سَجْدَةً أَطَلْتَهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْكَ قَالَ: كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ.

شداد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب اور عشاء کی دونوں نمازوں میں سے کسی ایک نماز کے لیے نکلے، اور حسن یا حسین کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں (زمین پر) بٹھا دیا، پھر آپ نے نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی، اور نماز شروع کردی، اور اپنی نماز کے دوران آپ نے ایک سجدہ لمبا کردیا، تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ پر ہے، اور آپ سجدے میں ہیں، پھر میں اپنے سجدے کی طرف دوبارہ پلٹ گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کردیا کہ ہم نے سمجھا کوئی معاملہ پیش آگیا ہے، یا آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی، البتہ میرے بیٹے نے مجھے سواری بنا لی تھی تو مجھے ناگوار لگا کہ میں جلدی کروں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کرلے ۔

It was narrated from Abdullah bin Shaddad, this his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came out to us for one of the nighttime prayers, and he was carrying Hasan or Husain. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came forward and put him down, then he said the Takbir and started to pray. He prostrated during his prayer, and made the prostration lengthy". My father said: "I raised my head and saw the child on the back of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) while he was prostrating so I went back to my prostration. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) finished praying, the people said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), you prostrated during the prayer for so long that we thought that something had happened or that you were receiving a revelation. He said: No such thing happened. But my son was riding on my back and I did not like to disturb him until he had enough".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1141
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، حم ٣/٤٩٣، ٦/٤٦٧، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٢) (صحیح )
1143Sunan An Nasai

جس وقت سجدہ سے سر اٹھائے تو تکبیر پڑھنا چاہئے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ قَالَ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر ؓ کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Al-Aswad from his father-and Alqamah-that: Abdullah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say the Takbir every time he went down and got up, or stood or sat; he said the Salam on his right and his left: As-salamu alaykum wa rahmatulah (peace be upon you and the mercy of Allah ), until the whiteness of his cheek could be seen." He said: "And I saw Abu Bakr and Umar, may Allah (SWT) be pleased with them both, doing the same".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1142
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٨٤ (صحیح )
1144Sunan An Nasai

پہلے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ كُلَّهُ يَعْنِي رَفْعَ يَدَيْهِ.

مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے یعنی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ١ ؎۔

It was narrated from Malik bin Al-Huwairith that: When the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) started to pray, he raised his hands, and when he bowed, he did likewise, and when he raised his head from bowing he did likewise, and when he raised his head from prostration, he did likewise, meaning he raised his hands.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1143
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم: ١٠٨٦ ۔
Takhrij · تخریج
انظر الأرقام: ١٠٨٦، ١٠٨٨ (صحیح )
1145Sunan An Nasai

دونوں سجدوں کے درمیان ہاتھ نہ اٹھانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَبَعْدَ الرُّكُوعِ وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے، اور جب رکوع کرتے تو بھی، اور رکوع کے بعد بھی، اور دونوں سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔

It was narrated from Salim that his father said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) started to pray he said the takbir and raised his hands, and when he bowed, and after bowing, but he did not raise them between the two prostrations".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1144
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٢٦ (صحیح )
1146Sunan An Nasai

دونوں سجدوں کے درمیان دعا کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْرَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ قَرَأَ بِالْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ فَقَالَ: فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَقَالَ: حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَكَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑے ہوگئے، آپ نے اللہ أكبر ذو الملکوت والجبروت والکبرياء والعظمة کہا، پھر آپ نے سورة البقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ نے رکوع میں:سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم کہا، اور جب آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو: لربي الحمد لربي الحمد کہا، اور آپ اپنے سجدہ میں سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى اور دونوں سجدوں کے درمیان رب اغفر لي رب اغفر لي کہتے تھے۔

A man from (the tribe of) Abs narrated from Hudhaifah that: He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and stood by his side, and he said: "Allahu Akbar Dhul-malakut wal-jabarut wal-kibriya wal azamah (Allah is Most Great, the One Who has all sovereignty, power, magnificence, and might.)" Then he recited Al-Baqarah, then he bowed, and his bowing lasted almost as long as his standing, and he said when bowing: Subahana Rabbial-azim, Subhana Rabbial-azim (Glory be to my Lord Almighty, Glory be to my Lord Almighty)". When he raised his head he said: "Li Rabbial-hamd, Li Rabbial-hamd (To my Lord be praise, to my Lord be praise)". And when he prostrated he said: "Subahana Rabbial-Ala, Subahna Rabbial-Ala (Glory be to my Lord Most High, glory be to my Lord Most High)". And between the two prostrations he would say: "Rabbighfirli, Rabbighfirli (Lord forgive me, Lord forgive me)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1145
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٧٠ (صحیح )
1147Sunan An Nasai

چہرہ کے سامنے دونوں ہاتھ اٹھانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو سَهْلٍ الْأَزْدِيُّ، قال: صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ بِمِنًى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَإِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الْأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِفَأَنْكَرْتُ أَنَا ذَلِكَ فَقُلْتُ: لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ إِنَّ هَذَا يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ، فَقَالَ لَهُ: وَهَيْبٌ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ نَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ: رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ وَقَالَ أَبِي: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ.

نضر بن کثیر ابوسہل ازدی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے منیٰ میں مسجد خیف میں میرے پہلو میں نماز پڑھی، تو انہوں نے جب پہلا سجدہ کیا، اور سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے بالمقابل اٹھایا، مجھے یہ بات عجیب لگی تو میں نے وہیب بن خالد سے کہا کہ یہ ایسا کام کر رہے ہیں جو میں نے کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟، تو وہیب نے ان سے کہا: آپ ایسا کام کرتے ہیں جسے ہم نے کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟ اس پر عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور میرے والد نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس ؓ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔

An-Nadr bin Kathir Abu Sahl Al-Aszidi said: "Abdullah bin Tawus prayed beside me at Mina, in Masjid Al-Khaif, and when he made the first prostration he raised his head and raised his hands up to his face. I found that strange and I said to Wuhaib bin Khalid: "This man does something that I have never seen anyone do." Wuhaib said to him: You do something that I have never seen anyone do. Abdullah bin Tawus said: I saw my father do it, and my father said: "I saw Ibn Abbas do it and Abullah bin Abbas said: I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) doing it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1146
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧١٩) (صحیح) (اس کے راوی ” نضر بن کثیر “ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح لغیرہ ہے )
1148Sunan An Nasai

دونوں سجدوں کے درمیان کتنی دیر تک بیٹھنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِالْبَرَاءِ، قال: كَانَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكُوعُهُ وَسُجُودُهُ وَقِيَامُهُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز یعنی آپ کا رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کا قیام اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔

It was narrated that Al-Bara said: "In the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) his bowing, his prostration, standing after he raised his head from bowing and (sitting) between the two prostrations, were almost the same".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1148
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٦٦ (صحیح )
1149Sunan An Nasai

دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا طریقہ

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ خَوَّى بِيَدَيْهِ حَتَّى يُرَى وَضَحَ إِبْطَيْهِ مِنْ وَرَائِهِ وَإِذَا قَعَدَ اطْمَأَنَّ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آپ کے بغل کی سفیدی نظر آتی، اور جب بیٹھتے تو اپنی بائیں ران زمین پر لگا کر بیٹھتے۔

It was narrated that Maimunah said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prostrated, he would hold his arms out to his sides, so that the whiteness of his armpits could be seen from behind. And when he sat he rested on his left thigh".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1147
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١١٠ (صحیح)
1150Sunan An Nasai

سجدہ کے واسطے تکبیر پڑھنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر اٹھتے، جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، اور ابوبکر و عمر اور عثمان ؓ عنہم بھی۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say the takbir every time he got up, went down, stood and sat. Abu Bakr, Umar, and Uthman (did likewise)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1149
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٨٤ (صحیح )
1151Sunan An Nasai

سجدہ کے واسطے تکبیر پڑھنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأَسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے اٹھتے تو جس وقت کھڑے ہوتے اللہ اکبر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جس وقت اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمده کہتے، پھر کھڑے ہو کر کہتے: ربنا لک الحمد پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر پوری نماز میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ آپ اسے پوری کرلیتے، اور جس وقت دوسری رکعت سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو (بھی) اللہ اکبر کہتے۔

Abu Hurairah said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood to pray, he said the takbir, when he (started), then he said the takbir when he bowed, then he said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him), when he stood up from bowing. Then he said when he was standing: Rabbana lakal-hamd. Then he said the takbir when he went down in prostration, then he said the takbir when he raised his head, and he did that throughout the entire prayer until he finished it, and he said the takbir when he stood up after the first two rakahs, after sitting".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1150
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١١٧ (٧٨٩)، صحیح مسلم/الصلاة ١٠ (٣٩٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٣٨)، مسند احمد ٢/٢٧٠، ٤٥٤، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦٢) (صحیح )
1152Sunan An Nasai

جس وقت دونوں سجدوں سے فارغ ہو کر اٹھنے لگے تو پہلے سیدھا کھڑا ہو کر بیٹھ جاتے پھر اٹھتے

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قال: جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ: فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ.

ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث ؓ ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے، تو وہ پہلی رکعت میں آخری سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے وقت بیٹھے (جلسہ استراحت کرتے) ١ ؎۔

It was narrated that Abi Qibalah said: "Abu Sulaiman Malik bin Al-Huwairith came to our masjid and said: "I want to show you how I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray". He said: "He sat during the first Rakah when he raised his head from the second prostration".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1151
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بیٹھک کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسنون نہیں، اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ آپ اسے بالقصد نہیں کرتے تھے بلکہ اخیر عمر میں کبر سنی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ صحیحین کی روایت میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے، اور جو روایتیں اس کے خلاف آئی ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں، اور اگر نبی اکرم ﷺ اور بعض صحابہ کرام ؓ سے اس کا ترک تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ اس کے مسنون ہونے کے منافی نہیں، کیونکہ جو چیز واجب نہ ہو اسے کبھی کبھی ترک کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤٥ (٦٧٧)، ١٢٧ (٨٠٢)، ١٤٠ (٨١٨)، سنن ابی داود/الصلاة ١٤٢ (٨٤٢، ٨٤٣)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٥)، مسند احمد ٣/٤٣٦، ٥/٥٣ (صحیح )
1153Sunan An Nasai

جس وقت دونوں سجدوں سے فارغ ہو کر اٹھنے لگے تو پہلے سیدھا کھڑا ہو کر بیٹھ جاتے پھر اٹھتے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وَتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا، جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعتوں میں ہوتے تو جب تک بیٹھ کر سیدھے نہیں ہوجاتے نہیں اٹھتے۔

It was narrated that Malik bin Al-Huwairith said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray, and when he was in an odd-numbered rakah, he did not get up until he had settled in a sitting position".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1152
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٢ (٨٢٣)، سنن ابی داود/الصلاة ١٤٢ (٨٤٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٨ (٢٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٣) (صحیح )
1154Sunan An Nasai

کھڑے ہوتے وقت ہاتھ زمین پر ٹکانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قال: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فَيَقُولُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَيُصَلِّي فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ فَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ.

ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث ؓ ہمارے پاس آتے تو کہتے: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو وہ بغیر وقت کے نماز پڑھتے، جب وہ پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر سیدھے ہوجاتے، پھر کھڑے ہوتے تو زمین پر اپنا ہاتھ ٹیکتے۔

It was narrated that Abu Qibalah said: "Malik bin Al-Huwairith used to come to us and say: "Shall I not tell you about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)?" He was praying at a time other than the time of prayer, and when he raised his head from the second prostration in the first rakah, he settled in a seated position, then he stood up, and he supported himself on the ground (while doing so)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1153
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٥٢، (تحفة الأشراف: ١١١٨٥) (صحیح )
1155Sunan An Nasai

ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھانا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَمْ يَقُلْ هَذَا عَنْ شَرِيكٍ غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو گھٹنوں کو ہاتھ سے پہلے زمین پر رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اسے شریک سے یزید بن ہارون کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔

It was narrated that Wail bin Hujr said: I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he prostrated, place his knees on the ground before his hands, and when he got up, he lifted his hands before his knees".

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1154
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٩٠ (ضعیف) (شریک القاضی حافظے کے کمزور راوی ہیں اس لیے جب کسی روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت قبول نہیں کی جاتی )